مکہ مکرمہ کے مردوں کی دوسری شادیوں میں ریکارڈ اضافہ،تعداد 40ہزارسے بڑھ گئی

مکہ مکرمہ کے مردوں کی دوسری شادیوں میں ریکارڈ اضافہ،تعداد 40ہزارسے بڑھ گئی

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے مرد حضرات ایک سے زئد شادیاں کرنے کے حوالے سے جانے جاتے مگر مملکت کے تمام شہروں میں یہ شرح ایک جیسی نہیں۔ کثرت ازدواج کے حوالے سے سعودی عرب کے دو شہر الباحہ اور حائل سب سے آگے ہیں جب کہ مشرقی گورنری اور تبوک کا علاقہ دوسری شادی کرنے والوں میں سب سے پیچھے ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے حیاتیاتی اعدادو شمار کے ماہر ڈاکٹر ابراہیم الجعفری کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کی تفصیلات ٹوئٹر پر شائع کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الباحہ اور حائل کے علاقے ایک سے زاید شادیوں یا دوسری شادی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔اسی طرح غیرملکیوں سے شادی کرنے کا رحجان دارالحکومت الریاض میں سب سے زیادہ ہے۔ الریاض میں 29 ہزار اور مکہ مکرمہ میں 40 ہزار سعودیوں نے دوسرے ملکوں کی خواتین سے شادیاں کر رکھی ہیں۔ڈاکٹر الجعفری کے مطابق دوسری بار شادی کرنے والے مردوں اور خواتین کے تناسب میں واضح فرق بھی دکھائی دیتا ہے۔ مرد حضرات ایک کے بعد دوسری شادی کرتے ہیں جب کہ خواتین میں سے بعض طلاق ہونے کے دوسری شادی نہیں کرتیں۔رپورٹ کے مطابق مشرقی گورنری اور تبوک شہر میں دوسری شادی کا سب سے کم رحجان ہے۔ مشرقی علاقوں میں دوسری شادی کرنے والوں کی تعداد 0.3 فی صد اور تبوک میں 1.3 فی صد ہے جب کہ الباحہ میں 14.2 فی صد ہے جوکہ کثرت ازدواج کے حوالے سے سب سے زیادہ ہے۔ زیادہ شادیاں کرنے کے اعتبار سے دوسرا نمبر حائل گورنری کا ہے جہاں 11.8 فی صد افراد نے ایک سے زاید شادیاں کی ہیں۔الباحہ اور حائل میں زیادہ شادیاں کرنے کے اسباب کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ ممکن سماجی اور ماحولیاتی عوامل اس کی وجہ ہوں۔

مزید : عالمی منظر