ظہیر الحسن جاوید کی وفات: اک چراغ اور بجھ گیا!

ظہیر الحسن جاوید کی وفات: اک چراغ اور بجھ گیا!
 ظہیر الحسن جاوید کی وفات: اک چراغ اور بجھ گیا!

  

کتنی بے بسی، بدقسمتی اور بے تعلقی کی بات ہے کہ ایک بہت ہی پیارے دوست بھائی چل بسے اور یہاں کسی کو خبر ہی نہ ہوئی۔ مجھے بھی پتہ نہیں چل سکا وہ تو لندن میں بیٹھے ہمراز احسن اور مسز ساجدہ ہمایوں کی طرف سے فیس بک پر پوسٹ دیکھی تو معلوم ہوا کہ ظہیر الحسن جاوید دنیا چھوڑ گیا، ایک بڑے دل والا انسان دل کے ہاتھوں زندگی ہار گیا، ظہیر الحسن جاوید میرے لئے بہت کچھ تھے، برسوں ساتھ رہا، بھائیوں جیسے تعلقات رہے، اب بھی ان کے ساتھ گاہے گاہے ملاقات ہوتی یا فون پر بات ہوجاتی تھی، یہ اتفاق ہی ہے کہ گزشتہ پانچ چھہ ماہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ راولپنڈی میں تھے یا لاہور میں قیام کے دوران داعی اجل کو لبیک کہا ہے، میں نے آج مختلف اخبارات میں خبر تلاش کرنے کی کوشش کی تو صرف ایک اخبار میں نظر آئی، دنیا بھر کی خبریں بنانے اور اہتمام سے لگا کر چھپوانے والے کی اپنی وفات کی خبر تک نمایاں نہ ہوسکی، حالانکہ ظہیر الحسن بزرگ صحافی، ادیب، شاعر اور مصنف بھی تھے اور ایک بڑے باپ کے بیٹے جو خود بھی ان تمام صفات سے معمور تھے

وہ محترم چراغ حسن حسرت (مرحوم) تھے جو صحافت کے درخشندہ ستاروں میں شمار ہوئے، روزنامہ امروز کے ایڈیٹر رہے اور بڑی شان سے ادارت کے فرائض انجام دیئے، چراغ حسن حسرت درویش منش انسان تھے ان کی ایک بات بہت مشہور ہے کہ گورنر ملک امیر محمد خان کی طرف سے فون کرکے ان سے درخواست کی گئی کہ گورنر صاحب بلاتے ہیں کہ ان کے ساتھ آکر چائے پئیں، مولانا چراغ حسن حسرت نے جواب دیا، بابا، میں ایک درویش بندہ اور کہاں گورنر صاحب، میری طرف سے ان کی خدمت میں عرض کریں کہ جب کبھی ادھر(دفتر) سے گزر ہو تو تشریف لائیں اور میرے ساتھ چائے پئیں۔

میں نے 1963ء میں روزنامہ امروز سے وابستگی اختیار کی تو چراغ حسن حسرت تو نہیں، ظہیر بابر (مرحوم) ایڈیٹر تھے کہ اس وقت امروز اور پاکستان ٹائمز نیشنل پریس ٹرسٹ کا حصہ تھے، تاہم جب بطور رپورٹر نیوز روم سے واسطہ پڑا تو وہاں موجود ان کے صاحبزادے ظہیر الحسن جاوید موجود تھے اور جلد ہی تکلف کی دیواریں مٹ گئیں اور دوستی کا مضبوط رشتہ قائم ہوگیا، امروز میں کام سیکھنے اور کام کے دوران احساس ہوا کہ وہاں کام کی لگن والا معاملہ ہے اور ایک سے ایک پروفیشنل موجود ہے۔

میرا تعلق سید اکمل علیمی سے تھا کہ محلے داری اور تعلق داری بھی تھی، تاہم جب ڈیوٹی شروع کی تو جلد ہی اس ماحول کا حصہ بن گیا تھا، ظہیر جاوید بھی اپنے کام کے ماہر اور لگن والے تھے، انہی دنوں عباس اطہر(مرحوم) بھی امروز میں بطور سب ایڈیٹر موجود تھے، ان دونوں کے فرائض میں صفحہ دو کی ایڈیٹنگ شامل تھی اور پندرہ پندرہ روز کے لئے باری باری یہ فرائض ادا کرتے تھے۔ ان دونوں کے درمیان پیشہ ورانہ مسابقت تھی اور بڑا صحت مند مقابلہ ہوتا تھا کہ دونوں لے آؤٹ اور سرخیوں پر بہت توجہ دیتے تھے۔

ان دنوں شفٹ انچارج خود ہی کاپی جوڑا کرتے اور خود ہی لے آؤٹ بھی بناتے تھے، ظہیر الحسن کی جب باری آتی تو وہ صبح ہی صبح شفٹ ٹائم سے کہیں پہلے آجاتے پورا ڈرائنگ بکس ساتھ لاتے اور پہلے ہی سے لے آؤٹ بنانا شروع کردیتے، مجھے بلاتے یا خود چلے آتے ان کی فرمائش یہ ہوتی کہ اچھی خبر لاکر دوں کہ وہ لیڈ بناسکیں، یہ وہ دور تھا جب اخبار میں ہر صفحہ اور ہر سطر، ہر خبر کو اہمیت دی جاتی تھی اور صفحہ 2لوکل ہوتا تھا ان دونوں حضرات کے درمیان یہ برادرانہ مقابلہ جاری رہتا اور عباس اطہر بھی لے آؤٹ اور سرخیوں پر توجہ دیتے تھے۔

ظہیر الحسن جاوید پیشہ ورانہ طور پر تو لگن والے صحافی تھے ہی لیکن وہ ٹریڈ یونین میں بھی سرگرم رہے، اپنے مزاج کے مالک تھے اور حمائت و مخالفت بھی کھل کر کرتے تھے، پھر ایک وقت وہ آیا، جب ظہیر الحسن جاوید اور فخر ہمایوں(مرحوم) نے، جو سنڈے ایڈیشن کے انچارج تھے امروز ایڈیٹوریل سٹاف یونین بناکر رجسٹر کرالی اور کارکنوں کو درپیش مسائل کے حل پر زور دینے لگے، میں اور عالم نسیم(مرحوم) ان دنوں ملازم تو تھے لیکن معاوضہ چھپنے والی خبروں کے حوالے سے فی کالم کے حساب سے ملتا تھا، ہر دو راہنماؤں نے باقاعدہ چارٹر آف ڈیمانڈ بنایا اور انتظامیہ کو پیش کیا، اس میں ہم دونوں رپورٹروں کو مستقل کرنے کا مطالبہ بھی شریک تھا، اس چارٹر آف ڈیمانڈ کے باعث ان حضرات اور انتظامیہ کے علاوہ ایڈیٹر ظہیر بابر صاحب سے بھی اختلاف ہوگیا اور باقاعدہ کشمکش شروع ہوئی۔

ان کو اظہار وجوہ کے نوٹس دیئے گئے بلکہ ڈیوٹی سے ہٹا کر او۔ایس۔ ڈی بنادیا گیا لیکن یہ نہ مانے اور مطالبات کی منظوری پر زور دیا اور بالآخر انتظامیہ کو بھی سمجھوتہ کرنا پڑا، ان کی جدوجہد ہی کی بدولت ہم دونوں کو مستقل گردانا گیا، یہ الگ بات ہے کہ 1970ء میں ملک گیر ہڑتال کے باعث پی،پی، ایل میں چھانٹی ہوئی تو نئے ایڈیٹر ہارون سعد (مرحوم) نے مجھے بھی فارغ کردیا یہ تو ظہیر الحسن جاوید اور فخر ہمایوں کا ایک پہلو ہے، ویسے یہ دونوں حضرات ہی بڑے اچھے اور بے غرض دوست تھے، امروز کے بعد اور پھر امروز میں واپسی کے دوران بھی ظہیر جاوید سے تعلق نبھتا رہا، وہ امروز سے پی، ٹی،وی میں گئے اور وہاں بھی ٹریڈ یونین اور کارکنوں کی فلاح وبہبود کے لئے خدمات سرانجام دیتے ہوئے نام کمایا، پی، ٹی، وی سے ملازمت ختم کرکے ظہیر راولپنڈی میں رہائش پذیر ہوگئے تھے، اس اثناء میں فخر ہمایوں تو بیرون ملک گئے اور پھر برطانیہ میں ہی قیام کرلیا، ان کی وفات بھی وہیں ہوئی، تاہم ظہیر الحسن جاوید راولپنڈی میں مقیم ادب سے وابستہ ہو گئے کتابوں کے ترجمے کرتے اور شعرو شاعری کرتے تھے اس دوران انہوں نے کالم نویسی بھی کی روزنامہ پاکستان کے لئے بھی کالم لکھتے رہے۔

ظہیر الحسن جاوید ایک اچھے صحافی تو تھے، ساتھ ہی ساتھ بہترین شاعر اور مصنف بھی تھے جبکہ ترجمہ میں بھی ان کو بہت مہارت حاصل تھی، زندگی بھر جدوجہد کی اور کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اصول پرست اور اصول کے پابند تھے، راولپنڈی میں ہوتے ہوئے بھی لاہور آتے جاتے اور دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے، اکثر فون کرکے ملاقات کا وقت اور مقام طے کرلیتے اور پھر ہم دونوں مل بیٹھ کر کھانا کھاتے اور گھنٹوں گپ شپ کرتے رہتے تھے بہت ہی خوبیوں والا انسان تھا، اسے دل کی تکلیف ہوگئی اور اس بڑے دل والے شخص کو ڈاکٹر نے بتایا کہ دل بڑھ گیا ہے اوریہ مرتے دم تک اسی دل کے ساتھ گزارہ کرتے رہے اور خالق حقیقی سے جاملے، اللہ سے مغفرت کی دعا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -