استعفوں کا معاملہ، پیپلز پارٹی عمران خان پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں

استعفوں کا معاملہ، پیپلز پارٹی عمران خان پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں
استعفوں کا معاملہ، پیپلز پارٹی عمران خان پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں

  

تجزیہ :سعید چودھری:

متحدہ اپوزیشن کے 17جنوری کو مال روڈ پرہونے والے جلسہ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفے دینے پر غور کرنے کا اعلان کیاجبکہ شیخ رشید نے نہ صرف پارلیمان اور جمہوریت پر لعنت بھیجی بلکہ قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا بھی اعلان کیا۔اسمبلی سے مستعفی ہونے کی دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔پیپلز پارٹی کی طرف سے عمران خان کے بیان پر جو ردعمل سامنے آیا ہے اس سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی سیاسی مسائل کو بلیک میلنگ کی بجائے جمہوری انداز میں حل کرنے کی متمنی ہے ۔آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو زرداری اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ بھی متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے ۔پیپلز پارٹی کے ایک ذمہ دار عہدیدار نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ اسمبلی سے استعفوں کے معاملہ پر پیپلز پارٹی عمران خان پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔یہ لوگ پہلے بھی استعفے دے کر واپس لے چکے ہیں ،پیپلز پارٹی اسمبلی سے استعفے دینے کی آپشن پر غور کرچکی ہے اور اب تک یہی فیصلہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی مستعفی نہیں ہوں گے ۔عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قراردادمنظور ہونے کے بعد عمران خان کی طرف سے کسی بڑے دھماکے کی توقع کی جارہی تھی تاہم انہوں نے اپنی گزشتہ روزکی پریس کانفرنس میں اسمبلی سے استعفوں کی بابت کوئی اعلان نہیں کیا۔استعفوں کے آپشن کو استعمال کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر نظر آرہے ہیں ۔اگرکچھ سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی مستعفی ہوجائیں تو یہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے لئے میدان کھلا چھوڑنا ہوگا ۔مستعفی ہونے والی جماعتیں ضمنی انتخابات میں کس منہ سے حصہ لیں گی ؟ایسی جماعتیں زیادہ سے زیادہ کسی آزاد امیدوار کے حمایت کرسکتی ہیں تاہم ایسی حمایت کھلم کھلا کی گئی تو استعفوں کا اخلاقی جواز ختم ہوجائے گا۔علاوہ ازیں اگر استعفوں کی خواہش مند سیاسی جماعتوں کے ارکان نے یکم فروری تک استعفے نہ دیئے تو پھر خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخاب نہیں ہوں گے ،اگر یکم فروری سے قبل استعفے دے دیئے جاتے ہیں تو ایک دو ماہ کے لئے رکن اسمبلی منتخب ہونے کے لئے کوئی امیدوار ضمنی انتخابات میں بھاری رقم کیوں خرچ کرے گا؟موجودہ اسمبلی کی مدت 31مئی 2018ء کو ختم ہورہی ہے ۔آئین کے آرٹیکل 52کے تحت قومی اسمبلی کی معیاد 5سال مقرر ہے تاوقتیکہ اسے قبل ازوقت تحلیل نہ کردیا جائے۔آئین کے آرٹیکل 58(1)کے تحت اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے۔موجودہ قومی اسمبلی کے ارکان نے یکم جون 2013ء کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا تھا جس کا مطلب ہے کہ یہ اسمبلی 31مئی 2018ء کو اپنی 5سالہ مدت پوری کرکے خود بخود تحلیل ہوجائے گی ،آئین کے آرٹیکل 224(1)کے مطابق اسمبلی کی معیاد ختم ہونے کے بعد60روز کے اندر عام انتخابات کروائے جاتے ہیں تاہم آرٹیکل224(2)میں کہا گیا ہے کہ اگر اسمبلی کو قبل از وقت تحلیل کردیا جائے تو تحلیل کئے جانے کے بعد 90دنوں کے اندر عام انتخابات ہوں گے۔آئین کے آرٹیکل 224کے ضمنی آرٹیکل 4کے مطابق اگر اسمبلی کی کوئی نشست کسی وجہ سے خالی ہوجائے تو 60روز کے اندر اس پر ضمنی الیکشن ہوگا تاہم اگر قومی اسمبلی کی کوئی نشست اس وقت خالی ہوتی ہے جب اسمبلی کی معیاد ختم ہونے میں 120روز باقی ہوں تو پھر اس پر ضمنی الیکشن نہیں ہوگا بلکہ وہ سیٹ عام انتخابات تک خالی رکھی جائے گی۔حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی کی طرف سے یکم فروری سے قبل استعفے دئیے گئے تو بھی آئینی طور پر عام انتخابات نہیں کروائے جاسکتے بلکہ ان کی استعفوں سے خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حزب اختلاف کے استعفوں سے اسمبلی کی کارروائی یا حکومت کا کاروبار رک جائے گا؟ آئین کے آرٹیکل 55کے تحت قومی اسمبلی کے ارکان کی مجموعی تعداد کا ایک چوتھائی اجلاس میں موجود ہونا ضروری ہے۔اس وقت قومی اسمبلی کے ارکان کی مجموعی تعداد 342ہے ،دوسرے لفظوں میں اسمبلی اجلاس کا کورم پورا کرنے کے لئے 86ارکان کی موجودگی ضروری ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے پاس قومی اسمبلی کی 188نشستیں ہیں۔اگر نادیدہ قوتوں کے زیراثر مسلم لیگ (ن) کے 86کے سوا دیگر تمام ارکان بھی مستعفی ہوجاتے ہیں تو نہ صرف قومی اسمبلی کے اجلاس ہوسکتے ہیں بلکہ حاضر ارکان سادہ اکثریت سے قانون سازی بھی کرسکتے ہیں۔متحدہ اپوزیشن نے مال روڈ کا جلسہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے رکھا تھا لیکن وہاں شرکاء کی تعداد اور حزب اختلاف کے راہنماؤں کے باہمی چپقلش کو پیش نظر رکھا جائے تو اس جلسے سے الٹا حکومت اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ریلیف ملا ہے ۔عمران خان کی طرف سے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجے جانے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے جو پوزیشن لی ہے اس کے بعد تو یہ پیش گوئی مشکل نہیں کہ مستقبل قریب میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کا کوئی امکان نہیں ہے ۔پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے راہنماؤں نے اپنی توپوں کا رخ ایک دوسر ے کی طرف کرلیا ہے جس کا فائدہ حکمران جماعت کو ہوگا۔پاکستان تحریک انصاف میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی نہیں ہونا چاہتے ،پاکستان تحریک انصاف اسمبلی سے استعفوں کے معاملہ کے فوائد اور نقصانات کا لازمی طور پر تجزیہ کرے گی ،سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے استعفوں کی تجویز مسترد کئے جانے کے امکانات زیادہ ہیں ۔اس سلسلے میں خیبر پختونخوا کی حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کی آڑ لی جائے کہ وہ استعفوں کی مخالف ہیں یا پھر کوئی اور بہانہ ڈھونڈاجائے ۔

مزید :

تجزیہ -