راﺅ انوار کی جانب سے نقیب محسود کو قاری احسان کا ساتھی قرار دیئے جانے پر ایڈیشنل آئی جی کالعدم تنظیم کے دہشت گرد سے تحقیقات کیلئے جیل پہنچ گئے ،آگے سے قاری احسان کا ایسا انکشاف کہ سن کر آپ کے پیروں تلے سے بھی زمین نکل جائے گی

راﺅ انوار کی جانب سے نقیب محسود کو قاری احسان کا ساتھی قرار دیئے جانے پر ...
راﺅ انوار کی جانب سے نقیب محسود کو قاری احسان کا ساتھی قرار دیئے جانے پر ایڈیشنل آئی جی کالعدم تنظیم کے دہشت گرد سے تحقیقات کیلئے جیل پہنچ گئے ،آگے سے قاری احسان کا ایسا انکشاف کہ سن کر آپ کے پیروں تلے سے بھی زمین نکل جائے گی

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )کراچی میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے وزیرستان کے رہائشی نقیب اللہ محسود کے قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو کراچی جیل میں قید دہشت گرد قاری احسان اللہ نے نقیب اللہ کو پہچاننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ساتھ کام کرنے والا  نقیب اللہ یہ نہیں ہے اور میں اسے نہیں جانتا اور نہ ہی کبھی اس سے ملا ہوں ۔

نجی ٹی وی چینل ’’دنیا  نیوز ‘‘ کے مطابق آئی جی سندھ کی قائم کردہ کمیٹی جس میں  ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی اور ڈی آئی جی ایسٹ شامل تھے  نے سینٹرل جیل کا دورہ کیا جہاں انہوں نے قاری احسان سے ملاقات کی اور نقیب محسود سے متعلق تحقیقات کیں۔تحقیات میں دہشت گرد  قاری احسان اللہ نے نقیب اللہ  محسود کی تصاویر دیکھنے کے بعد اسے شناخت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ساتھ کام کرنے والا نقیب اللہ یہ شخص نہیں ہے ۔تحقیقاتی کمیٹی نے قاری احسان کو نقیب اللہ کی 12 تصاویر دیکھائی گئیں جن میں اس کی شناختی کارڈ اور داڑھی کے بغیر تصاویر بھی شامل تھیں لیکن قاری احسان نے ان تمام تصاویر کو دیکھنے کے بعد اسے شناخت کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔دہشت گرد قاری احسان اللہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ  دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث  نقیب اللہ یہ شخص نہیں ہے،میں اسے نہیں جانتا اور اس سے کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی  ۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے ہاتھوں مرنے والے نقیب اللہ محسود کے قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی اس تفتیش کے بعد کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے اور امید ہے کہ دہشت گرد احسان اللہ سے ہونے والی تحقیقات کے بعد اس جعلی مقابلے کی گھتیاں سلجھ جائیں گی ۔قاری احسان اللہ سے ہونے والی تحقیقاتی کمیٹی کی تفتیش کی ویڈیو بھی بنائی گئی ہے تاکہ اس تفتیش کو ریکارڈ  کا حصہ بنایا جا سکے ۔واضح رہے کہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے دعوی کیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مرنے والا نقیب اللہ محسود دہشت گرد اور قاری احسان اللہ کا قریبی ساتھی اور اس کے مکمل رابطے میں تھا جبکہ  دہشت  گرد قاری احسان اللہ نے راؤ انوار کے دعوی کو مسترد کرتے ہوئے نقیب اللہ کو پہچاننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

دوسری طرف  نقیب اللہ محسود قتل کیس کے حوالے قائم 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے نیوز چینلز کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے تحقیقات میں میڈیا سے معاونت طلب کر لی ہے ،خط میں کہا گیاہے کہ میڈیا تمام تر دستیاب ڈیٹا ،ویڈیوز اور رپورٹ فراہم کرے ۔

مزید : قومی /علاقائی /سندھ /کراچی