فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر334

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر334
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر334

  

شباب کیرانوی صاحب کا مشورہ تھا کہ ’’کنیز‘‘ ہی کی ٹائپ ایک کہانی بناؤ اور اس کامیابی سے فائدہ اٹھاؤ مگر ہم اس کے حق میں نہ تھے کہ اپنی ایک کامیابی کو تھام کر بیٹھ جائے اور اس دائرے سے باہر ہی نہ نکلے۔ ہمارا خیال تھا کہ ایک کامیاب فلم کے بعد اسی انداز کی فلمیں بناتے رہنا عجیب بے تُکی سی بات ہے اور بنانے والے کی ذہنی مفلسی کو ظاہر کرتی ہے۔ بات تو تب ہے کہ مکّھی پر مکّھی مارنے کے بجائے ہر بار ایک مختلف قسم کی کہانی فلمائی جائے۔ ہم اس خیال کے پیش نظر مختلف کہانیوں کے تانے بانے بُن رہے تھے لیکن کوئی آئیڈیا دل کو نہیں لگ رہا تھا۔ اُدھر حسن طارق صاحب کے تقاضے جاری تھے کہ آفاقی صاحب جلدی سے سبجیکٹ تیار کیجئے تاکہ نئی فلم کا آغاز کیا جائے۔

اس دوران کئی فلمساز ہم سے کہانی لکھوانے کے خواہش مند ہوئے اور ہم نے اس عرصے میں ایک دو سکرپٹ بھی لکھے تھے مگر خود اپنے لیے ہمیں کوئی مناسب کہانی دستیاب نہ ہوسکی تھی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر333 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اُدھر فلم ڈسٹری بیوٹرز میں اس مسئلے پر شرطیں لگ رہی تھیں کہ ہم اپنی اگلی فلم کے حقوق اپنے پرانے تقسیم کاروں کو ہی دیں گے یا کسی اور کو؟

ایک روز ہم حسب معمول صبح دس بجے بیدار ہوئے۔ گیارہ بجے تیار ہوکر ناشتے کی میز پر پہنچے تو وہاں حسب معمول امّاں پہلے ہی منتظر تھیں۔ ناشتے کی میز انواع و اقسام کے کھانوں سے بھری ہوئی تھی جس کی تفصیل ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں۔ امّاں کی کوشش تھی کہ ہم سبھی کچھ چَٹ کر جائیں۔ ان کے اصرار پر ہم پر اٹھا‘ آملیٹ‘ سبزی‘ ہنٹر بیف‘ ملائی‘ دہی‘ شہد‘ پھل‘ کھجوریں اور حلوا کھا چکے تھے۔ اب ان کا اصرار تھا کہ وہ کیک بھی ضرور چکھیں جو گزشتہ روز چائے کے وقت منگایا گیا تھا مگر ہم غیرحاضر ہونے کی وجہ سے نہ کھا سکے تھے۔ ابھی چائے اور دودھ بھی ہمارے منتظر تھے جس میں ڈالنے کے لیے امّاں نے اوولٹین اور ہاٹ چاکلیٹ سامنے میز پر رکھ دیا تھا۔ اِدھر ہمارا یہ حال تھا کہ ہمارا پیٹ پھٹنے کے قریب تھا۔ یہ ہر روز کا معمول تھا۔ ناشتا ایک ایسی چیز تھا جو ہمیں لامحالہ گھر پر ہی کرنا پڑتا تھا اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر امّاں کی کوشش ہوتی تھی کہ لنچ اور ڈنر تک کے حصّے کی تمام خوراک ہمیں کھلا دی جائے کیونکہ بقول ان کے صرف ناشتا ہی ہم گھر پر ان کی نگرانی میں کرتے تھے۔ سارے دن یا تو بھوکے رہتے تھے یا الابلا کھاکر گزارہ کرتے تھے۔ خدا خدا کرکے ہم چائے کی ایک پیالی اور دودھ کا ایک گلاس ختم کرکے اٹھ کھڑے ہوئے۔ امّاں ہمیں دودھ کا ایک اور گلاس پلانا چاہتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چائے تو ہم تمام دن پیتے ہی رہتے ہیں۔ صبح ناشتے میں تو ہمیں دو تین گلاس دودھ پینا چاہیے۔ ان دنوں ہماری صحت بہت اچھّی تھی۔ گیس اور معدے میں جلن کے سوا ہمیں کوئی تکلیف نہیں تھی۔ وزن بھی مناسب تھا یعنی 136 پاؤنڈ کے قریب۔ ہمارا پیٹ بھی کسی حد تک پیٹ نظر آنے لگا تھا جسے دیکھ دیکھ کر ہم بہت خوش ہوا کرتے تھے کہ اب کچھ دن بعد ہم بھی دوسروں کی طرح اپنے پیٹ پر پیٹی باندھنے کے لائق ہوجائیں گے۔ صحت مندی کی علامت کے طور پر ہمارا رنگ بھی اُجلا اور سرخی مائل ہوگیا تھا۔ ہم اپنے آپ کو تندرست و توانا محسوس کرتے تھے اور شب و روز کام کرنے کے باوجود تھکن نام کی چیز سے بے خبر تھے۔ یہ سب تو تھا مگر امّاں کا خیال یہ تھا کہ رات دن کی محنت‘ شب بیداری‘ بے وقت کھانے‘ سونے جاگنے اور ہوٹلوں کے فضول کھانے کھا کر ہماری صحت خراب ہوگئی ہے۔ رنگ پیلا پڑ گیا ہے۔ چہرہ اُتر گیا ہے اور ہم مہینوں کے بیمار نظر آنے لگے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی مگر ’’ماؤں‘‘ کے سوچنے کا انداز دوسروں سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ ہر شخص جو دنیا میں آتا ہے اس کا واسطہ ماں سے ضرور پڑتا ہے اور وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ اللہ نے کس قسم کی مخلوق بنائی ہے۔

جاڑوں کا موسم تھا۔ ہم سوٹ بوٹ پہن کر گھر سے باہر نکلنے کے لیے تیار تھے اور بقول امّاں کے اب رات ہی کو کسی وقت گھر لوٹنے کا پروگرام تھا۔ ہمارے اس معمول کو وہ ایک ہی فقرے میں یوں بیان کرتی تھیں کہ بیٹا تمہاری تو وہی مثال ہے کہ صبح کی نکلی دیا سلائی‘ رات کو گھر میں آئی۔ ڈرائیور نے ہمارا بریف کیس کار میں رکھ دیا تھا اور اس سے پہلے چپکے سے یہ بھی چیک کرلیا تھا کہ سگار‘ پائپ اور تمباکو وغیرہ اس میں موجود ہے۔ ہماری تمباکو نوشی امّاں سے ’’خفیہ‘‘ تھی۔ کم از کم ہم یہی سمجھتے تھے کیوں کہ ہم کبھی گھر کی چار دیواری کے اندر تمباکو نوشی نہیں کرتے تھے۔ امّاں کو اس کا علم تھا یا نہیں‘ ہمیں کبھی پتا نہ چل سکا مگر انہوں نے کبھی یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ انہیں ہماری تمباکو نوشی کا علم ہے۔ غالباً وہ جان بوجھ کر انجان بن گئی تھیں۔

امّاں سے رُخصت ہوکر ہم باہر نکلنے لگے تو طبیعت کچھ کسل مند سی لگی۔ اچانک اتنی سستی سوار ہوئی کہ کچھ دیر لیٹنے کو جی چاہنے لگا۔ ہم امّاں کے پاس جاکر لیٹے تو انہوں نے تشویشناک انداز میں دیکھا اور پوچھا ’’کیا بات ہے۔ طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری؟‘‘

’’ہاں امّاں۔ بالکل ٹھیک ہے۔ بس ذرا سُستی سی آگئی ہے۔‘‘

وہ کہنے لگیں ’’بیٹا! دن رات کام کرو گے تو یہی ہوگا۔ مشین تک کو آرام نہ دیا جائے تو وہ خراب ہوجاتی ہے۔ تم تو گوشت و پوست کے بنے ہوئے انسان ہو۔‘‘

اظہارِ ناراضگی کے باوجود وہ خوش تھیں کہ اس بہانے ہم کچھ دیر اور ان کے پاس رُک جائیں گے۔

کچھ دیر بعد ہمیں متلی محسوس ہونے لگی اور گھبراہٹ سی طاری ہوگئی۔ امّاں نے فوراً الائچی اور پان کھلایا مگر طبیعت کی بے چینی کم نہ ہوئی تو ہم نے اٹھ کر ٹہلنا شروع کردیا۔ پھر ایسا محسوس ہوا جیسے کہ ہمیں اُلٹی آنے والی ہے۔ ہم غسل خانے کی طرف لپکے تو امّاں پریشان ہوکر ہمارے پیچھے پیچھے چلی آئیں۔ فوراً ہی ہمیں ایک الٹی آئی مگر یہ خون کی الٹی تھی۔ گاڑھا گاڑھا سُرخ خون دیکھ کر ہم گھبرا گئے۔

’’امّاں۔۔۔ خون!‘‘

’’خون!‘‘ اماں نے گھبرا کر پوچھا اور تیزی سے غسل خانے میں پہنچ گئیں۔

’’اللہ خیر۔ یہ کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے پریشان ہوکر کہا۔

جواب دینے کے بجائے ہم مزید الٹیاں کرنے میں مصروف ہوگئے۔ یکے بعد دیگرے خون کی چھ الٹیاں ہوئیں تو نہ صرف غسل خانے کا بیسن بھر گیا بلکہ فرش بھی گلنار ہوگیا اور خون کے چھینٹے ہمارے لباس کو بھی رنگین کرگئے۔

اتنی مقدار میں اپنا خون دیکھ کر ہم واقعی بوکھلا گئے۔ چکّر سے آنے لگے۔ شاید یہ نفسیاتی اثر تھا ورنہ فوری طور پر خون خارج ہونے سے یک لخت اتنی کمزوری تو نہیں ہوتی کہ انسان بے ہوش ہوجائے۔ ہم تو شاید سنبھل جاتے مگر امّاں کا سفید چہرہ‘ کانپتے ہوئے لب اور اشک بھری آنکھیں دیکھ کر ہماری ہمت بھی جواب دے گئی۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھایا اور پھر کچھ پتا نہیں کہ کیا ہوا۔

ہوش آیا تو ہم غسل خانے کے فرش پر دراز تھے۔ امّاں کی آوازیں ہمارے کانوں میں گونج رہی تھیں جو ہمیں پکار رہی تھیں اور ساتھ ہی نوکروں کو آواز دے کر فوراً ڈاکٹر کو فون کرنے کی ہدایت دے رہی تھیں۔ اس وقت گھر میں نوکروں کے سوا کوئی اور مرد موجود نہ تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہم چار پانچ منٹ تک بے ہوش رہے تھے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر335 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