درجہ چہارم ملازمین ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ،محمد حکیم

درجہ چہارم ملازمین ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ،محمد حکیم

  

پشاور( کرائم رپورٹر )صوبائی پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن درجپ چہارم ملازمین خیبر پختونخوا محکمہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیشیت رکھتی ہے جو ایمانداری سے اپنے ہسپتالوں میں صفائی کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا دکھی انسانیت ودیگر افسران بالا کی خدمت کرنے میں دن رات جھکے رہتے ہیں جو کسی سے پوشیدہ نہیں خیبر پختونخوا صوبائی پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن درجہ چہارم کے صوبائی چیئرمین محمد حکیم اور صوبائی نائب صدر مقبول شاہ آفریدی اور صوبائی پریس سیکرٹری اسلم خٹک نے پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ہمارے کپڑے اور ہاتھ خون ہر وقت خون آلودہ ہونے کی وجہ سے ہم کئی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اسکے باوجود بھی ہم خطرناک سے خطر ناک hcvاور بم بلاسٹ جیسے مریض کو گلے لگا کر سٹریچر اور اپنے کندھوں پر ڈال کر نہ صرف ایمرجنسی بلکہ وارڈوں تک بروقت پہنچاتے ہیں افسوس ناک آمر یہ ہے کہ جب بھی مراعات کا وقت آتاہے حکمران غریب طبقے کو نظر انداز کر کے سارے مراعات صاحب استطاعت لوگوں میں تقسیم کر کے غریب طبقے کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیتے ہیں جو کہ نہ صرف سراسر نا انصافی بلکہ ملازمین کے بچوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے ستر فیصد ملازمین کو ہیلتھ پرونشل الاؤنس دینے کی منظوری دے چکے ہیں اور تیس فیصد کم تنخوادار ملازمین کو نظر انداز کر کے انصافی اورانکے درمیان تضاد اضطراب پیدا کرنے کی مثال قائم کر دی جو ناقابل برداشت ہے وبائی حکومت ہمارے غریب طبقے کے ساتھ مخلص نہیں ہے صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید نے 22نومبر 2016ء کو عظیم الشان احتجاجی جلسے بمقام جناح پارک میں پشاور میں اعلان کر کے ہیلتھ پرونیشنل الاؤنس کی منظوری کا اعلان کیا جو کہ ریکارڈ پر موجود ہے مگرعرصہ پانچ ماہ گزرنے کے باوجود انصاف کی صوبائی حکومت نے خاموشی کی چادر اوڑھ رکھی ہے انہوں نے کہا کہ تین اپریل تا آٹھ اپریل 2017ء تک احتجاج پر مجبور ہوئے لیکن پھر صوبائی حکومت کے اعلیٰ عہد یداروں کے یقین دیہانی پر احتجاج ختم کیا گیا انہوں نے کہا کہ 20اپریل تک ہیلتھ پرونشل الاؤنس کا نوٹیفیکشن جاری کیا جائے گا مگر عرصہ نو ماہ گزرنے کے باوجود انصاف کی صوبائی حکومت خاموش ہے جسکی وجہ سے محکمہ صحت کے ملازمین مین بے چینی تضاد اور ضطراب کا شکار ہے انہوں نے مزید کہا کہ پیرا میڈیکل درجہ چہارم ملازمین اور دیگر ہیلتھ ایمپلائز کو الاؤنس دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ mtisہسپتالوں کے کنڑیکٹ فکسڈ پے اور انسٹیٹیوشنل ملازمین کو مستقل کر کے انکے cp fund کو gp fundمیں تبدیل کیا جائے 25جنوری کے آخر ی ہفتے میں اضلاع اور ایجنسیوں میں جنرل باڈی اجلاس ہونگے اور 27جنوری کو اپنے اضلاع اور ایجنسیوں کے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہو گا جب کہ 30جنورہ کو پیر میڈیک درجہ چہارم ملازمین خیبر پختونخوا کا جناح پارک میں زبردست احتجاج ہو گا جو کہ مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -