سپریم کورٹ کا اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ برقرار رکھنے کا حکم

سپریم کورٹ کا اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ برقرار رکھنے کا حکم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ نے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو عہدے پر برقرار رکھنے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے گزشتہ روز آئی جی سند ھ اے ڈی خواجہ کی تقرری سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف صوبائی حکومت کی درخواست پر سماعت کی اور آئی جی سندھ کی تقر ر ی سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے وفاق کو اقدامات اٹھانے سے روک دیا۔عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ آئی جی کی تبد یلی سے متعلق وفاقی و صوبائی حکومتوں کے احکامات معطل تصور ہونگے اور سندھ میں آئی جی کی تقرری کا معاملہ عدالت کے فیصلے سے مشر وط ہوگا۔سپریم کورٹ کا مزید کہنا تھا اے ڈی خواجہ کو سندھ میں تبادلے کا مکمل اختیار ہوگا۔دوران سماعت وکیل صوبائی حکومت نے کہا سندھ ہا ئیکورٹ نے پولیس ایکٹ 2011 کو آئینی قرار دیا اور اے ڈی خواجہ کو پولیس میں تبادلوں کا اختیار بھی دیدیا ہے،جس پر چیف جسٹس ثا قب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائیکورٹ نے بہت خوبصورت فیصلہ دیا ہے، جو دو 3 بار پڑھنے کے لائق ہے۔وکیل سندھ حکومت نے کہا سندھ ہائیکورٹ کے پاس ازخود نوٹس کا اختیار نہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہمارے پاس تو ازخود نوٹس کا اختیا ر ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائی کورٹ نے بہت خوبصورت فیصلہ دیا ہے، یہ فیصلہ دوتین بار پڑھنے کے لائق ہے۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے سندھ میں آئی جی کی تقرری کامعاملہ عدالتی فیصلے سے مشروط ہوگا، تقرری کے معاملے پر وفاقی حکومت کے کسی اقدام کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ماہ 10 جنوری کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونیو ا لے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں موجودہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو تبدیل کرکے ان کی جگہ پولیس سروس کے 22 گریڈ کے افسر سردار عبد المجید دستی کو نیا آئی جی مقرر کرنے کی منظوری دیدی گئی تھی۔خیال رہے سندھ حکومت کافی عرصے سے اے ڈی خواجہ کی تبدیلی کیلئے سر گر م تھی اور انہیں عہدے سے ہٹاکر عبدالمجید دستی کو آئی جی لگایا گیا تھا لیکن سندھ ہائیکورٹ نے اے ڈی خواجہ کو ہی آئی جی کی ذمہ داریاں نبھا نے کا حکم دیا تھا،جس پر صوبائی حکومت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مزید : صفحہ اول