آصف علی زرداری یہ حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

آصف علی زرداری یہ حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟
 آصف علی زرداری یہ حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

  

سوال تو بڑا سیدھا ہے کہ آصف زرداری اگر اتنی آسانی سے شریف ایمپائر کو گرا سکتے ہیں، جیسا کہ اُنہوں نے لاہور کے جلسے میں دعویٰ کیا ہے تو پھر وہ یہ کام کر کیوں نہیں گزرتے؟ پھر وہ ڈاکٹر طاہر القادری کو کیوں ترسا رہے ہیں اور کیوں اُنہیں تاریخ پر تاریخ دینے کی راہ پر ڈالے ہوئے ہیں۔

شاید آصف علی زرداری کے ذہن میں اس حوالے سے کوئی سکیم ہو، لیکن وہ اُس پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر وہ حکومت کو گرانا ہی نہیں چاہتے تو پھر اس گرینڈ اتحاد میں شامل ہی کیوں ہوئے ہیں، جس کا اوّل و آخر مقصد ہی حکومت کی چھٹی کرانا ہے۔

کہنے کو یہ اتحاد سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کو انصاف دلانے اور شہبازشریف کو استعفا دینے پر مجبور کرنے کے لئے بنایا گیا ہے، مگر سب جانتے ہیں کہ اب شہبازشریف کو ہٹانے کا مقصد شریف فیملی کے اقتدار کا خاتمہ ہے، کیونکہ نوازشریف تو پہلے ہی نااہل ہو کر اقتدار سے باہر ہو چکے ہیں اور اُن کے اہل ہونے کا دور دور تک کوئی امکان بھی موجود نہیں، یہ کام اتنا آسان تو نہیں جس قدر آصف علی زرداری بیان کر رہے ہیں۔

ہاں اگر وہ پہلے اپنی قربانی دیں تو شاید یہ کام آسان ہو جائے، یعنی پیپلزپارٹی سندھ اسمبلی توڑ دے، قومی اسمبلی سے مستعفی ہو جائے اور اُس کی دیکھا دیکھی خیبر پختونخوا اسمبلی بھی توڑ دی جائے تو ایک بڑا خلاء پیدا ہو سکتا ہے، جس کے بعد حکومت کے پاس نئے انتخابات کے سوا کوئی آپشن نہیں بچے گا، تاہم یہ بیل اتنی آسانی سے منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔

’’نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی‘‘۔۔۔ اس کے علاوہ آصف علی زرداری کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے جسے گھما کے وہ حکومت کو گھر بھیج سکتے ہیں؟ اس کا علم تو اُنہیں ہی ہوگا۔ وہ اتنے بڑے جادوگر ہوتے تو شاید آج پنجاب میں جگہ بنانے کے لئے اُنہیں اتنے پاپڑ نہ بیلنے پڑتے۔ نہ طاہر القادری جیسا کمزور سہارا لینا پڑتا۔

اس سارے کھیل میں میری چھٹی حس تو کچھ اور ہی دیکھ رہی ہے۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے آصف علی زرداری نے اسمبلیوں کی مدت پوری کرانے کے لئے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ہے۔

اُنہوں نے بڑی مہارت سے ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک کو ہائی جیک کر لیا ہے، اب وہ اُنہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاکر باقی ماندہ پانچ ماہ بھی آسانی سے گزار دیں گے۔

شہبازشریف بھی وہیں رہیں گے اور رانا ثناء اللہ بھی، پنجاب حکومت کا بھی کچھ نہیں بگڑے گا اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت بھی مدت پوری کر لے گی۔ ذرا آپ لاہور کے جلسے میں آصف علی زرداری کے خطاب پر غور فرمائیں۔ اُس میں کہیں لگا ہو کہ وہ اس نظام کے خاتمے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

نوازشریف کو نیا شیخ مجیب الرحمن کہنے کے سوا اُنہوں نے ساری تقریر میں اور کیا کہا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بارے میں اُنہوں نے تقریر کے آخر میں ایک جملہ کہا، حالانکہ سارا بکھیڑا ہی اُس کے لئے کیا گیا تھا۔

میں تو یہ سمجھ رہا ہوں کہ اُنہوں نے بھرے جلسے میں نوازشریف کو یہ تسلی بھرا پیغام دیا ہے کہ میں اُن کی حکومت گرا سکتا ہوں، مگر نہیں گراؤں گا، کیونکہ میں نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ آپ کی حکومت بھی پانچ سال پورے کرے گی۔

