قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری ،تیسرے سال بھی کمی کا سامنا

قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری ،تیسرے سال بھی کمی کا سامنا

  

کراچی(این این آئی) قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری میں مسلسل تیسرے سال بھی کمی کا سامنا ہے ،رواں مالی سال کے ابتدائی 5ماہ کے دوران قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری ایک تہائی کمی سے 68.2 ارب روپے رہ گئی جس کی وجہ کم شرح سود اور معیشت کی بتدریج ڈالرائزیشن ہے۔سرکاری ڈیٹا کے مطابق سینٹرل ڈائریکٹر آف نیشنل سیونگز کو کم وبیش تمام بچت سرٹیفکیٹس اور اکاؤنٹس سے انخلا ء کا سامنا ہے، جولائی سے نومبر تک بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری صرف 68.2ارب روپے رہی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 32.2 ارب روپے یا 32 فیصد کم ہے، جولائی سے نومبر تک بچت انسٹرومنٹس کی خام فروخت 518.8ارب روپے ریکارڈ کی گئی تاہم لوگوں نے 450.7ارب روپے کی اپنی سرمایہ کاری کیش کرالی، خام بچتوں میں اگرچہ 45.6 فیصد کا اضافہ ہوا تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں انخلا بھی 77 فیصد بڑھ گیا۔یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب سی ڈی این ایس کو خالص بچتوں میں منفی نمو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ، بچتوں میں کمی سے وزارت خزانہ کا بجٹ فنانسنگ کے لیے بینکوں اور غیرملکی قرضوں پر انحصار بڑھ جائے گا۔اس کے برعکس بچت برائے جی ڈی پی تناسب گھٹ کر گزشتہ مالی سال 13.1فیصد رہ گیا جو 2013-14میں 13.9 فیصد تھا، مقامی بچتیں بھی گزشتہ سال گھٹ کر جی ڈی پی کا 7.5فیصد رہیں جو ساڑھے 4 سال قبل 8.5 فیصد رہی تھیں۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق لوگ اپنی سرمایہ کاری نکال رہے ہیں یا میچور ہونے پر دوبارہ سرمایہ کاری نہیں کررہے، وہ روپے کی بے قدری کے پیش نظر ڈالر خرید رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک ڈیٹا کے مطابق ایک سل میں کمرشل بینکوں کے ڈالر ڈپازٹس1.21ارب ڈالرسے بڑھ کر 6.1 ارب ڈالر ہو گئے۔

مزید :

صفحہ آخر -