’’کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ شہباز شریف اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ۔۔۔۔۔۔ ‘‘ ایسا انکشاف کہ جسے سن کر اسٹبلشمنٹ اور سیاستدان حیرت سے اچھل پڑیں گے

’’کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ شہباز شریف اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ۔۔۔۔۔۔ ...
’’کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ شہباز شریف اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ۔۔۔۔۔۔ ‘‘ ایسا انکشاف کہ جسے سن کر اسٹبلشمنٹ اور سیاستدان حیرت سے اچھل پڑیں گے

  

لاہور(نظام الدولہ )وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کو متوقع وزیر اعظم پاکستان کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ پنجاب کی ترقی اور انکی حرارکی کی وجہ سے لوگ انہیں خادم اعلیٰ سمجھتے ہیں جنہوں نے عوام کی خدمت کے لئے محکموں کو نکیل ڈال رکھی ہے۔یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی نسبت لچکدار رویہ رکھتے ہیں۔دوسرے صوبوں کی عوام اپنے وزرائے اعلیٰ کی کارکردگیوں کا جب موازنہ میاں شہباز شریف سے کرتے ہیں تو انہیں اس بات کا دکھ ہوتا ہے کہ کاش انکے صوبے میں بھی شہباز شریف جیسا وزیر اعلیٰ ہوتا۔

ایک دست شناس کی حیثیت سے جب میں میاں شہباز شریف کے ہاتھ کی لکیروں کا جزوی جائزہ لیتا ہوں تو انکی شخصیت کے بہت سے مخفی پہلو سامنے آتے ہیں۔وہ اپنے اختیارات کے تحت جو فیصلے کرتے یا کوئی کام کرتے نظر آتے ہیں تو ان کے پیچے انکی جبلت کتنا اثر کرتی ہے،اس بات کا اندازہ ان کی چند لکیروں سے دیکھا جاسکتا ہے۔انکے سیاسی مزاج اور ان پر لگنے والے الزامات کی بجائے میں انکے فطری رجحانات کا ایک جزوی تاثر آپ کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔

میاں شہباز شریف کے ہاتھ پر مشتری کادراز اور بھرا ہوا ابھار،مریخ منفی کی لکیریں ،دل اور دماغ کی لکیروں کا فاصلہ اور ڈھلان نما دماغی لکیر کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن ہاتھوں پر ایسی لکیریں موجود ہوں وہ لوگ اپنے خیالات اور احکامات پر عمل کرانے میں انتہائی سخت اور درشت واقع ہوتے ہیں۔ دوسروں پر بہت کم اعتماد کرتے ہیں،ان سے بے رحمی کی بھی شکایت رہتی ہے جو خاص طور پرعمر کے ابتدائی سالوں کے بعد خاص طور پر پچاس سال کے بعد بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ان کے دل میں کشادگی پیدا ہوتی ہے ،دوسروں سے شاکی رہنے کی عادت کم ہوجاتی ہے۔ایسے لوگ سسٹم کو اپنے ہاتھوں میں رکھنے کے عادی ہوتے ہیں ،وہ لوگ جو ان کے مزاج کو جان لیتے ہیں وہی ان کے آس پاس ہوتے ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی کو کام کہہ کرمطمئن ہوجائیں ،انکی ریزرویشنز برقرار رہتی ہیں،تشکیک،بال کی کھال ادھیڑنا اور جارحانہ رویے ایسی خصوصیات مل کر ان کی شخصیت کا ایسا تاثر پیدا کرتی ہیں کہ عام طور پر ایسے بندے کو مطمئین کرنا آسان نہیں ہوتا۔گویا انہیں قائل کرنا اتنا آسان نہیں۔

میاں شہباز شریف فطرتاً حس جمالیات رکھتے ہیں اور اس کا شغف پورا کئے بغیر رہ نہیں سکتے ،حساس ہیں،اپنی آزادی پر کمپرومائز نہیں کرتے ،کسی کے ماتحت رہنا پسند نہیں کرتے۔دوسروں کو اپنا گرویدہ کرنا جانتے ہیں اور یہ ان کے مزاج کا فطری تقاضا ہے۔

بہت سے لوگوں نے سنا ہوگا کہ میاں شہباز شریف راتوں اور صبح سویرے چھاپے مارنے کا ملکہ رکھتے ہیں،جس سے اکثر محکموں کے افسروں کو سحری کے وقت بھی الرٹ رہنا پڑتا ہے۔اسکی وجہ بھی ان کی فطرت میں شامل غیر معمولی حرارکی ہے جو انہیں سرگرم رکھتی ہے ۔مریخ منفی کی لکیروں کا رجحان دماغی لکیر اور انگوٹھے کی ساخت ان کی ہمہ وقت متحر ک اور بے چین طبعیت کی عکاسی کرتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ میاں شہباز شریف میں لچک موجود ہے اسی لئے جب میاں نواز شریف کے ساتھ اسٹبلشمنٹ یا دیگر مخالف قوتوں کے درمیان ان بن ہوتی ہے تو میاں شہباز شریف کو درمیان میں مصلحت کار کے طور پر آنا پڑتا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ دونوں بھائیوں کے مزاج میں بہت زیادہ فرق ہے۔میاں نواز شریف کے ہاتھوں سے کسی شہنشاہ کا گماں ہوتا ہے ،وہ فیصلوں میں اٹل اور بے لچک ہیں دور اندیش اور زیرک ہیں اس لئے مقابلہ کرناجانتے ہیں جبکہ میاں شہباز شریف میں کافی لچک بھی پائی جاتی ہے لیکن یہ لچک انکی مصلحت کے تحت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مدمقابل ان سے بالا دست ہو ۔دل نہ بھی چاہے ،وہ رویہ نرم کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دست شناسی کی رو سے میاں شہباز شریف کے انگوٹھے کا جھکاؤ اور امریکی صدر ٹرمپ کا انگوٹھا ایک جیسی صفات کا حامل ہے۔ایسے لوگ جس شعبے میں بھی ہوں وہ حالات کو اپنے طرف جھکانے اور ڈرامائی تاثر پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔یہ جوشیلے مقرر ہوتے ہیں ۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور میاں شہباز شریف کے مزاج میں ایک اور مماثلت پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں میں گھڑی میں تولہ اور گھڑی میں ماشہ ہونے کا خمیر بھی موجود ہے ۔ڈرامائی تاثر پیدا کرنا انکا عمدہ ترین ہتھیار ہے۔یہی ہتھیار انہیں بطور وزیر اعظم کئی بالا دست قوتوں کے ساتھ کام کرنے میں مدد دے سکتا ہے ۔ (nizamdaola@gmail.com )

مزید :

لائف سٹائل -مخفی علوم -