قصور میں 500افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ ، زینب کا قاتل نہ مل سکا

قصور میں 500افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ ، زینب کا قاتل نہ مل سکا

اسلام آباد ( آئی این پی قصور میں پانچ سو افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کے باوجو د ننھی زینب کے قتل کاد کوئی ملزم نہ نکلا ، اب قصور میں سی سی ٹی وی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ موجودہ سی سی ٹی وی فوٹیج ایک بنک اور دکان کے ذریعے ملی ہیں۔ صوبائی حکومت نے قصور میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے اس کی مدد سے شہر کی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بابر نواز کی صدارت میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا جس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل(آئی جی) پنجاب، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او قصور شریک ہوئے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ ایمرجنسی کی بنیاد پر قصور میں کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے وزیر اعلی پنجاب نے قصور میں کیمرے لگانے سے متعلق منصوبے کی منظوری بھی دے دی ۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے بتایا کہ ابتدائی طور پر قصور میں 450 کیمرے لگائے جائیں گے۔ علاقے میں موجود مشکوک لوگوں پر نظر رکھی جائے گی۔ حکام نے قصور میں قتل ہونے والی زینب کے افسوسناک واقعے سے متعلق رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کردی اور بریفنگ دی گئی۔حکام نے بتایا کہ یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے متعلقہ حکام اس واقعے میں کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتے۔ زینب کا قاتل سلسلہ وار قتل کا حصہ ہے قصور میں پیش آنے والے 8 واقعات میں ایک ہی شخص ملوث ہے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ کے دوارن یقین دلایا کہ زینب کے قاتل کو ڈی این اے کی مدد سے کچھ روز کے اندر گرفتار کر لیا جائے گا۔حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پولیس نے زینب کے اغوا کے بعد اس کی بازیابی کے لیے کئی آپریشن کئے جس کے باوجود معصوم بچی بازیاب نہ ہو سکی ۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا دائرہ بڑھایا دیا گیا ہے معاملے کی تحقیقات کے لئے 3 مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔حکام نے بتایا کہ پولیس کسی بھی شخص کو گرفتار کر کے اور اسے دبا میں لاکر اقبالِ جرم کرا سکتی تھی تاہم ایسا نہیں کیا گیا اصل ملزم کو ہی گرفتار کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ قصور میں بچوں کے ویڈیو سیکنڈل میں تمام ملزم گرفتار ہو چکے ہیں ۔

قصور

مزید : علاقائی