’طالبان کے لیڈر ملا عمر کو 5 کروڑ روپے دئیے گئے تاکہ وہ کلبھوشن یادیو کو۔۔۔‘ وہ پاکستانی جس نے اپنے ہی ملک کے خلاف وہ بات کہہ دی کہ کوئی دشمن بھی نہیں سوچ سکتا تھا

’طالبان کے لیڈر ملا عمر کو 5 کروڑ روپے دئیے گئے تاکہ وہ کلبھوشن یادیو کو۔۔۔‘ ...
’طالبان کے لیڈر ملا عمر کو 5 کروڑ روپے دئیے گئے تاکہ وہ کلبھوشن یادیو کو۔۔۔‘ وہ پاکستانی جس نے اپنے ہی ملک کے خلاف وہ بات کہہ دی کہ کوئی دشمن بھی نہیں سوچ سکتا تھا

  

نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ اور دروغ گوئی بھارتی میڈیا خود تو کرتاہی رہتا ہے لیکن ایک بھارتی ٹی وی چینل کے انٹرویو میں ایک پاکستانی شہری نے جو کچھ کہا ہے وہ ضرور سب کے لئے حیرت کا باعث بنا ہے۔ یہ ویڈیو ٹی وی چینل ’سی این این نیوز 18‘ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ twitter.com/CNNnews18 پر پوسٹ کی ہے جس میں تنظیم ’انٹرنیشنل وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کا بانی ماما قدیر کچھ یوں گویا ہے:

’’ اسے (کلبھوشن یادیو کو) اغواء کرکے (ملا عمر) ماشکیل لایا۔ اس کے بعد پھر اس کو کوئٹہ لایا، کوئٹہ کے بعد پھر اس کو اسلام آباد لے گئے۔ اگر دیکھو بین الاقوامی عدالت انصاف کرے یا گواہی پیش ہونا ہو چاہے تو ہم گواہی بھی پیش کریں گے کہ کلبھوشن یادیو جو ہے نا وہ بالکل بے گناہ ہے بلوچستان میں۔‘‘ سی این این نیوز 18 کے مطابق ماما قدیر نے مزید کہا کہ ’’طالبان رہنما ملا عمر کو کلبھوشن یادیو کے اغواء کے لئے چار سے پانچ کروڑ روپے ادا کئے گئے تھے۔ ہم نے یہ سنا ہے۔‘‘

اس بے سروپا دعوے نے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا ہے اور ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ ایسی مضحکہ خیز کہانی گھڑنے کی آخر کیا ضرورت تھی۔ ایک انٹرنیٹ صارف کا کہنا تھا کہ ’’سی این این نے ماما قدیر کا انٹرویو بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لئے کیا ہے جو کسی لطیفے سے کم نہیں ہے۔‘‘

ایک اور صاحب کا کہنا تھا ’’2013ء میں مرنے والے ملا عمر نے 2016ء میں کلبھوشن یادیو کو اغوا کرلیا۔ یہ وہ راز ہے جو صرف ماما قدیر کو معلوم ہے۔‘‘

سہیل نامی انٹرنیٹ صارف نے لکھا ’’یہ سی این این کا بھارتی ورژن ہے۔ اس سے آپ کیا توقع کرسکتے ہیں۔‘‘

ایک اور صارف وقاص شاہ کاکا خیل کا کہنا تھا ’’گمراہ بھارتیو! ملا عمر کی موت اپریل 2013ء میں افغانستان میں ہوئی جبکہ کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016ء میں گرفتار کیا گیا۔ اس کی گرفتاری بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے ہوئی کیونکہ یہ پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھا۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس