’اس پاکستانی کو واپس نہ بھیجو‘ برطانوی حکومت نے اس پاکستانی کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا تو 30 ہزار برطانوی شہریوں نے احتجاج شروع کردیا کیونکہ۔۔۔

’اس پاکستانی کو واپس نہ بھیجو‘ برطانوی حکومت نے اس پاکستانی کو ملک سے ...
’اس پاکستانی کو واپس نہ بھیجو‘ برطانوی حکومت نے اس پاکستانی کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا تو 30 ہزار برطانوی شہریوں نے احتجاج شروع کردیا کیونکہ۔۔۔

  

برمنگھم(نیوز ڈیسک) بیرون ملک پاکستان اور اس کے شہریوں کا تاثر کچھ اچھا نہیں لیکن ہمارے ہی کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی محنت اور لگن سے ہر کسی کے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔ برطانیہ میں کام کرنے والے ڈاکٹر سید کاظمی بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں، جن کے خلاف برطانوی حکومت نے ٹیکس ادائیگی میں غفلت کے الزامات عائد کر کے ملک بدری کا حکم جاری کر دیا، مگر ہزاروں برطانوی شہری اپنی ہی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے لگے ہیں۔

ڈاکٹر کاظمی، جو کہ کوئین الزبتھ ہسپتال برمنگھم میں کام کرتے ہیں، نے ملک بدری کے احکاما ت کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جبکہ دریں اثناءان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا وسیع پیمانے پر مظاہرہ جاری ہے۔ ناصرف عام شہریوں کی جانب سے ان کے لئے بھرپور حمایت دیکھنے میں آئی بلکہ شعبہ صحت کے متعدد ڈاکٹروں نے بھی ان کی پیشہ وارانہ مہارت اور کام سے لگن کو مثالی قرار دیتے ہوئے ان کی ملک بدری کے فیصلے کی سخت مخالفت کی۔

اڑتیس سالہ ڈاکٹر کے ویزے کی تجدید کی درخواست گزشتہ ماہ ایچ ایم آر سی ٹیکس نادہندگی کے الزامات کی بناءپر رد کی گئی تھی۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ لوزیلز کے علاقے میں رہتے ہیں۔ اس صورتحال پر ان کا کہنا تھا ”مجھے این ایچ ایس (برطانوی محکمہ صحت) میں کام کرنا بہت پسند تھا اور دنیا کے مہذب ترین اور برداشت کے مادے سے بھرپور معاشرے میں کام کرنا میرے لئے خوشی کا باعث تھا۔ ایک مرتے ہوئے شخص سے لے کر ایک نومولود بچے تک میں نے اپنے کیریئر میں ہر طرح کے لوگوں کی خدمت کی ہے اور بہت کچھ سیکھا ہے۔ میری ملک بدری کے فیصلے نے مجھے پاش پاش کردیا ہے۔ میں یہاں رہنا چاہتا ہوں اور خدمات سرانجام دینا چاہتا ہوں۔ میں بے گناہ ہوں کیونکہ میں نے ارادتاً کوئی غلط کام نہیں کیا۔“

دوسری جانب برطانوی ہوم آفس کی جانب سے تصدیق کر دی گئی ہے کہ ڈاکٹر کاظمی کی ویزہ درخواست رد کردی گئی ہے، ایڈمنسٹریٹو ریویو کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے، اور 11 جنوری کے روز انہیں نوٹس بھی جاری کیا جاچکا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -برطانیہ -