سوائن فلو سے متاثرہ ایک اور مریض چل بسا، نشتر میں تعداد 24ہو گئی

سوائن فلو سے متاثرہ ایک اور مریض چل بسا، نشتر میں تعداد 24ہو گئی

  

ملتان ، خانیوال، جتوئی (نمائندہ پاکستان، نامہ نگار) انفلوائنزا سے متاثرین کی بڑھتی تعداد محکمہ صحت کے حکام میں تشویش میں مبتلا‘ نشتر میں 22 سالہ ساجد چل بسا‘ دیگر شہروں سے متاثرہ افراد کی نشتر آمد کا سلسلہ جاری‘ ملتان سے نمائندہ پاکستان کیمطابق سوائن فلو نے ایک اور جان لے لی ۔معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ روز 22 سالہ ساجد نشتر ہسپتال میں چل بسا متوفی کا تعلق لیہ سے تھا جو آئی سی یو میں زیر علاج تھا ۔ نشتر ہسپتال میں ہلاکتوں کی تعداد 24 ہوگئی ۔ پانچ مریضوں کو(بقیہ نمبر23صفحہ12پر )

دیگر وارڈز میں شفٹ کردیا گیا ۔ زیر علاج مریضوں کی تعداد 19 ہوگئی ۔ نشتر ہسپتال میں پانچ ہفتے میں انفلوئنزا کے مریضوں کی ڈبل سنچری مکمل ہوگئی۔ 15 دسمبر سے اب تک 203 مریضوں کو ہسپتال لایا گیا انفلوئنزا کے متاثرین کی ہسپتالوں میں آمد جاری ہے۔معلوم ہوا ہے کہ 9 نئے مریض نشتر ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں داخل ہوئے ہیں۔ 8 مریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد ڈسچارج کردیا گیا 3 مریضوں میں وائرس نہیں پایا گیا ۔ 8 افراد کی رپورٹ آج آئے گی ۔ رواں سیزن میں 110 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ایک ماہ کے دوران 24 افراد نے جان کی بازی ہاری خانیوال سے نمائندہ پاکستان کیمطابق گزشتہ روز خانیوال اور گردونواح سے 25 افراد فلو کی تشخیص کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال خانیوال لائے گئے جن کے ضروری ٹیسٹ کرکے ان کی طبی امداد دی گئی تمام مریضوں کو ٹیسٹ مثبت آنے پر انہیں ہسپتال سے طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا۔ جتوئی سے نامہ نگار کیمطابق ٹی ایچ کیو ہسپتال جتوئی میں سیزنل انفلوئنزاء ایچ ون این ون کے دو مریض اقبال اور مستبشرہ پہنچ گئے جنہیں طبی امداد کے بعد ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفر گڑھ اور نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا گیا تفصیلات کے مطابق تحصیل جتوئی میں سیزنل انفلوئنزاء ایچ ون این ون کے دو بظاہر ہونے والے مریض ٹی ایچ کیو ہسپتال جتوئی پہنچ گئے جنہیں ٹی ایچ کیو ہسپتال سیزنل انفلوئنزاء ایچ ون این ون کے کاوئنٹر پر طبی امداد کے بعد 45 سالہ جتوئی شہر کے نواحی علاقہ بیٹ میر ہزار کے رہائشی محمد اقبال ولدیت غلام جمن کو ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفر گڑھ ریفر کیا گیا اور دوسرا مریضہ آٹھ سالہ مستبشرہ جتوئی شہر کی رہائشی کو طبی امداد کے بعد نشتر ہسپتال ملتان ریفر کیاگیا ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -