عمران ، شیخ رشید بے شرم ، بے حیا ، بے ضمیر ، استحقاق کمیٹی میں بلایا جائے : خواجہ آصف ، تینوں کیخلاف متفقہ مذمتی قرار داد منظور ، ، پیشگوئی کر رہا ہوں پارلیمنٹ کو گالی دینے والے اور انکے حواری زندہ نہیں رہیں گے : خورشید شاہ

عمران ، شیخ رشید بے شرم ، بے حیا ، بے ضمیر ، استحقاق کمیٹی میں بلایا جائے : ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی) قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کیخلاف مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔قرار داد حکومت ، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی۔قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان عمران خان اور شیخ رشید احمد کی جانب سے پارلیمان کیلئے لعنتی اور ہزار پر لعنت جیسے الفاظ استعمال کرنے پر سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ، عمران خان اور شیخ رشید نے درحقیقت عوام کی تذلیل کی، پاکستان کا استحکام ، سربلندی اور ترقی جمہوریت سے وابستہ ہے، پارلیمان جمہوریت کا نمائندہ ادارہ ہے اور کسی دوسرے نظام کی ملک میں گنجائش نہیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم بلیغ الرحمان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کیخلاف مذمتی قرار داد پیش کی، قرار داد پر پیپلز پارٹی ،جمعیت علماء اسلام (ف)،ایم کیو ایم اور پختونخوا عوامی پارٹی کے ارکان کے دستخط تھے ۔ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے رائے شماری کے بعد قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے لاہور میں جلسے سے خطاب کے دوران پارلیمان کیلئے لعنتی اور ہزار پر لعنت جیسے الفاظ استعمال کرنے پر سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے،انہوں نے آئینیو مقدس ایوان کی عزت اور توقیر قصداً مجروح کرنے کی کوشش کی ہے،جس کے نہ صرف وہ خود ممبر ہیں بلکہ 20کروڑ سے زائد عوام کا نمائندہ ادارہ ہے، در حقیقت ان الفاظ کے کہنے سے انہوں نے پاکستان کے عوام کی تذلیل کی ہے، جس کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے، یہ ایوان اور اس کے اراکین کا پختہ یقین ہے کہ پاکستان کا استحکام ، سربلندی اور ترقی جمہوریت سے وابستہ ہے جو کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے وژن اور آئین کے عین مطابق ہے،یہی پارلیمان جمہوریت کا نمائندہ ادارہ ہے اور کسی دوسرے نظام کی ملک میں گنجائش نہیں۔

قرار داد

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پیشن گوئی کررہا ہوں پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرنے والے اور اس کے حواری زندہ نہیں رہیں گے،کیاعمران خان اور شیخ رشید پارلیمنٹ کو تالا لگا کر آمر کو بلانا چاہتے ہیں؟پارلیمنٹ کو برا سمجھنے والے کو پاکستان میں سیاست کا حق نہیں، اپنے منہ سے وہ الفاظ بول نہیں سکتا جو کل کہے گئے، ہر اس شخص کے منہ میں خاک جوایسا لفظ استعمال کرتا ہے،ملک کی سیاست ایک نئے رخ پر چل پڑی ہے جو بدقسمتی ہے، حکومت کی ناکامیاں اور نا اہلیاں پارلیمنٹ کے سرپر نہ ڈالی جائیں، پاکستان کو بچانے کا آخری سہارا بھی پارلیمنٹ ہو گی۔وہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے پر بحث میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو برا سمجھنے والے کو پاکستان میں سیاست کرنے کاحق نہیں اور اسے نہ ماننے والوں کے استعفے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حکومتی ناکامی کو پارلیمنٹ کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا۔نواز شریف عدالتوں اور اداروں کی توہین کرتے ہیں اور عمران خان پارلیمنٹ کی توہین کرتے ہیں، نواز شریف اور عمران خان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پارلیمنٹ سے متعلق الفاظ کی مذمت کرتا ہوں، پارلیمنٹ ہونے کی وجہ سے سرحدوں کو مضبوط بنایا گیا، پارلیمنٹ کے باعث ملک کو ایٹمی طاقت بنایا گیا، پارلیمنٹ کو برا سمجھنے والے کو پاکستان میں سیاست کرنے کاحق نہیں اور اسے نہ ماننے والوں کے استعفے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔خورشید شاہ نے مزید کہا کہ قصور پارلیمنٹ کا نہیں حکومت کا ہوتا ہے، پارلیمنٹ کواس کا وقارنہ دینا حکومتوں اور ہماری ناکامی ہے۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ کل اس کنٹینر پر ہم بھی تھے، ہم بھی احتجاج کا حصہ تھے اور ہیں مگر افسوس اس بات پر ہے کہ پارلمینٹ کے خلاف بات کی گئی ۔یہ پارلیمنٹ تھی جس نے ملک کو 73کا آئین دیا، اس پارلیمنٹ نے عوام کو بولنے کا حق دیا ، اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ان کا حق دیا، عوام کو آواز دی، اداروں کو اختیارات دیئے، بھارت کے قبضے سے 5ہزار مربع میل علاقہ واپس اس پارلیمنٹ نے دلایا، 90ہزار قیدیوں کو واپس لایا، پاکستان کو ایٹمی بنایا، میزائل ٹیکنالوجی دی، پارلیمنٹ کے خلاف جو لفظ استعمال کیا گیا وہ اس ایوان میں بول بھی نہیں سکتا، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ عمران خان ،شیخ رشید اور طاہر القادری میں ضمیر، شرم اور حیا نام کی کوئی چیز نہیں ، عمران خان جلسوں سے وزیراعظم نہیں بن سکتے،عمران اور شیخ رشید کو استحقاق کمیٹی میں بلایا جائے اگر یہ نہیں آتے تو انہیں گرفتار کرکے لائیں،طاہر القادری نے مذہب کو لوٹ مار کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، اسلام کے نام پر وہ لوگوں کی جیبیں کاٹتے ہیں، عمران اور شیخ رشید نے پارلیمان کو گالی دے کر گھٹیا پن اور بازاری پن کی سوچ کا اظہار کیا، بڑے بڑے قائد روحانی قائد ڈھونڈتے پھر رہے ہیں،جب ہم پارلیمنٹ کو گالی دیں گے تو کسی ادارے پر اس کا احترام لازم نہیں، ان کے اپنے ضمیر نہیں اور ایوان کے تقدس کو جھنجھوڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو گالی دینا یا تنقید کا نشانہ بنانا اپوزیشن کا حق ہے مگر اس مقدس ایوان جس کا ہم سب حصہ ہیں کو گالی دینا ہم کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے، میری سپیکر سے درخواست ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان کی جانب سے لئے گئے لوازمات اور تنخواہوں کو پبلک کیا جائے، پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ شاہ محمود قریشی نے اسپیکر سے کہا تھا کہ استعفوں پر کارروائی نہ کرنا، کیا یہی ان لوگوں کا حوصلہ ہے؟ 2002میں جب بلدیاتی انتخابات ہوئے تو کور ہیڈکوارٹر میں شیخ رشید کو بلایا گیا ان کے ساتھ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی تھے اس وقت ایک کرنل صاحب نے شیخ رشید کو تھپڑ مار دیا ان کی اوقات یہ ہے۔ بطور رکن ہمارا فرض ہے کہ اس ایوان کے تقدس کو بحال کریں، پارلیمنٹ ایک آئینی ادارہ ہے جس کا اپنا ایک تقدس ہے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اس ادارے کے تقدس کیلئے قربانیاں دی ہیں، تحریک انصاف نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا اور گالیاں دیں جو وہ آج بھی دے رہے ہیں، تحریک انصاف جن راستوں پر چل رہی ہے اس سے وہ اقتدار میں نہیں آ سکتے، کسی سانحہ کو سیاست کیلئے استعمال کرنا غلط ہے۔لاہور میں اپوزیشن جس کے کنٹینر پر چڑھی اس کا پارلیمنٹ اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ، وہ ایک کینیڈین شہری ہے پاکستانی نہیں۔دریں اثناقومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے عمران خان کے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کے بیان پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے ایوان کو نہیں بلکہ خود کو گالی دی،تانگہ پارٹی کے لیڈر نے پارلیمنٹ کی توہین کی،پارلیمان پر لعنت بھیج کر 20کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی،عمران خان اور شیخ رشید پر پارلیمنٹ میں داخلے پر پابندی لگائی جائے،ایسی جماعتیں اور لیڈر پارلیمنٹ کو کمزور کرتے ہیں، جن لوگوں نے استعفے دینے ہیں وہ جاوید ہاشمی کی طرح بہادر بنیں اور اس ایوان میں آ کر استعفے دیں، کنٹینر پر کھڑے ہو کر استعفے نہیں دیئے جاتے، شیخ رشیدنے جب سے مارشل لاء کی نوکری کی ہے ان میں فتور آ گیا ہے،پارلیمنٹ کو گالی دینا ریاست کو گالی دینے کے برابر ہے اور ریاست کو گالی دینے والا غدار ہوتا ہے،۔پیپلز پارٹی کے اعجاز حسین جاکھرانی نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کے جلسے میں ایک تانگہ پارٹی کے لیڈر نے پارلیمنٹ کی توہین کی اس کی بات کی کوئی اہمیت نہیں وہ یہ بکواس کرتا رہتا ہے مگر ایک ایسی پارٹی جس کے اس ایوان میں 35سے زائد ارکان موجود ہیں اس کے لیڈر نے بھی اس تانگہ پارٹی کے سربراہ کی بات کی تائید کی،انہوں نے اس مقدس ایوان پر لعنت بھیجی، یہ انہوں نے کسی اور پر نہیں بلکہ خود پر لعنت بھیجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس بھی پارٹی کو الیکشن میں اکثریت ملتی ہے وہ حکومت بناتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس کو اکثریت نہیں ملی وہ اس پارلیمنٹ کو گالیاں دے، اگر پارلیمنٹ نے کوئی غلط بل پاس کیا ہے تو ہم اس پر بات کر سکتے ہیں،اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم پارلیمنٹ کو گالیاں دیں، جو باتیں لاہور میں کنٹینر پر بیٹھ کر کی گئیں اس کی کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جا سکتا جمعیت علماء اسلام (ف) کی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ میں نے اس سے قبل ایسا شخص نہیں دیکھا تھا جس نے اپنے منہ پر لعنت بھیجی ہو، عمران خان نے اس ادارے کو برا بھلا کہا ہے جس کے ذریعے وہ وزیراعظم بننا چاہتا ہے، عمران خان کے خلاف صرف تحریک استحقاق ہی نہیں بلکہ مذمتی قرار داد بھی منظور کی جائے۔ایم کیو ایم کے ساجد احمد نے کہا کہ عمران خان اور شیخ رشید نے لعنت اس ایوان پر نہیں بلکہ ان لوگوں پر بھیجی ہے جنہوں نے انہیں منتخب کر کے اس ایوان میں بھیجا، ۔ مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ اعجاز الحق نے کہا کہ آج تک نہیں دیکھا کہ پارلیمنٹ کے رکن نے پارلیمنٹ کو لعنت بھیجی ہو، عمران خان سے بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے وہ معافی مانگ لیں، پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے، سپریم کورٹ کیلئے قوانین بھی یہ پارلیمنٹ بناتی ہے، عمران خان معذرت کرلیں۔مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی رکن جارج خلیل نے کہا کہ ایوان کے تقدس کیلئے بھی قانون سازی ہونی چاہیے، گالی دینے والے پر پارلیمنٹ میں آنے پر پابندی لگائی جائے، عمران خان کے ہاتھ میں وزیراعظم بننے کی لکیر ہی نہیں ہے، اس شخص نے صرف اس ایوان کی نہیں بلکہ پورے ملک کی بے حرمتی کی ہے، شیخ رشید اور عمران خان کے خلاف تحریک استحقاق ہی نہیں بلکہ ان پر اس ایوان میں داخلے کی دس سال تک پابندی لگائی جائے۔

خطاب

مزید :

صفحہ اول -