تربیتِ ذات کا فقدان

تربیتِ ذات کا فقدان
 تربیتِ ذات کا فقدان

  

"امام شعرانی ؒ اپنی کتب میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ابن القاسم جو حضرت امام مالکؒ بن انس کے خاص شاگردوں میں سے تھے بیان کرتے ہیں کہ میں بیس سال امام مالک کی شاگردی میں رہا اور آپ نے مجھے پورے اٹھارہ سال ادب سکھایا اور باقی کے دو سال علم سکھایا ابن القاسم اپنی عمر کے آخری حصے میں تاسف سے یہ فرمایا کرتے کہ کاش وہ آخری دو سال بھی اْستاد مجھے صرف ادب سکھانے پر ہی لگا دیتے "

قرآن میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی بنیادی ذمہ داری کا ذکر ایک ہی نکتے کے گرد گھوم رہا ہے کہ رسولوں کی بعثت کا مقصد ہی تزکیہِ نفس (Purification of soul) ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے نفوس سے آلائشیں (Impurities) دور کرتے ہیں اْنہیں خدائی احکامات کے متعلق آگہی دینے کے ساتھ ساتھ ان احکامات کی منطق بھی سمجھاتے ہیں اور اس تمام تر جدوجہد کا مقصدِ اصلی صرف تزکیہِ نفس ہی ہوتا ہے یعنی لوگ اپنے نفس سے ہر قسم کے منفی اثرات کو زائل کر لیں یہی اصل فلاح ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے قد افلح من تزکی یعنی کامیاب ہو گیا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا

انسانی نفس جس میں ارادہ و اختیار کا جوہر ڈال کر خدا نے انسان کو اپنے تمام تر افعال کا خود مختار بنا دیا ہے دراصل ایک انتہائی اہم اور حساس ذمہ داری ہے جس کو اعتدال کی راہ میں لا کر استعمال کرنا انسان کے لئے ابتدا ہی سے مشکل مرحلہ رہا ہے مگر جو لوگ اس اَمر کا ادراک کر لیتے ہیں کہ ہمارا نفس ہی ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتے خدا اگر انسان میں برائی کی رغبت ہی نہ رکھتا تو اس کی یہ تمام تر اسکیم بیکار ہو جاتی کیونکہ جب اختیار ہی نہ ہوتا تو پھر افعال کے صادر ہونے کی منطق پر انسان کی گرفت بھی بے معنی ہو جاتی اس لئے انسانی نفس میں برائی کی رغبت ڈال دی گئی ہے تاکہ انسان اس برائی کا مقابلہ کرکے خدا کے ہاں مقرب ٹھہرے انسانی نفس میں دو بنیادی خرابیاں انسان کو لے ڈوبتی ہیں ایک لذت کا حصول دوسری فوقیت کی روش یعنی ہر وہ چیز جو انسان کو پسند آ جائے اسکے حصول کے لئے جائز و ناجائز کا فرق مٹا لینا اور دوسری خرابی یہ کہ دیگر انسانوں سے برتر نظر آنا یا خود کو ایسے پیش کرنا کہ وہ دوسروں سے افضل و اعلیٰ ہے بہترین علم اپنے نفس کا محاسبہ ہے اور بہترین نصیحت بھلائی پر کاربند رہنا ہے مگر آج معاملہ اسکے بالکل برعکس ہے تربیتِ ذات کا فقدان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ آج عوام تو درکنار خواص اور خود کو اہلِ علم کہلوانے والے حضرات بھی تربیتِ ذات سے محروم ہیں انسانی نفس کے لئے آسان ترین کام دوسرے کے متعلق اپنی رائے پیش کرنا جبکہ مشکل ترین کام اپنے اعمال اور نظریات کا محاسبہ کرنا کہ کہیں میں اعتدال کی راہ سے ہٹ تو نہیں گیا کیونکہ میانہ روی ہی انسانی روح کا اوجِ کمال ہے صراطِ دانش کی منزل ہی تربیتِ ذات ہے نہیں تو پھر علم و دانش خود فریبی کے سوا کچھ نہیں آج علم و تعلیم سے وابستہ عموماً کسی بھی طالبعلم یا معلم کی فکر میں توازن اور رویہ میں تہذیب نظر نہیں آتی کیونکہ صدیوں سے ہم نے تربیتِ ذات پر سے توجہ ہٹا دی علاوہ ازیں ہمارا خانقاہی نظام بھی آج پوری طرح مفقود ہو چکا جو باقی ہے اس کا تذکرہ کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ جن اصحاب کے اسلاف کبھی تربیتِ ذات کا اہتمام کرکے لوگوں سے نفسانی آلودگی دور کیا کرتے ان کے اخلاف آج خود ہوائے نفس کا شکار ہو چکے ہیں اقبال کا درد بخدا بجا تھا

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

سچائی کو اگر صرف ایک جملے میں بیان کیا جائے تو اسکے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ انسان اب تک صرف تربیتِ ذات ہی سے بھاگتا رہا ہے انسان کی فکری جدوجہد ہو یا پھر عملی کاوش دراصل اس کی ذات سے باہر ہی کے مظاہر ہیں گویا ابھی تک انسان دوسرے کو درست کرنے میں لگا ہوا ہے حالانکہ سب سے زیادہ حق ایک انسان کا اس کی اپنی ذات پر ہے مگر ہم ایک طویل عرصہ سے اپنے آپ سے فرار حاصل کر چکے ہیں اپنے آپ تک لانے والے مقدس نفوس اب چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے سارا مسئلہ ہی سامنے والے سے شروع ہوتا ہے یعنی ہم اپنی تمام تر جدوجہد دوسرے سے شروع کرکے دوسرے پر ہی ختم کر لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کامل انسان ناپید ہو چکے ہیں وہ عظیم نفوس مفقود ہو چکے ہیں جن پر یہ کون و مکاں ناز کریں وہ جو صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات ہونے کا حق ادا کر دیں کسی سے لڑنے کی ضرورت نہیں نہ ہی کسی سے برسرِ پیکار ہونے کی ضرورت ہے اپنے آپ سے لڑنا ہی اصل بہادری اور حقیقی دانش ہے اس برائی سے لڑنا ہی اصل کام ہے جس نے انسان کے اندر ایک خونخوار بھیڑیا پال رکھا ہے اور وہ خونخوار بھیڑیا انسانی نفس ہے حضرت بلھے شاہ سائیں فرماتے ہیں

نفس پلید پلید کیتا اساں اصل پلید نہ ہاسے

فرقت خیر خراب کیتا نہ تاں ذاتی ہاسے خاصے

انسان چونکہ اپنے نفس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس لئے وہ دوسروں سے برسرِپیکار ہونے میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انسان کبھی تربیتِ ذات کی طرف توجہ نہیں دے پاتا کیونکہ اسے اپنی خبر ہو گی تو وہ تربیتِ ذات پر توجہ دے گا ایک وقت تھا جب ہمارے ہاں صوفیاء خانقاہی نظام کے ذریعے سالکین سے منازلِ سلوک طے کروا کے اْن کے باطن کو پاکیزہ کیا کرتے مگر آج پورے خطے میں ایسا کوئی میخانہ نظر نہیں آ رہا جس میں کوئی سالک آج سلوک و وحدت کی مے سے سیراب ہو سکے اقبال نے تو آج سے کئی سال پہلے ہی اس کمی کی شدت کا اظہار کر دیا تھا

وقت است کہ بکشائم میخانہِ رومی باز

پیرانِ حرم دیدم در صحنِ کلیسا مست

مزید :

رائے -کالم -