ڈاکٹر طاہر القادری کل مجھے بہت بھولے بادشاہ لگے، جو اس بات پر پھولے نہیں سما رہے تھے کہ آصف علی زرداری بنفسِ نفیس اُن کے جلسے میں آئے ہیں۔ اُنہیں دوسرے سیشن میں خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری سے یہ تو پوچھنا چاہئے تھا کہ حضور! اگر آپ حکومت کو گرا سکتے ہیں تو پھر انتظار کس بات کا ہے، کیوں ہمارے صبر کا امتحان لیتے ہیں، کیوں ہمیں تاریخیں دینے پر مجبور کر رہے ہیں، یہ حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے؟ لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ اُنہیں آصف علی زرداری کے ناراض ہونے کا ڈر تھا۔ مَیں تو علی الاعلان کہتا ہوں کہ اس اتحاد میں آصف علی زرداری کی موجودگی کے باعث نوازشریف خود کو بالکل محفوظ سمجھ رہے ہوں گے۔

وہ جانتے ہیں کہ آصف علی زرداری زبان کے پکے ہیں۔ اُنہوں نے جو وعدہ کیا تھا، اُس پر وہ پوری طرح کاربند ہیں، لیکن اُن کی اداکاری اس قدر زبردست ہے کہ تحریک انصاف کو اُن پر کوئی شبہ ہے اور نہ ڈاکٹر طاہر القادری کو۔۔۔ اور تو اور شیخ رشید بھی جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیاست کی اُڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں، آصف علی زرداری کے نوازشریف کے خلاف متحرک ہونے پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔

ذرا اس نکتے پر بھی غور فرمائیں کہ آصف علی زرداری اور نوازشریف کے درمیان فطری اتحاد ہو سکتا ہے یا آصف زرداری اور عمران کے درمیان؟۔۔۔ عمران خان کی تو ساری سیاست ہی نوازشریف اور آصف علی زرداری کی مخالفت پر مبنی ہے۔

اس حوالے سے وہ کس قدر چوکنے ہیں، اس کا اندازہ لاہور کے جلسے سے کیا جا سکتا ہے جس میں اُنہوں نے آصف علی زرداری کے ساتھ بیٹھنا تک گوارا نہیں کیا، کیونکہ ایسا کرنے پر وہ ’’سندھ کی بیماری، آصف زرداری‘‘ یا ’’زرداری سندھ کا سب سے بڑا ڈاکو ہے‘‘ والے نعروں کو کسی طرح بھی دوبارہ نہیں لگا سکتے تھے۔

نوازشریف اور آصف علی زرداری اس لئے فطری اتحادی ہیں کہ دونوں پر کرپشن کے الزامات ہیں، دونوں کے اثاثے بیرون ملک موجود ہیں، دونوں اسٹیبلشمنٹ کو اپنا حریف سمجھتے رہے ہیں اور دونوں کی اب بھی کوشش یہی ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سوا کوئی تیسری جماعت اقتدار میں نہ آئے۔۔۔ یہ تو’’ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘‘ والی بات ہوگی۔

اُن کی پہلی اور آخری کوشش تو یہی ہوگی کہ دونوں جماعتوں میں باریاں لینے کا جو خاموش معاہدہ چل رہا ہے، وہ جاری رہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ اپنے دوست کی مدد کرنی ہو تو دشمن کی صفوں میں شامل ہو جاؤ۔ کہنے والے ایسے لوگوں کو آستین کا سانپ بھی کہتے ہیں۔

آستین کے سانپوں کی سب سے بڑی خوبی یا چالاکی یہ ہوتی ہے کہ وہ دشمن کو خبر نہیں ہونے دیتے اور اُس کا سب سے زیادہ اعتماد بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ آصف علی زرداری یہ کام بہت کاملیت کے ساتھ کرتے ہیں، ایک بار پہلے بھی وہ نوازشریف کو ریسکیو کر چکے ہیں۔

پاناما کیس میں ٹی او آر کے مسئلے پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا کر وہ کئی ماہ تک تحریک انصاف کو اِدھر اُدھر گھماتے رہے۔ اُن کی کوشش یہی تھی کہ معاملہ سپریم کورٹ میں نہ جائے اور پارلیمینٹ کی بھول بھلیوں میں ہی گم ہو جائے، لیکن میاں صاحب اُن کی یہ چال سمجھ نہ سکے اور ٹی او آر بنانے میں رکاوٹ ڈالتے رہے، جس سے یہ معاملہ آصف علی زرداری کی سکیم کے مطابق دریابرد نہ ہو سکا۔

موجودہ اسمبلیوں کی مدت ہی کتنی رہ گئی ہے، صرف ساڑھے چار مہینے۔ اس مدت کو اپنی سکیم کے مطابق گزارنا آصف علی زرداری کا بنیادی ٹاسک ہے، اس سے وہ کئی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، سب سے اہم مقصد تو یہی ہے کہ حکومتیں اپنی باقی ماندہ مدت پوری کریں۔ اس سلسلے میں آج میری بات لکھ لیں کہ زرداری صاحب کے ہوتے ہوئے یہ گرینڈ الائنس ایڑی چوٹی کا زور لگا لے، کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

اُن کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کی سیاست میں پیپلزپارٹی کو اِن رکھا جائے۔ اب چونکہ ماڈل ٹاؤن سانحہ کی ساری تحریک ہی لاہور میں چلنی ہے، اس لئے پیپلزپارٹی اپنی ڈگڈگی بجاتی رہے گی، مگر ساتھ ہی یہ خیال بھی رکھے گی کہ کوئی ایسا فیصلہ نہ ہو جو اسمبلیوں کو وقت سے پہلے چلتا کرے۔

اُن کا تیسرا مقصد یہ ہے کہ تحریک انصاف کو پنجاب میں دبا کر رکھا جائے۔ لاہور کے جلسے میں سب نے دیکھا کہ آصف علی زرداری کی آمد پر جو استقبال ہوا، وہ عمران خان کا نہ ہو سکا، کیونکہ بہت سے لوگ آصف علی زرداری کی تقریر کے بعد واپس جا چکے تھے۔

چوتھا اور سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اُس بیانیہ کو اخلاقی طور پر کمزور کیا جائے جس میں عمران خان آصف علی زرداری کو نوازشریف کی طرح کرپٹ گردانتے ہیں اور ہدف تنقید بناتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی یہ تحریک جتنا طول کھینچے گی، اُتنا ہی پیپلزپارٹی کو فائدہ ہوگا، کیونکہ اس عرصے کے دوران عمران خان آصف علی زرداری کو اُس طرح تنقید کا نشانہ نہیں بنا سکیں گے جیسے وہ پہلے بناتے رہے ہیں۔

لاہور کے جلسے میں بھی اُن کا سارا زور نوازشریف کو کرپٹ ثابت کرنے پر صرف ہوا، آصف علی زرداری کا ذکر تک نہ کیا۔ سچی بات ہے ڈاکٹر طاہر القادری نے آصف علی زرداری کو بہت بڑی سہولت فراہم کی ہے، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کو ایک ہی الائنس میں اکٹھے بٹھا کر پیپلزپارٹی کو تحریک انصاف کی تنقید سے بچا لیا ہے، یہ کتنا بڑا نقصان ہے شاید عمران خان کو اس کا اندازہ نہیں، اُن کا وہ بیانیہ جو سیاست سے بالاتر ہو کر کرپشن کے خلاف تھا اب صرف نواز شریف تک رہ گیا ہے۔

آصف علی زرداری کے خلاف اُن کی غیر علانیہ زبان بندی ہو چکی ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر اُنہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا کہ اُنہیں کرپٹ بھی کہتے ہیں اور اُن کے ساتھ اتحاد میں بھی شامل ہیں۔ تحریک انصاف والوں کو اس نکتے پر تو غور کرنا ہی چاہئے تھا کہ پچھلے ساڑھے تین برسوں میں پیپلزپارٹی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر زبان تک نہیں کھولی۔

جن دنوں ڈاکٹر طاہر القادری اس سانحہ کے بعد اسلام آباد میں دھرنا دیئے بیٹھے تھے، یہ پیپلزپارٹی ہی تھی جو نوازشریف کو بچا رہی تھی اور دھرنے والوں کو آئین شکن اور جمہوریت دشمن قرار دے رہی تھی۔

اب اگر اُس نے پینترہ بدلا ہے تو اس کی وجہ صرف یہی سیاسی چال ہے، جسے سمجھنا اس لئے آسان نہیں کہ آصف علی زرداری سیاست کے گورو ہیں، اُن کی سیاست کو سمجھنے کے لئے واقعی پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔

فن پہلوانی میں سب سے اچھا پہلوان وہ ہوتا ہے جو سجی دکھا کر کھبی مارتا ہے۔ سیاست میں بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔ آصف علی زرداری نے لاہور کے جلسے میں یہ کہہ کر کھبی دکھائی ہے کہ وہ جب چاہیں تحتِ لاہور کوگرا سکتے ہیں، حالانکہ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ میرے ہوتے ہوئے کوئی نوازشریف کی ایمپائر کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -