پاک امریکہ تعلقات

پاک امریکہ تعلقات
 پاک امریکہ تعلقات

  

ْ امریکی صدر کی ٹویٹ سے پاک امریکہ تعلقات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ کل جو نان نیٹو اتحادی اور حلیف تھے، آج حریف بن گئے ہیں۔ یہ ٹرمپ کی اپنی سوچ نہیں، بلکہ یہ سب سی آئی اے پلان ہے ۔

ٹرمپ کی دھمکی کے فوراََ بعد آٹھ جنوری کو امریکی سیّ ئی اے کے سربراہ مائیک پو مپیو نے کہا کہ امریکہ اب پاکستان کے اس رویئے کو برداشت نہیں کرے گا، اگر پاکستان تمام دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا عزم رکھتا ہے تو ہمیں ان تعلقات کو آگے بڑھانے میں خوشی ہو گی، ورنہ ہم خوداپنے ملک کا تحفظ کریں گے ۔

اسی طرح افغانستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی نائب صدر مائیک پنس نے بگرام میں حوصلہ ہارتے نفسیاتی امراض میں مبتلا اپنے فوجیوں کی ہمت بڑھاتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھی تو وہ بہت کچھ کھو دے گا ۔

امریکی افواج کے سربراہ ا لزام لگا رہے ہیں کہ پاکستان اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں لا رہا ہے۔ وہ حسب سابق جہادی گروہوں کو مدد فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ مستقبل میں ایک خوشحال ملک بننا چاہتا ہے یاشمالی کوریا کی طرح تنہااور پس ماندہ رہنا چاہتا ہے۔ امریکی دھمکیوں سے جنرل حمید گل کی یہ بات سچ ثابت ہو گئی کہ’’ نو گیارہ تو بہانہ،افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان نشانہ ہے‘‘۔

دور حاضر کا ابرہہ لمن الملک کا نقارہ بجاتا واحد سپر پاورہونے کے نشے میں افغانستان آیا، لیکن ابابیلوں نے اس کی رعونت کا کچومر نکال دیا ہے۔ وہ سولہ برسوں سے افغانستان میں پھنسا ہوا ہے، اب اسے کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی جو اس کی آبرومندانہ واپسی کی راہ ہموار کرے ۔ اس نے اپنے چہیتے بھارت کو کافی لالچ دے کر اس کی فوج افغانستان میں اتارنے کی کوشش کی، مگر بھارت نے صاف انکا ر کر دیا ۔

امریکہ جانتا ہے کہ افغانستان میں اس کی موجودگی پاکستان کے دم قدم سے ہی ممکن ہے، بصورت دیگر افغانستان اس کے لئے ویت نام سے بھی بدتر ہو گا ۔امریکہ اس بات کا خواہاں ہے کہ پاکستان اسے وہ جنگ جیت کر دے جسے خوداس کے لئے جیتنا ممکن نہیں۔

امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کر کے اسے جھکانے اور پھر ڈومور کا ماحول پید ا کرنا چاہا، لیکن اب امریکہ کی دھمکیاں کار گر نہیں ہوں گی۔

امریکہ نے پاکستان کو 33ارب ڈالرامداددینے کاجو دعوی کیا ہے، وہ سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈا ہے ،ایک لمحہ کے لئے سوچیں کہ ہم امریکہ سے کتنا لیتے ہیں؟ کیا یہ ملک امریکی امدادکے سہارے چل رہا ہے؟ ایسا قطعاََ نہیں، پاکستان اللہ تعالی کے عطا کردہ ان گنت وسائل سے چل رہا ہے۔ پاکستان کا سالانہ بجٹ 80 بلین ڈالر کا ہوتا ہے۔

پاکستان کے جی ڈی پی کو مدنظر رکھا جائے تو یہ امریکی امداد اس کے مقابلے میں مونگ پھلی سے بھی کم ہے ۔پندرہ سال میں پاکستان کو جورقوم ملیں، وہ پاکستان کے صرف پانچ ماہ کے خرچے کے برابر ہے ۔امریکہ کو ا پنے 33ارب ڈالر تو بہت یاد ہیں، لیکن پاکستان کو اس پرائی جنگ سے پہنچنے والے بے پناہ جانی و مالی نقصان کی کوئی پروا نہیں۔

پاکستان کو براہ راست اور بالواسطہ جنگ کی وجہ سے جو معاشی نقصان پہنچا، وہ ایک سو پچاس ارب ڈالر ہے۔ 2002ء سے 2017ء تک کی افغان جنگ میں امریکہ اور تمام نیٹو اتحادیوں کے تین ہزار فوجی وسویلین لوگ مارے گئے جبکہ پاکستان نے اپنے ستر ہزار افراد کی قربانیاں دی ہیں ۔

امریکہ نے افغانستان کی پندرہ سالہ جنگ میں 700 ارب ڈالر جھونکے، مگر وہ آج بھی ناکام ہے۔ 43 فی صد علاقے پرآج بھی طالبان کا کنٹرول ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ کابل جیسا ریڈالرٹ زون بھی، جہاں چڑیا پر نہیں مار سکتی، طالبان سے محفوظ نہیں۔

کانگریس کے لئے کام کرنے والی تنظیم کانگریشنل ریسرچ سروس کا کہنا ہے کہ پندر ہ سال میں جو رقم دی گئی ہے، اس میں سے 14ارب ڈالر کولیشن فنڈ ہے جو تکنیکی اعتبار سے مالی امداد کے زمرے میں آتا ہے۔ امریکہ جسے امداد کا نام دے کر ہم پر احسان جتلا رہا ہے اگر وہ اسے بند کرنے کا حوصلہ پاتا ہے تو سوبسم اللہ۔

امریکہ کے اس اقدام سے پاکستان سے بہت بڑا بوجھ اتر جائے گا ۔ضرورت اس امرکی ہے کہ پاکستان بھی فی ا لفور جواب میں ہر طرح کی سپلائی بند کر دے ۔ دفاع پاکستان کونسل نے دوبارہ امریکی سپلائی کی بندش کے لئے تحریک چلانے کا عزم کیا ہے ۔

آج امریکہ کی دم پر پاؤں آیا ہے تو وہ چیخ رہا ہے ،اگر ہم اس حالت میں بھی امریکی امداد کے بغیر اللہ تعالیٰ کی نصرت سے جنگ میں بھارت کو رسوا کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، جبکہ اب تو پاکستان ایٹمی قوت ہے ۔

1980ء کے عشرے میں امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف پراکسی وار کی حمایت کی تھی، لیکن جب 1989ء میں سوویت یونین افواج افغانستان سے نکل گئیں تو امریکہ نے پاکستان کی حمایت کرنے کی پالیسی ترک کر دی اور 1990ء میں پریسلر ترمیم کے ذریعے پاکستان کو سزا دینے کی غرض سے اس کی امداد بند کر دی تھی ۔امریکہ کاپاکستان کے ساتھ شروع ہی سے اسی طرح کارویہ رہا ہے۔ دیتاہے‘‘۔

بھارت ہی کے ایما پر امریکہ نے حزب المجاہدین پر پابندی اورپروفیسر حافظ محمد سعید کے سر کی قیمت لگائی۔ بھارت آزاد بلوچستان کی مہم چلا رہا ہے، اس کی بھی امریکہ بھر پور سپورٹ کر رہا ہے، اس حوالے سے امریکہ میں ایک اشتہاری مہم بھی چلائی گئی ۔

بھارت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ امریکہ کے سا تھ مل کر پاکستان پر جنگ مسلط کر دے ۔ایسے موقع پر ضروری تھا کہ پاکستان اپنے مخلص دوستوں سے تعلق مضبوط کرتا ۔چین نے ٹرمپ کی ٹویٹ پر اگلے ہی روز پاکستان کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے بینکوں کو یوآن میں اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دے دی ہے ۔

چین کے علاہ ترکی کے صدر کی کوششوں سے ڈی ایٹ ممالک کو راضی کیا جارہا کہ وہ اپنی کرنسی میں تجارت کو فروغ دیں۔ امریکہ کی طرف سے پابندیوں کے بعدیہ بھی ضروری ہے کہ ہماری حکومت اور پاک فوج ایک پیج پر ہوں اور ہمارا پیش منظر اور پس منظر ایک ہی ہو۔ یہ نہ ہو کہ ہم بیان کچھ دیں اورہماراعمل اس کے برعکس ہو۔ یہ منافقت ہے اورمنافقت سے رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔

مزید : رائے /کالم