شیخ مجیب الرحمان غدار تھے یا نہیں ؟

شیخ مجیب الرحمان غدار تھے یا نہیں ؟
 شیخ مجیب الرحمان غدار تھے یا نہیں ؟

  

وفاق پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے اپنے حالیہ ایک بیان میں کہا کہ انہیں شیخ مجیب الرحمان نہیں بنایا جائے۔ شیخ مجیب الرحمان غدار نہیں تھا۔ اسے غدار بنایا گیا۔ نواز شریف نے یہ بیان ان کے ساتھ پیش آنے والی صورت حال پر دیا۔

وہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں کہ انہیں سپریم کورٹ نے کیوں نااہل قرار دیا۔ نواز شریف کے بیان پر سیاست دانوں کے ایک طبقہ نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ انہوں نے کیوں کہا کہ شیخ مجیب الرحمان غدار نہیں تھے۔

ہر ایک نے ان کے الفاظ سے اپنے معنی نکالے ہیں۔ تاریخ کو پوری طرح کھنگالا جائے تو ہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ من حیث القوم ہمارا عجیب رویہ ہوتا ہے۔ بعض معاملات کو ہم سرے سے بھول جانا چاہتے ہیں۔ اکثر معاملات کے انجام کو ہم اپنی خواہش کے مطابق ڈھالتے ہیں۔

ہم تاریخ کے ساتھ جبر کو روا رکھنا چاہتے ہیں۔ تحقیق کے عمل سے دور رہتے ہیں۔ حقائق کی تلاش سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ شیخ مجیب الرحمان اور بنگالیوں کے معاملے میں ہمارا رویہ معاندانہ رہا ہے اور ابھی تک ہے۔ وجہ حقائق کی تلاش میں ناکامی ہے۔ بہر حال مجیب الرحمان غدار تھے یا نہیں، اس کی کھوج محققین کو ابھی بھی لگانا چاہئے۔

’’ پاکستان ، جرنیل اور سیاست ‘‘ میری اس کتاب کا نام ہے جس میں افواج پاکستان کے جرنیلوں سے انٹر ویو کئے گئے ہیں۔ 1991 میں شائع ہونے والی اس کتاب میں تمام انٹر ویوز کا موضوع تو یہ تھا کہ پاکستان میں جرنیل مار شل لاء کیوں لگاتے رہے ہیں۔ لیکن جب انٹرویوز ہوتا ہے تو ادھر ادھر کی باتیں بھی نکلتی ہیں۔

راولپنڈی سازش کیس، اگر تلہ کیس،1970ء کے انتخابات، مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت، پاکستان فوج کی کارروائی، عوامی لیگ کو بھاری اکثریت حاصل کرنے کے باوجود اقتدار منتقل نہ کرنا ، بھٹو مرحوم کی پھانسی کا معاملہ وغیرہ زیر بحث آئے تو میں نے کتاب کو انٹرویوز کی صورت میں ہی شائع کرادیا۔

ان میں ایک انٹر ویو میجر جنرل (رٹائرڈ) راؤ فرمان علی کا بھی ہے۔ راؤ فرمان علی نے کافی عرصے مشرقی پاکستان میں ملازمت کی اور فوج کی اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔

وہ مشرقی پاکستان میں ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ صاحبزادہ یعقوب علی خان کے براہ راست ماتحت بھی رہے جب حالات زیادہ خراب ہو رہے تھے اور مشرقی پاکستان میں متعین فوجی افسران کی تجاویز اور مشوروں پر مغربی پاکستان میں بیٹھے ہوئے فوجی حکمران توجہ نہیں دے رہے تھے تو صاحبزادہ یعقوب علی خان مستعفی ہوگئے تھے۔ راؤ فرمان علی نے معاملات اور حالات کو نہایت قریب سے دیکھا تھا۔ ان سے میرا انٹر ویو 11 اپریل1987 کو کراچی میں ہوا تھا۔

انہوں نے مشرقی پاکستان سے واپسی سے چند گھنٹے قبل شیخ مجیب الرحمان سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے یہ ملاقات یعقوب علی خان کی اجازت سے 4 مارچ 1971کی رات کو کی تھی۔ اسی رات انہیں مغربی پاکستان واپس آنا تھا۔ راؤ فرمان کا کہنا تھا کہ ان کے شیخ مجیب ارحمان کے ساتھ خو شگوار تعلقات تھے۔

راؤ فرمان کہتے ہیں ’’ میں ایک چھوٹی سی کار چلا کر مجیب کے گھر دھان منڈی پہنچا۔ چاروں طرف فا ئرنگ ہو رہی تھی۔ میں تنہا تھا۔ میں مجیب کے گھر پہنچا۔ میں نے کہا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے۔ برائے مہربانی مجھے بتاؤ کہ کیا پاکستان کو بچایا جا سکتا ہے۔

اس نے ہاں میں جواب دیا تھا ۔ مجیب ایسا شخص تھا جو بہت اعلی پائے کی تقریر کیا کرتا تھا۔ حالانکہ وہ اعلی ذہنی صلاحیتوں کا مالک نہیں تھا۔ مجیب سے کافی دیر گفتگو رہی۔ اس نے کہا کہ ہاں پاکستان کو بچایا جاسکتا ہے۔ لیکن حالات بہت خراب ہیں۔ چاروں طرف قتل عام ہو رہا ہے۔

ان حالات میں پاکستان کو بچانا بہت مشکل ہے۔ ابھی اس نے اتنی بات کی تھی کہ میں نے کمرے کے باہر دیوار کے ساتھ ایک سایہ دیکھا۔

میں نے مجیب سے کہا کہ کوئی ہماری بات سن رہا ہے۔ اس نے نفی میں جواب دیا، تھوڑی دیر بعد میں نے پھر شکایت کی تو وہ اٹھ کر باہر گیا اور دیکھا کہ تاج الدین ہماری گفتگو سن رہا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے آیا۔ اور اس سے کہا کہ تاج الدین بھائی فرمان صاحب کہتے ہیں کہ پاکستان کو کس طرح بچایا جا سکتا ہے۔

تاج ا الدین نے جواب دیا کہ قومی اسمبلی کے ایوان کو دو حصوں میں تقسیم کردیں۔ دو آئین بنائیں، پھر مل کر بعد میں ایک آئین تشکیل دیا جائے۔ یہ کنفیڈریشن کا آئڈیا تھا۔ تاج الدین نے مزید کہا کہ ہم اس چھت کے نیچے نہیں بیٹھ سکتے جس کے نیچے بھٹو بھی بیٹھا ہو۔ وہ قاتل نمبر ایک ہے۔

تاج الدین نے اس سے قبل ایک ملاقات میں مجیب کو کہا تھا کہ ’’ یہ ( مغربی پاکستان والے) تمہیں کبھی بھی و زیر اعظم نہیں بنائیں گے۔ اس نے کہا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مغربی پاکستان آئینی طور پر اقتدار ہمارے سپرد نہیں کرے گا اور مجیب کو وزیر اعظم نہیں بنائیں گے۔ اس نے اس وقت بنگلہ دیش کا مطالبہ کردیا۔ جب مجیب وزیر اعظم بننے میں ناکام ہوا‘‘۔

راؤ فرمان کے انٹر ویو کا اقتباس دینے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین کرام رائے قائم کر سکیں کہ مجیب ارحمان غدار تھا یا نہیں۔ سیاست میں ، وہ مقام جو مجیب الرحمان اور انکی عوامی لیگ نے انتخابی نتائج کے نتیجے میں حاصل کیا تھا اور آئینی تقاضے کے تحت اقتدار ان کے حوالے کیا جانا چاہئے تھے

انہیں د ھکا دیکر دور کر دیا گیا۔ بھارت کی مداخلت اور بعد کے حالات پر بحث نہیں ہے۔ واویلا کرنے والے سیاست داں سوچیں کہ شیخ مجیب الرحمان غدار تھے یا نہیں۔ آج پاکستان میں سیاست جس انداز میں کی یا کرائی جارہی ہے، وہ موجودہ حالات کے پیش نظر ملک کے مفاد میں ہے یا نہیں، یہ بھی سیاست دانوں کو سوچنا چاہئے۔ اندرونی اور بیرونی موجودہ حالات میں منقسم قوم اور اس کے منقسم رہنماء بوقتِ ضرورت کیا کررہے ہوں گے۔

نواز شریف کو بھی اپنے اطراف کا جائزہ لینا چاہئے کہ ان کے اطراف میں کون کون تاج ا الدین ہیں۔

اس تماش گاہ میں پاکستان کی سیاست میں شیخ مجیب الرحمان کا ذکر تقریبا نصف صدی بعد آج کیوں ضروری سمجھا گیا۔ ہم نے تو سابق مشرقی پاکستان کو اپنی درسی کتابوں سے ہی نکال دیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ سے لے کر کالجوں کے طالب علموں تک اکثریت سقوط ڈھاکہ یا سابق مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش میں تبدیل ہونے کے واقعات اور حقائق سے لا علم ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -