سپریم کورٹ کی نجی بینکوں کو ملازمین کی پنشن کے معاملات طے کرنے کیلئے دو ہفتوں کی مہلت

سپریم کورٹ کی نجی بینکوں کو ملازمین کی پنشن کے معاملات طے کرنے کیلئے دو ہفتوں ...

اسلام آباد (آن لائن ) سپریم کورٹ نے نجی بینکوں کو ملازمین کی پنشن کے معاملات طے کرنے کیلئے دو ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت پندرہ دنوں کے لیے ملتوی کردی ہے ،دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ گود سے لحد تک شہریوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، نجی بینکوں نے پنشنرز کے لیے خود کوئی فیصلہ کرنا ہے تو کر لیں ، عدالت نے فیصلہ دیا تو پھر بینک کے دیوالیہ کا عذر پیش نہ کرنا ۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں بینک ملازمین کی پنشن سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ پنشن کیس کی سماعت کے دوران صدر الائیڈ بینک عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ عدالتی نوٹس پر گزشتہ روز پیش کیوں نہیں ہوئے، آپ کو دولاکھ جرمانہ کیا تھا، کیا آپ نے جرمانہ ادا کر دیاہے ۔ بینک کے صدر نے کہا کہ جرمانہ میری جیب میں ہے ادا کر دیتا ہوں،چیف جسٹس نے کہا کہ فاطمید فاؤنڈیشن کوجرمانہ چندے میں دے دیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی تنخواہ کتنی ہے،جواب دیا کہ میری تنخواہ ساڑھے بائیس لاکھ ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ گھر گاڑی اور مراعات اس سے الگ ہوں گی، پنشنرز کے لئے بھی کچھ کریں، خود فیصلہ لینا ہے تو لیں، عدالت نے فیصلہ دیا تو پھر بینک کے دیوالیہ کا عذر پیش نہ کرنا ۔چیف جسٹس نے کہا کہ نجی بینکوں کے وکلاء بتا دیں کہ بینک مالکان معاملے پر کیا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، ہمیں ابھی بتا دیں یاپندرہ دنوں بعد بتا دیں، اس کے باوجود کچھ قانونی نکات پر فیصلہ ضرور لکھیں گے۔ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پنشنرز کے مطالبات اور بینک مالکان کی پیشکش میں توازن ہونا چاہئے، یہ جوڈیشیل مدبری نہیں ہوگی اگر جہاز ہی ڈوب جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فیصلہ دے کر اطلاق کر دیں تو مالکان پر مالی بوجھ پڑے گا، وکیل نے کہا کہ عدالت پنشن منجمد کرنے اور بڑھانے کے معاملے کو بھی دیکھے ، چیف جسٹس نے کہا پنشنرز کیلئے کسی نے کسر نہیں چھوڑی، قانون کا اطلاق کیسے ہوگا ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے ذمے واجبات بینک خریدنے والوں کے ذمے تھے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ گود سے لحد تک شہریوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر مالکان نے پنشنرز سے معاملات طے کرنے ہیں تو پندرہ دن میں کر لیں، مقدمہ دو ہفتے بعد دوبارہ سنیں گے ۔

مزید : صفحہ آخر