پاکستان میں پینے کے جس پانی کو آپ صاف سمجھ کر پی رہے ہیں ، وہ دراصل کیا ہے؟ انتہائی پریشان کن انکشاف منظرعام پر

پاکستان میں پینے کے جس پانی کو آپ صاف سمجھ کر پی رہے ہیں ، وہ دراصل کیا ہے؟ ...
پاکستان میں پینے کے جس پانی کو آپ صاف سمجھ کر پی رہے ہیں ، وہ دراصل کیا ہے؟ انتہائی پریشان کن انکشاف منظرعام پر

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سینیٹ کے فورم برائے پالیسی ریسرچ کے اجلاس میں بتایا گیاہے کہ ہر شہری کو ایک ہزار کیوسک میٹر پانی دستیاب ہے جو 2025 میں فی کس863 کیوسک میٹررہ جائے گا جب کہ ملک میں 86 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں۔فورم کے سربراہ نیرحسین بخاری کی صدارت میں اجلاس ہوا۔

چیئرمین نے کہاکہ وزارت منصوبہ بندی قابل عمل منصوبوں سے فورم کو آگاہ کرے تاکہ فورم پارلیمنٹ میں پانی کے بحران کو حل کرنے کے لیے تجاویز بھجوائے۔ قلیل المیعاد اور طویل المیعاد منصوبوں کے لیے فنڈ پہلے سے مختص کیے جانا چاہئیں تاہم پالیسیاں بنانا پارلیمنٹ کاکام ہے جب کہ قانون سازی کے ذریعے اداروں کومزید طاقتوربنایا جائے۔چیئرمین نے تجویزکیاکہ ایکوالٹی ایکٹ برطانیہ کا تفصیلی جائزہ لے کریہاں بھی اس طرز پرقانون سازی زیربحث لائی جائے۔

فورم کے اراکین ہارون اختر، افراسیاب خٹک، محسن لغاری اوردیگر نے کہاکہ پانی کا مسئلہ مستقبل میں خطرناک صورت اختیار کرجائے گا، زیادہ سے زیادہ اسمال ڈیم بنانا ترجیح ہونا چاہیے۔حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ تقریباً 22 ملین ایکڑ فٹ سالانہ پانی ضائع ہورہا ہے۔ منصوبہ بندی ڈویڑن حکام نے بتایاکہ داسوڈیم پر کام شروع کردیا ہے اس کے ساتھ دوسرے بڑے پروجیکٹ کوشروع نہیں کرسکتے۔ یہ فورم فیصلہ کرے کہ بڑے پروجیکٹ کے ساتھ 5 ارب سے زیادہ کاکوئی پروجیکٹ نہ شروع کیا جائے۔

واضح رہے کہ ارسا کے پاس جدید سائنسی ٹیلی میٹری سسٹم نہیں ہے، فلڈکمیشن اور چیف کمشنر سندھ طاس کمیشن لاہورکے دفاترکی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ ملک کو سیلاب سے38 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ دوسری جانب داسو، بھاشاڈیمز کیلیے وسائل موجودنہیں ہیں جب کہ ایک ڈیم بنانا شروع کرتے ہیں دوسرے کی تجویزآجاتی ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -