جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کرنے کیلئے ووٹ کا تقدس یقینی بنانا ہو گا : نواز شریف

جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کرنے کیلئے ووٹ کا تقدس یقینی بنانا ہو گا : نواز شریف

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی،این این آئی،جنرل رپورٹر )مسلم لیگ(ن) کے صدر وسابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کرنا ہے تو اس کے لئے ووٹ کے تقدس کو یقینی بنانا ہوگا اورجب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے ایسے میں رکاوٹیں ڈالنے کا کو ئی جواز نہیں بنتا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ(ن) اور بلوچستان کی اتحادی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔میاں نوازشریف نے کہا کہ بین الاقوامی ادارے ملک کی ترقی کے اشارئیے بتا رہے ہیں جس پرسب کو خوش ہونا چاہئے ۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ جمہوریت اور نظام کی مضبوطی کے لئے پہلے بھی کردار ادا کیا اور آئندہ بھی اس پر کاربند رہیں گے ۔میاں نوازشریف کے زیر صدارت بلوچستان سے متعلق اجلاس میں صوبے سے تعلق رکھنے والے (ن) لیگی عہدیداران سمیت پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے شرکا نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی استحکام کی ضرورت سب سے زیادہ تھی لیکن صوبے کو راتوں رات محلاتی سازشوں کی نذر کردیا گیا۔شرکاء نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ بغیر کسی جوازکے لایا گیا جبکہ ایسے غیر جمہوری اقدام کو بلوچستان کے عوام اپنی توہین تصور کرتے ہیں۔اجلاس کے شرکا نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا فیصلہ کب کہاں اور کیسے ہوا، چند سو ووٹ لینے والے شخص کو صوبے پر مسلط کرنا غیر جمہوری ہے۔اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ حساس ترین صوبے پر کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بٹھانا لمحہ فکریہ ہے اور اس عمل سے بلوچستان کے لوگوں کے بنیادی جمہوری حقوق سلب ہوئے ہیں۔شرکا ء نے مزید کہا کہ عوامی شعور کو بیدار کرکے اس طرح کے واقعات کی روم تھام کیساتھ ساتھ جمہوری قوتیں ایسے غیر آئینی اقدام کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔قبل ازیں میاں نوازشریف کے زیرصدارت جاتی امرا میں مسلم لیگ (ن) کا اہم اجلاس ہو جس میں ملکی سیاسی صورتحال، سینیٹ الیکشن،ترقیاتی منصوبوں اور بالخصوص بلوچستان میں تبدیل ہونیوالی صورتحال پر غور ہوا ۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اجلاس میں خصوصی شرکت کیلئے لاہور پہنچے جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔وزیراعظم کے ہمراہ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب بھی تھیں۔ اجلاس میں خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید، مریم نواز، اویس لغاری اور مفتاح اسماعیل سمیت دیگر شریک ہوئے۔

نوازشریف

لاہور(نامہ نگارخصوصی)مسلم لیگ(ن) کے صدر وسابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف نے عدلیہ سے متعلق اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا، پاکستان بار کونسل کے رکن اعظم نذیر تارڑ اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدریاسین آزاد سے اپنی رہائش گاہ جاتی امرا میں گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ کوئی بھی پاکستانی سپریم کورٹ کے پاناما فیصلے پر اعتبار نہیں کر رہا۔یاسین آزاد نے میاں نوازشریف کو جمہوریت پسند وکلاء کی طرف سے کراچی کے دورہ کی دعوت دی جو میاں نوازشریف نے قبول کرلی اور وہ فروری کے پہلے ہفتے میں کراچی کادورہ کریں گے ۔سابق وزیراعظم نے بھرپور انداز میں تحریک عدل چلانے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال اور عدالتی فیصلوں سمیت مختلف امور زیر بحث آئے، اس موقع پرمیاں محمدنواز شریف نے کہا کہ عدلیہ کے غلط فیصلوں پر تنقید عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، پاناماکیس میں سپریم کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس کی وجہ سے وہ عدالتی فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، کوئی غیر جانبدار وکیل عدلیہ کے ایسے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ ملک کی سب سے بڑی عدلیہ اپنے فیصلے کو مثالی گردانتی ہے لیکن مستقبل میں یہی جج صاحبان کہیں گے کہ ایسے فیصلے مثال نہیں بن سکتے۔ نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ کسی صورت اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،پاکستان عوامی تحریک سمیت 17جنوری کو سیاسی جماعتوں کے لاہور میں احتجاجی جلسے پر بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ڈبی سیاست دانوں کا 17جنوری کو لاہور میں ہونے والا شو فلاپ ہوگیا ، مخالفین حتی الامکان کوشش کر لیں لیکن شہباز شریف کو لوگوں کے دلوں سے نہیں نکال سکتے، ان کے ناپاک عزائم پنجاب حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، انہوں نے مزید کہا کہ عام انتخابات اور سینٹ الیکشن بروقت ہوں گے۔ مخالفین کے دلوں میں شکست کا خوف ہے اور وہ سینیٹ اور عام انتخابات کو رکوانے کے لئے سازشیں کر رہے ہیں۔ وکلاء نے نواز شریف کوان کے اصولی موقف کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

مزید : صفحہ اول