وفاقی شرعی عدالت میں نئے ججوں کی تقرری کا معالہ مؤخر

وفاقی شرعی عدالت میں نئے ججوں کی تقرری کا معالہ مؤخر

لاہور(سعید چودھری )جوڈیشل کمیشن کے فاضل ارکان کے درمیان اختلاف رائے کے باعث وفاقی شرعی عدالت میں نئے ججوں کے تقر ر کا معاملہ موخر کردیا گیا ۔جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان کی تجویز پر سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز افضل خا ن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کی طرف سے بھیجے گئے تین ناموں میں سے دو کا انتخاب کرکے جوڈیشل کمیشن کو رپورٹ دے گی ۔ذرائع کے مطابق وفاقی شرعی عدالت میں ججوں کی دو اسامیوں کیلئے چیف جسٹس شیخ نجم الحسن نے تین نام غور کیلئے جوڈیشل کمیشن کو پیش کئے جن میں فاروق شاہ(سندھ)،محمد شفیع رخشانی (بلوچستان)اور بلو چستان کے ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی شامل ہیں ،ان میں سے دو ناموں پر جوڈیشل کمیشن کے ارکان متفق نہیں ہوسکے ۔ ذ ر ا ئع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے دوران چیف جسٹس پاکستان کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ کمیشن کا فیصلہ متفقہ ہونا چاہیے جس کے بعد مسٹر جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی جو دومناسب ترین افراد کا تعین کرکے جوڈیشل کمیشن کو رپورٹ پیش کرے گی۔دریں اثناء چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں ہونیوالے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ میں 6نئے ایڈیشنل جج تعینات کرنے کی بھی سفارش کی گئی ،جن میں ایک خاتون سمیت دو سیشن جج اور چار وکلاء شامل ہیں ۔سیشن ججوں میں عشرت علی شاہ اورکوثر سلطانہ جبکہ وکلاء میں عدنان اقبال ، امجد علی ، آغا فیصل اور شمس عباسی کی سندھ ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تعیناتی کی سفارش پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائی گئی ہے ۔

مزید : صفحہ اول