سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر تنقید کا جواز؟

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر تنقید کا جواز؟
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر تنقید کا جواز؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں نثار ثاقب صاحب اپنی مُدتِ ملازمت پُوری کرکے کل اپنی مُلازمت سے سُبکدوش ہوگئے ہیں ۔اُن کے دور اور سربراہی میں بڑے بڑے اہم فیصلے ہوئے ہیں جن کے اثرات مُلک کی سیاست پر بڑے گہرے ہوں گے۔ جن کو مٹانا ہر گز آساں نہ ہو گا۔ اُنہوں نے کسی بھی سیاسی پارٹی کے سر براہ کو نہیں چھوڑا ۔ نواز شر یف، شہباز شریف، زرداری،عمران خان،ملک ریاض اور دوسرے کئی قد آور سیاست دانوں کو عدالت میں طلب کرکے اُن کے غلط کاموں کی وجہ سے اُن کی سر زنش کی ہے۔وُہ چاہتے تو اِن شخصیات سے صرفِ چشم بھی کر سکتے تھے لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ایسا رویہ اپنا کر انہوں نے اپنے دشمنوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے لیکن انہوں یہ سب کُچھ قانون کی بالا دستی قایم کرنے کے لئے ہی کیا ہے۔اب اُن کے نام کیساتھ ریٹائرڈ کا لفظ بھی لگ جائے گا۔ جس کا عملی طور پر یہ مطلب ہوگا کہ اَب وُہ عدالت میں کسی کو طلب نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی کی باز پُرس کر سکتے ہیں۔ اب عوام کی باری ہے کہ وُہ اپنے دل کی بھڑاس جیسے بھی چاہیں نکال سکتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ چڑھتے سورج کو سلام کیا ہے۔ اور بد قسمتی سے یہ ہمارا قومی مزاج بن چُکا ہے کہ ہم اہم شخصیت کی قابلیت اور اُنکی خد مات کو سراھنے کی بجائے اُ سکی ذات میں کیڑے نکال کر اپنی قابلیت اور اہلیت کا سکہ جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ٹی وی چینلیز کے کُچھ اینکر اور مبصرین خود ساختہ قانون دان جو مُختلف اخبارات میں کالم لکھتے ہیں وُہ ایسی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہیں جس کی ساری عُمر قا نون کی تشریح اور وضاحت کرتے گُزری ہے۔ میاں نثار ثاقب کی اگر کوئی کمزوری کہی جا سکتی ہے توُوہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ذات سے بھی زیادہ مُلک سے پیار کیا ہے۔ انہوں مُلک کی بھلائی کے لئے با اثر سخصیات پر ہاتھ ڈالا ہے جن کو آج تک مقدس گائے سمجھا جاتا تھا۔ شائد یہی ایک وجہ ہے جس سے وُہ مُتنازعہ بنے رہے ہیں۔ کیونکہ انہوں مُلک کے کرپٹ طبقے سے ہاتھ ملانا نہیں چاہا۔ انہوں نے اپنے انداز میں یہ سمجھانے اور بتانے کی کوشش کی ہے کہ قانون سب کے لئے برابر ہے۔ قانون کے سامنے سب ہی جوابدہ ہیں۔ لیکن سب سے بڑا کام جو انہوں نے کیا ہے وُہ یہ کہ انہوں نے بے بس،غریب اور پسے ہوئے عوام کے حقوق کے لئے جد وجہد کی ہے۔ انہوں دبے ہوئے اور غریب لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے مالی منفعت اور ذاتی مُفادات کو مُلک کے مُفادات پر تر جیح نہیں دِی۔ انہوں صاف صاف الفاظ میں دوسرے لیڈروں کے ساتھ حکومت پر بھی تنقید کی ہے۔ اُن کو بُرا بھلا بھی کہا ہے کیونکہ اُن کے نزدیک مُلک کی بہبود اور ترقی سب کے لئے اہم ہے۔ انہوں نے ہسپتالوں کے دورے کئے اور حکام کو سخت سُست کہا۔ کیونکہ وُہ مُلک کے نظام کو فعال اور منظم بنانے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ہمارے چند دوستوں کو اُنکا اسلوب پسند نہیں آیا۔ لہذا اُن کو الزام دیا جاتاہے کہ انہوں نے ایکٹیوجوڈیشلزم کی نہ صرف بُنیاد رکھی بلکہ اُسکو پروان بھی چڑھایا۔ سادہ الفاط میں اگر کہا جائے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے از خود نوٹس لیکر سیاسی، متمول اور با اثر شخصیات کو بے عزت کرنے اور اوراپنا رُعب جتانے کے لئے عدالت میں حاضر کرنے کے لئے اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کیا۔ 
ہم سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس صاحب نے اپنی ذات کے لئے یا اپنا رُعب جمانے کے لئے ایسا نہیں کیا۔ اُن کو اس بات کو بخوبی علم تھا کہ اُن کے جانے کے بعد اُن کے ہر حُکم پر تنقید کی جائے گی اور اُنکی شخصیت کو داغدار بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اظہار اپنی حالیہ تقریروں میں بھی کیا ہے۔اُن کو اپنی قوم کے نام نہاد لیڈروں کی ذہنیت اور سوچ کا بخوبی اندازہ ہے۔ اُن پر تنقید اس لئے بھی زیادہ ہو گی کہ انہوں نے چند بے رحم قسم کے فیصلے کئے ہیں۔ جن کی موجودہ ،ماضی اور حالیہ کے سیاست دانوں کو با لکل توقع نہ تھی۔ جب تک وُہ رہے انہوں نے اپنی رائے کا اظہار بیباک انداز میں کیا۔ لیکن بد قسمتی سے کسی بھی شخص نے اُن کے ذہن کو پڑھنے کی کوشش نہیں کی۔ وُہ چاہتے تو اربوں روپے لے کر ملک ریاض اور دوسرے کرپٹ سیاست دانوں کو کلین چٹ دے سکتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ اُن کہ خواہش تھی کے مُلک کے نظام کو درست راہوں پر ڈال دیا جائے۔ بیشک کرپٹ سیاست دان اُن سے خُوش نہ تھے۔ اِس کے علاوہ اُن کی ملازمت کے دوران وُہ چیف جسٹس کے اختیارات سے خائف تھے۔اِس لئے اُن کو موقع نہیں ملا کہ وُہ اپنی بات کھُل کر کہہ سکیں۔ لیکن زرداری صاحب نے اُن کی ذات پر شدید حملے کئے۔ لیکن اُنہوں نے نہایت بُردباری سے اُنکو سُنا لیکن انہوں نے زر داری یا دوسرے کرپٹ اور با اثر شخصیتوں سے انتقام نہیں لیا۔ ایک روز قبل ہی انہوں نے نیب کی جانب سے داخل کی گئی اپیل کو اس بُنیاد پر خارج کر دیا کہ نیب کے دلائل میں وزن نہ تھا۔ بنچ میں ایسے بھی محترم جج صاحبان موجود تھے جو ماضی میں نواز شریف، کیپٹن صفدر اور مریم نواز کے خلاف فیصلہ دے چُکے ہیں۔ لیکن ضمانتوں کو منسوخ کرنے کے سلسلے میں نیب کے پاس کوئی قانونی باوزن دلیل موجود نہ تھی جس کی بُنیاد پر اُن کی ضمانتوں کے خلاف اپیل کو منظور کیا جا تا۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ میاں نثارثاقب نے بنچ پر اپنا دباو نہیں ڈالا بلکہ بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب کے وکلاء بتا ئیں کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے ضمانت میں درکار کن قوانیں کو توڑا ہے؟ اس کے علاوہ چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ آئین خواتین کو اس سلسلے میں امتیازی اور خاص مراعات دیتا ہے۔
اُوپر بیان کی گئی ساری تفصیل کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص پر بلا امتیاز تنقید کی جا سکتی ہے لیکن تنقید دلائل کی بُنیاد پر ہونی چاہیے۔ ہمارے نزدیک یہ احمقانہ فعل ہے کہ تنقید برائے تنقید کی جائے۔ جج صاحبان بھی فرشتے نہیں ہیں۔ اُن سے بھی غلط فیصلے ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات اُن کے پاس پُوری تفصیلات مو جود نہیں ہو تیں یا پھر کسی دباو میں آ کر گواہ اپنے بیانات ایمانداری سے نہیں دیتے یا پھر پولیس رشوت لے کر حقائق کو مسخ کر دیتی ہے۔ ایسی صورت میں جج صاحبان سے دُرست فیصلے کی امید رکھنا زیادتی ہے۔ تاہم اگر کوئی فیصلہ غلط لکھا گیا ہے تو اُس کی د رستگی کے لئے بھی ایک طریقہ مو جود ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک روایت قایم ھو چُکی ہے کہ اگر عدالت کا فیصلہ ہمارے حق میں آ جاتا ہے تو ہم عدالت جج صاحبان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا یتے ہیں، بصورت دیگر، تام ججز اور عدالتوں کو ایک لمحہ میں کرپٹ اور جانبدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ لہذا یہ ضروری نہیں کہ ہر فیصلہ ہر ایک شخص کو پسند آئے۔ 

۔

نوٹ: یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے ۔

مزید :

بلاگ -