سندھ اسمبلی : نقیب محسود کے ماورائے عدالت قتل کا معاملہ اٹھایا گیا

سندھ اسمبلی : نقیب محسود کے ماورائے عدالت قتل کا معاملہ اٹھایا گیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں جمعرات کو نقیب محسود نامی نوجوان کے ماورائے عدالت قتل کا معاملہ اٹھایا گیا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان نے نکتہ اعتراض پر یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ہمارے کراچی کے بچوں کو گرفتار کرکے جعلی پولیس مقابلوں میں مارا جا رہا ہے ۔ نقیب محسود کو سادہ لباس اہلکاروں نے گھر سے گرفتار کیا اور اسے ’’ ان کاؤنٹر اسپیشلسٹ ‘‘ نے بے دردی سے قتل کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ نقیب محسود کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کرائی جائیں اور یہ تحقیقات مکمل ہونے تک ایس ایس پی راؤ انوار کو معطل کیا جائے ۔ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ وزیر داخلہ ایوان میں موجود نہیں ہیں لیکن انہوں نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کنٹریکٹ ڈاکٹرز کو مستقل کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ۔ پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ کیا حکومت ان ڈاکٹروں کو مستقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ اس پر وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ ہم کسی کو بھی کمیشن کے امتحان کے بغیر یا اسمبلی کے قانون سے ہٹ کر مستقل نہیں کر سکتے ۔ ہم نے ان ڈاکٹرز کو کہا تھا کہ وہ پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں بیٹھ جائیں ۔ اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کا ذمہ دار کون ہے ۔ یہ ادارہ نہ مکمل ہے ۔ کمیشن میں کوئی خاتون رکن بھی نہیں ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر