گیس کی بندش، ایل پی جی ڈیلر موقع سے ’’پورا‘‘ فائدہ اٹھانے میں مصروف

گیس کی بندش، ایل پی جی ڈیلر موقع سے ’’پورا‘‘ فائدہ اٹھانے میں مصروف

  

ملتان، دوکوٹہ (سٹاف رپورٹر، نامہ نگار، نمائندہ پاکستان)ایل پی جی ڈیلرسوئی گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کا بھرپور فائدہ اٹھانے میں مصروف‘قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں ۔غریب عوام’’ زندہ درگور ‘‘ہو گئے ۔ احتجاج کے باوجود حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔تفصیل کے(بقیہ نمبر62صفحہ12پر )

مطابق سوئی گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کے باعث صارفین مجبوراً ایل پی جی سلنڈر استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے مگر حکومت نے اس پر بھی انہیں نہ بخشا اور ایل پی جی ڈیلرو ں کو قیمتیں بڑھانے کی کھلی چھٹی دے دی جس پر ایل پی جی ڈیلروں نے قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں ۔گزشتہ 3ماہ کے دوران ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔ اکتوبرمیں ایل پی جی دکانوں سے 80روپے فی کلو دستیاب ہو رہی تھی ۔ اس کے بعد قیمت 90‘پھر100‘ اس کے بعد 110‘ایک بار پھر اضافے کے ساتھ 120اور پھر 130روپے فی کلو فروخت ہو نے لگی ۔سوئی گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کے باعث صارفین مہنگے داموں ایل پی جی خرید نے پرمجبور کر دئیے گئے۔بتایا گیاہے کہ اس میں حکومت کی اہم شخصیت بھی ملوث ہے جس نے ایل پی جی کے مین ڈیلروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔11 دسمبر2017 کومہنگائی کی چکی میں پسے عوام پر وفاقی حکومت نے مزید ظلم کرتے ہوئے لوکل پیداواری ایل پی جی پر لیوی ٹیکس، درآمدی گیس پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرکے اس کا اطلاق کر دیا ۔لیوی ٹیکس، ریگولیٹری ڈیوٹی، سگنیچر بونس اور پریمیم کے نام پر ٹیکس سے ایل پی جی قیمت میں25روپے فی کلو ، گھریلو سلنڈر 250روپے اور کمرشل سلنڈر1000روپے مہنگا ہو گیا ۔غریب عوام قدرتی گیس کے بعدایل پی جی سے بھی محروم ہو گئے ، چولہے ٹھنڈے ہونے پرلکڑیاں جلانے پر مجبور ہو گئے ۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن پاکستان نے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا مگر پھر بعد میں ’’معاملات طے ہونے‘‘ پر خامو شی اختیار کرلی۔اس وقت ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن اور دکاندار دونوں ہاتھوں سے ’’ نوٹ سمیٹ ‘‘ رہے ہیں اور عوام پریشان حال ہیں ۔ بجلی بحران ختم نہ ہو سکا ۔ فیڈرز پر لائن لاسز کی شرح ظاہر کرکے دو سے چار گھنٹے کی عمومی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ بجلی چوری کی زائد شرح کو جواز بنا کر 6 سے 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ بھی کی جارہی ہے۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں ساڑھے پانچ بجے شام سے ساڑھے گیارہ بجے رات تک 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ اوپر سے مینٹی نینس کے نام پر الگ سے فیڈرز کئی کئی گھنٹے بند رکھے جا رہے ہیں ۔صارفین احتجاج کر کر کے تھک گئے ہیں مگر حکومت ان کی شنوائی نہیں کر رہی ہے اور بجلی کا ختم نہ ہونے والا بحران جاری ہے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -