ایم ایم اے بحالی کیلئے تاحال مرکزی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی : مفتی کفایت اللہ

ایم ایم اے بحالی کیلئے تاحال مرکزی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی : مفتی کفایت اللہ

  

بونیر( ڈسٹرکٹ رپورٹر)جمعیت علمائے اسلام کے قائم مقام صوبائی امیر مفتی کفایت اللہ نے کہا ہے کہ ایم ایم اے بحالی کیلئے تاحال مرکزی سطح پر کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی ہے۔ بہت جلد مرکزی سطح پر کمیٹی بنائی جائے گی جس کے بعد صوبوں میں اس کیلئے لائحہ عمل بنایا جائے گا۔تب کہیں جاکر اضلاع کو ہدایات جاری کئے جائیں گے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری شدہ بیانات میں کوئی صداقت نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بونیر مدرسہ باجکٹہ میں شوریٰ اجلاس میں شرکت کے بعد رہائش گاہ نائب ضلعی امیر استقبال خان میں میڈیا والوں کو تفصیلات جاری کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صوبائی حکومت کے اس اقدام کے مخالف ہیں کہ وہ مساجد کے اماموں کو آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور مختلف این جی اووز کے تھرو حاصل کئے جانے والے رقوم سے معاوضے دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے علمائے کرام نے اسے مسترد کیا ہے اگر صوبائی حکومت اپنی عوام کی اتنی خیر خواہ ہے تو وہ آئے روز اداروں میں تعینات کلرکس برادری کے مطالبات کو حل کیوں نہیں کراتے اور انہیں آپگریڈیشن کیوں نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم صوبائی حکومت کے اس پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کے تھرو و ہ مدارس اور تعلیمی اداروں کو اپنے دائرہ کار میں لاکر اپنی مرضی سے نصاب میں تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی مدرسہ میں صوبائی حکومت نے بے جا مداخلت کی تو حکومت کا اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے بحالی سے یہ بات روز روشن کی طرح صاف عیاں ہیں کہ الیکشن 2018 میں ہم صوبہ بھر میں کلین سویپ کریں گے اور آئیندہ حکومت ایم ایم اے کی ہوگی انہوں نے کہا کہ زینب قتل کیس پر سیاست چمکانے کے بجائے عمران خان پہلے اپنے صوبے کی خبر لے۔ کے پی حکومت نے اس گھناؤنی عمل کے خلاف مثبت اقدامات اٹھائے ہوتے تو آج قوم کو قصور کے معصوم زینب اور مردان کی چار سالہ عاصمہ کی اذیت ناک واقعے نہ دیکھنے پڑتے۔ صوبائی حکومت کے اچھائیوں کا دعوایدار عمران خان بتائے کہ وہ عاصمہ کے قاتلوں کو کب پکڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران یہودی ایجنٹ ہے اور وہ مملکت پاکستان میں یہودی ایجنڈے کے تحت فحاشی اور عریانی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے ماؤں بیٹیوں کا تخفظ محض اسلامی نظام کے قیام سے ہی ممکن ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -