ہمارا طرز حیات ہمیں سست بنا رہا ہے،بریگیڈیئر(ر)ریاض الحق

ہمارا طرز حیات ہمیں سست بنا رہا ہے،بریگیڈیئر(ر)ریاض الحق

کراچی (اسٹاف رپورٹر)شوریٰ ہمدرد کراچی کا اجلاس اسپیکر جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت گزشتہ روز ’’ہمارا طرز حیات اور ہماری صحت پر اس کے منفی اثرات‘‘ کے موضوع پر ایک مقامی کلب میں منعقد ہوا جس میں شوریٰ ہمدرد پاکستان اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے بھی شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہمدرد یونی ورسٹی ہسپتال کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر بریگیڈیئر (ر) ریاض الحق نے کہا کہ ہمارا طرز حیات اور ماحول ہمیں سسب بنا رہا ہے، ہم نے غیر صحت مند عادتیں اپنا لی ہیں، پیدل چلنا چھوڑ دیا ہے ۔ موبائل فونز کی وجہ سے ہماری حرکت پذیری بہت کم ہوگئی ہے جو زندگی کو بڑھاتی ہے اگر ہم بغیر حرکت کیے دو گھنٹے ایک جگہ بیٹھے رہیں گے تو ہماری خون کی نالیاں جامد ہو سکتی ہیں لہٰذا ہر آدھا گھنٹے کے بعد اٹھ کر دو چار قدم ضرور چلیں تاکہ خون کی گردش نارمل ہو۔ انہوں نے کہا کہ خود سے علاج کرنا (Self Medication ) بہت خطرناک ہے، کچھ ایسی دوائیں ہیں جنہیں معالج کے مشورے کے بغیر اگر ہم استعمال کرتے رہیں تو گردے ناکارہ ہو کر ہمیں ڈائی لیسس پہ لے آئیں گے۔ سائنس داں ڈاکٹر مرزا ارشد علی بیگ نے کہا کہ الیکٹرک پاورٹرانسمیشن سسٹم کا ہمارے ماحول، جانداروں اور ہماری زندگی پر بہت منفی اثرات مرتے ہوتے ہیں لہٰذا اس کی پاور فل لائنوں، جن کی طاقت، اگر طے شدہ طاقت کی سطح سے زیادہ ہو، تو انہیں نرسریز، اسکولوں، مکانات، دفاتر اور رہائشی علاقوں سے دور رکھا جائے۔ بچے اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔صدر مجلس جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کہا کہ سیٹلائٹ، کمپیوٹر اور موبائل فون ایجاد کرنے والوں نے انسانیت کی بہت خدمت کی ہے۔ وہ نیک کام کر رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں سے آج ہم گھر بیٹھے ہزاروں میل دور رہنے والے اپنے عزیزوں سے بات بھی کر سکتے ہیں ، انہیں دیکھ بھی سکتے ہیں اور وہاں ہونے والے کرکٹ میچوں اور کُشتی کے مقابلے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر وقاراحمد رضوی نے کہا کہ بازاروں اور سڑکوں پر کرسیاں ڈال کر کھانا ہمارے معاشرے کا المیہ ہے۔ ہمیں اپنی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی صحت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ پروفیسر محمد رفیع نے کہا کہ کھائے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا، تاہم کھائیں ضرور لیکن اعتدال و توازن کے ساتھ۔ اسی طرح موبائل فون کا استعمال اب ناگزیر ہے، ہم جدید ٹیکنالوجی سے الگ ہو کر نہیں رہ سکتے ہیں۔ تاہم اس کا بھی استعمال اعتدال سے کیا جائے۔ انجینئر انوار الحق صدیقی نے کہا کہ انسانی معاشرہ زرعی اور صنعتی دور سے نکل کر اب ایک ایسے دور میں داخل ہوگیا ہے جسے کوئی حتمی نام ابھی تک نہیں دیا گیا ہے۔ بہرحال دنیا کا سفر آگے کی طرف جاری ہے اور ہمارے بچے ہم سے زیادہ ذہین اور مائل بہ ترقی ہیں۔ ’’انسانی معاشرے میں انا کا مسئلہ (Ego problem ) پیدا ہو رہا ہے جس کی مختلف وجوہات ہیں، اس سے ’’A ‘‘ ٹائپ شخصیت تشکیل پاتی ہے جو جارحانہ رویئے، بے صبری اور عجلت پسندی کی مرکب ہوتی ہے اور ایسا شخص کامل شخصیت بننے کی کوشش میں اعصابی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھانا شروع کرنے پر ہمیں پہلے بکری کی طرح سبزیاں یعنی سلاد وغیرہ کھانا چاہیے تاکہ خوراک متوازن رہے۔ ظفر اقبال نے کہا کہ غریبوں کو نہیں بلکہ فکر تو اس طبقے کو کرنی چاہیے جن کی زندگی آسائشوں سے پُر ہے کہ پرتعیش اور سہل زندگی صحت کے لیے مسائل پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہوا، پانی، غذا اور دوائیں تک ملاوٹ والی مل رہی ہیں، ہر چیز جعلی ہوگئی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ کرپشن اور بدانتظامی (Bad governance ) ہے۔ کرنل (ر) مختار احمد بٹ نے کہا کہ ملک میں ساڑھے تیرہ کروڑ موبائل فونز ہیں جن میں سے اکثریت فون کو سینے سے لگاکر سوتی ہے جو بہت خطرناک ہے، اس پر لوگوں کو ایجوکیشن دینے کی ضرورت ہے۔ مغرب کی نقل میں ہم نے اپنی اقدار کو کھو دیا ہے، اب ہمارا طرز زندگی نہ مغربی ہے اور نہ مشرقی۔ ملک میں کوئی شے خالص دستیاب نہیں ہے۔ اجلاس نے ایک قرارداد تعزیت کے ذریعے شوریٰ کے رکن پروفیسر کفیل احمد اور ایئرمارشل (ر) اصغر خان کی اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ اس موقع پر پروفسیر ڈاکٹر وقار احمد رضوی نے اپنی کتاب محترمہ سعدیہ راشد ، جسٹس (ر) حاذق الخیری اور اراکین شوریٰ ہمدرد کو پیش کی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر