طاہر القادری پاکستانی شہری نہیں ، سیاسی افرا تفری پھیلانے اور پارلیمنٹ کے خلاف دشنام طرازی کرنے پر سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے: شاہد خاقان عباسی

طاہر القادری پاکستانی شہری نہیں ، سیاسی افرا تفری پھیلانے اور پارلیمنٹ کے ...
طاہر القادری پاکستانی شہری نہیں ، سیاسی افرا تفری پھیلانے اور پارلیمنٹ کے خلاف دشنام طرازی کرنے پر سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے: شاہد خاقان عباسی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میری معلومات کے مطابق عوامی تحریک کےسربراہ طاہر القادری پاکستانی نہیں بلکہ کنیڈین شہری ہیں اور وہ پاکستان میں حکومت گرانے کی کوششیں کر رہے ہیں، آئین اور قانو ن کے دائرے میں اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کوئی غیر ملکی شہری پاکستان میں آکر بات کر سکتا ہے؟ اس حوالے سے جو بھی قانون ہوا تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام ”نیا پاکستان“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم طاہر القادری کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈال رہے تاہم عدالت یا کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی جانب سے ایسی تجویز آئی تو ہم اس پر عمل کریں گے، اس وقت میرے علم میں نہیں ہے کہ کیا کسی بھی غیر ملکی شہری کا نام ای سی ایل میں ڈالا جا سکتا ہے یا نہیں؟ طاہر القادری کے جلسے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی موجود تھے اور انہیں عدالت نے جلسہ کرنے کی اجازت دی تھی، پاکستان میں سیاسی افرا تفری اور پارلیمنٹ کے خلاف دشنام طرازی کرنے پر سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ طاہر القادری کی کوئی بھی سرگرمی خفیہ نہیں ہے ، وہ جو کچھ کر رہے ہیں سب کے سامنے ہے ، کیا ہم کسی غیر ملکی کو پاکستان کی سڑکوں پر احتجاج کی اجازت دے سکتے ہیں؟ کیا کوئی غیر ملکی شخص پاکستان کی پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے حوالے سے بیان بازی کر سکتا ہے؟ اس پر میں سیاسی اور قانونی لحاظ سے جائزہ لے رہا ہوں اور جو بھی قانون اس پر کہتا ہوگا ، اسی کے مطابق کارروائی ہوگی۔

قصور واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت قصور واقعے میں ملوث ملزمان کو پکڑنے کے لیے بھرپور طریقے سے کام کر رہی ہے اور مجھے اس واقعے میں ان کی کوئی کوتاہی نظر نہیں آتی، حکومت کی پوری کوشش ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں ملوث ملزمان گرفتار ہوں اور قصور میں پولیس کے اعلیٰ افسران روزانہ وہاں موجود ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمار اخیال تھا کہ تمام شواہد موجود ہیں اور ملزمان جلد گرفتار کر لئے جائیں گے مگر ہماری توقعات کے برخلاف ملزمان پکڑنے میں تاخیر ہو رہی ہے ،امید ہے کہ دستیاب شواہد پر قصور واقعے کا ملزم جلد پکڑا جائے گا۔وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ قصور واقعے میں تحقیقات کے لئےہم صوبائی حکومت کو وسائل مہیا کر سکتے ہیں،سی سی ٹی وی ویڈیو موجود ہے لیکن پھر بھی ملزم کو پکڑنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ  قصور میں احتجاج کے دوران فائرنگ نہیں ہونی چاہیے تھی، اس معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور ان پہلوﺅں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے جان کا خطرہ ہونے کی وجہ سے فائرنگ کی یا کچھ اور محرکات تھے؟۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی