’’ تم اپنے گھر لوٹ جاؤ ،جب سنوکہ میں غالب آگیا ہوں تب میرے پاس لوٹ آنا‘‘ رسول کریم ﷺ نے یہ کہہ کر جب ایک نو مسلم کو واپس بھیج دیا تو برسوں بعد جب وہ بارگاہ رسالت میں دوبارہ پیش ہوا توآپﷺ نے اسے دیکھتے ہی نماز اور وضو کے بارے وہ باتیں ارشاد فرمائیں کہ جسے سن کر آپ کاایمان کامل ہوجائے گا

’’ تم اپنے گھر لوٹ جاؤ ،جب سنوکہ میں غالب آگیا ہوں تب میرے پاس لوٹ آنا‘‘ ...
’’ تم اپنے گھر لوٹ جاؤ ،جب سنوکہ میں غالب آگیا ہوں تب میرے پاس لوٹ آنا‘‘ رسول کریم ﷺ نے یہ کہہ کر جب ایک نو مسلم کو واپس بھیج دیا تو برسوں بعد جب وہ بارگاہ رسالت میں دوبارہ پیش ہوا توآپﷺ نے اسے دیکھتے ہی نماز اور وضو کے بارے وہ باتیں ارشاد فرمائیں کہ جسے سن کر آپ کاایمان کامل ہوجائے گا

  

حضرت عمرو بن عبسہ سلمیٰؓ سے روایت ہے کہ’’میں (اسلام سے قبل) زمانہ جاہلیت میں گمان کرتا تھا کہ لوگ گمراہی پر ہیں اور وہ کسی دین پر نہیں ہیں اور بتوں کی عبادت کرتے ہیں، پھر میں نے ایک آدمی کی بابت سنا کہ وہ مکے میں (بتوں کے خلاف) کچھ باتیں کرتا ہے چنانچہ میں اپنی سواری پر بیٹھا اور اس شخص کے پاس مکے آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپ کر اپنا تبلیغی کام کررہے ہیں اور آپ ﷺ کی قوم دلیر ہے چنانچہ میں نے چوری چھپے آپ ﷺ سے ملنے کی تدبیر کی، حتیٰ کہ میں مکے میں آپ ؑ کے پاس پہنچ گیا۔ آپ کا کھوج لگاتا رہا، پھر پتا چلا کہ آپ مخفی رہتے ہیں۔ رات کے وقت خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں ،اس وقت آپ ﷺسے ملا جا سکتا ہے۔ میں کعبہ کے پردوں میں چھپ کر سو گیا اور آپ ﷺکی آواز سن کر بیدار ہوا۔ آپ لا الٰہ الا اللہ کا ورد کررہے تھے۔ میں باہر نکلااور پوچھا:’’آپ کون ہیں؟ ‘‘

فرمایا: میں اللہ کا نبی ہوں‘‘ پوچھا’’ نبی کیا ہوتا ہے؟‘‘

فرمایا: اللہ کا رسول (پیغمبر)‘‘ میں نے پھر پوچھا’’ کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟‘‘

فرمایا’’ ہاں‘‘

میں نے سوال کیا’’ کیا پیغام دے کرآپ کو مبعوث کیا ہے؟ ‘‘

فرمایا: یہ کہ اللہ اکیلے کو معبود مانا جائے اور کسی کو بھی اس کا شریک نہ بنایا جائے،بتوں کو توڑ دیا جائے، رحم کے رشتوں کو جوڑا جائے ،خون ریزی بند کی جائے اور راستوں کو محفوظ بنایا جائے۔‘‘

میں نے پوچھا’’ اس دین میں آپ کا ساتھ کون دے رہا ہے؟‘‘

جواب فرمایا’’ ایک آزاد اور ایک غلام۔‘‘ تب سیدناؓ ابوبکر اور سیدنا بلالؓ آپ کے ساتھ تھے۔ میں نے کہا’’ ہاتھ بڑھائیے، میں آپ کی بیعت کرتا ہوں‘‘ تب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام کی بیعت کی۔ پھر کہا’’ میں آپ کے ساتھ ساتھ رہوں گا‘‘ آپ نے فرمایا’’ تم دیکھ نہیں رہے کہ لوگ میرے لائے ہوئے نور ہدایت کو نا پسند کر رہے ہیں، اس لیے آج تم یہاں رہ نہیں سکو گے،اپنے اہل خانہ کے پاس واپس چلے جاؤ اور جب یہ سنو کہ میں مکہ سے نکل آیا ہوں(یا مجھے غلبہ حاصل ہو گیا ہے) تو میرے پاس چلے آنا‘‘

چنانچہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آگیا اور رسول اللہ ﷺ مکہ چھوڑ کر مدینہ تشریف لے آئے اور میں اپنے گھر والوں میں تھا۔ چنانچہ میں نے خبروں کی جستجو شروع کردی ا ور جس وقت آپ ﷺ مدینہ آگئے تو میں آپﷺ کی بابت لوگوں سے پوچھتا۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ باشندگان مدینہ میں سے آئے تو میں نے کہا: ’’اس آدمی کا کیا حال ہے جو (مکے سے ہجرت کرکے) مدینہ آیا ہے؟‘‘

انہوں نے کہا ’’لوگ اس کی طرف تیزی سے آرہے ہیں‘ اس کی قوم نے تو اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے۔‘‘

چنانچہ میں مدینہ آیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا ’’ اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟‘‘

آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں، تم وہی ہو جو مجھے مکے میں ملے تھے۔‘‘

میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ آپ مجھے دو باتیں بتلائیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں ۔ مجھے نماز کے متعلق بتلائیے۔‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم صبح کی نماز پڑھو، پھر سورج کے ایک نیزے کی مقدار بلند ہونے تک نماز سے رکے رہو، اس لئے کہ جب تک سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور اس وقت کافر اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر تم نماز پڑھو، اس لئے کہ نماز میں فرشتے گواہ ہوتے اور لکھنے کے لئے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ سایہ کم ہوتے ہوتے نیزے کے برابر ہوجائے۔ (یہ نصف النہار، یعنی زوال کا وقت ہے) پھر اس وقت نماز سے رک جاؤ، اس لئے کہ اسوقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے، پھر جب سایہ بڑھنے لگے (یہ ظہر کے وقت کا آغاز ہے) تم نماز پڑھو، اس لئے کہ نماز میں فرشتے گواہ (لکھنے کے لئے) حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو، پھر (نماز عصر کے بعد) تم نماز سے رک جاؤ، یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے، اس لئے کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت اسے کافر سجدہ کرتے ہیں۔‘‘

میں نے کہ ’’اے اللہ کے نبی ﷺ وضو کے بارے میں بھی مجھے بتلائیے؟‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم میں سے جو شخص بھی وضو کا پانی اپنے قریب کرے اور (ہاتھ دھونے کے بعد) کلی کرے، ناک میں پانی ڈالے اور ناک جھاڑکر صاف کرے تو اس کے چہرے، منہ اور ناک کے گناہ گرجاتے (جھڑجاتے) ہیں، پھر جب وہ اپنا منہ دھوتا ہے، جیسے اسے اللہ نے حکم دیا ہے، تو اس کے چہرے کی غلطیاں اس کی داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ گرجتی ہیں، پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کی خطائیں اس کی انگلیوں سے پانی کے ساتھ نکل جاتی ہیں، پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کی غلطیاں اس کے بالوں کے کنارے سے پانی کے ساتھ نکل جاتی ہیں پھر وہ اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوتا ہے تو اس کے پیروں کے گناہ اس کی انگلیوں سے پانی کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد اگر وہ کھڑا ہو اور نماز پڑھی، پس اللہ کی حمد و ثناء اور بزرگی اس طرح بیان کی جس طرح وہ اس کا حق رکھتا ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لئے فارغ کردیا (یعنی خشوع وخضوع کا اہتمام کیا) تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہوکر نکلتا ہے، جیسے وہ اس وقت تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔‘‘(بحوالہ روایت مسلم ،ابو داود،احمد )

مزید : روشن کرنیں