شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 5

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ ...
شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 5

  


پالی پور میں رحمتو کی پہلی واردات تھی اور وہاں کے باشندوں کو آئندہ آنے والے خطرات کے متعلق کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہا تھا۔ اس کے باوجود ابھی رحمتو آدم خور نہیں تھا۔ اس نے مویشیوں پر ضرور تاک لگائی تھی۔ا یک آدمی جو مارا گیا وہ اپنی غلطی سے۔ نہ وہ رحمتو کو لاٹھی مارتا نہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھوتا۔ اس کے بعد گاؤں کے مویشی باڑوں کے اندر رکھے جانے لگے اور لوگ اپنے گھروں کے دروازے مضبوطی سے بند کرکے سونے لگے لیکن رحمتو پھر گاؤں میں نہیں آیا۔ تین چار روز گزرگئے اور لوگوں کے ذہن سے گزشتہ واردات کا ہر اس زائل ہوگیا تو رحمتو کے اقدام پر ازسرچہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ چھیدی جو رحمتو کا سب سے بڑا معتقد اور طرفدار تھا، وہ قیاس آرائی کرتا کہ یقیناً گاؤں کے کسی عاقب نااندیش نے رحمتو کو کوئی اذیت پہنچائی ہے، جس کے نتیجے میں اس نے یہ سزا دی۔ گردھاری نے یہ رائے زنی کی کہ گالباً مقتول نے رحمتو کو گالیاں دی تھیں، لہٰذا اس نے سزا پائی۔

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 4 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک روز سہ پہر کے وقت ہنڈی کا ایک بیوپاری مہابیر اپنی بغیر چھت کی بیل گاڑی پر سوار پالی پور آرہا تھا۔ اس کے دو ساتھی گاڑی سے دس بارہ گز آگے آگے پیدل چل رہے تھے۔ مہابیر گاڑی میں تنہا تھا اور خود ہی بیلوں کو ہانک رہا تھا چونکہ اسے نیند آرہی تھی۔ اس لئے اس نے بیلوں کی رسیاں اپنے دونوں ہاتھوں پر لپیٹ لی تھیں تاکہ سوجانے کی صورت میں رسیاں چھوٹ نہ جائیں۔

نہار موڑ سے دو ایک فرلانگ آگے اچانک رحمتو جھاڑی سے نکلا۔ اس کی دل دہلا دینے و الی دھاڑ سے بیل خوفزدہ ہوکر اچھلے۔ گاڑی کے جوتے ٹوٹ گئے اور بیل دمیں اٹھا کر فراٹے بھرتے بھاگ کھڑے ہوئے، آگے آگے چلنے والے مہابیر کے ہمراہی شیر کی آواز سنتے ہی سرپر پیر رکھ کر گاؤں کی طرف بھاگ گئے۔ مہابیر نے رسیاں ہاتھوں پہ تو لپیٹ ہی رکھی تھیں، بیل جو بھاگے تو گاڑی جوتے ٹوٹ جانے کی وجہ سے وہیں رہ گئی اور بدقسمت مہابیر رسیوں میں بندھا بھاگتے ہوئے بیلوں کے پیچھے پیچھے زمین پر گھسٹنے لگا۔ بمشکل پانچ سات گز ہی گھسٹاہوگا کہ شیر نے بڑھ کر اس کو کمرسے پکڑ کر ایک جھٹکا دیا۔ رسیاں ٹوٹ گئیں اور بیل بھاگ نکلے اور جس طرح بلی چوہے کو منہ میں لٹکا کر لے جاتی ہے، اسی طرح شیر نے مہابیر کو لٹکایا اور جھاڑیوں میں گھسا چلاگیا۔

مہابیر کے ساتھیوں نے اس واقعے کی اطلاع پالی پور میں پہنچائی اور وہاں سے لوگوں کا یک جم غفیر ڈھول، دھڑپے، برچھے، نیزے لے کر نہار موڑ پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر ان کی حیرت و خوف کی انتہا نہ رہی۔ رحمتو ایک جھاڑی میں عین پگڈنڈی کے کنارے بیٹھا تھا۔ قریب ہی مہابیر کی لاش پڑی تھی۔ اس کا لباس شیر نے نوچ ڈالا تھا اور کولہوں اور پشت پرکاگوشت نچا ہوا تھا۔ گاؤں والوں کے شور و غل سے ڈر کر رحمتو جلدی ہی بھاگ کھڑا ہوا اور مہابیرکی بچی کھچی لاش پالی پور لائی گئی۔ یہ واقعہ گاؤں والوں کو ہراساں کرنے کے لئے کافی تھا۔(جاری ہے )

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 6 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /شیروں کا شکاری


loading...