اللہ سے یاری سب پر بھاری ،بہترین وظیفہ

اللہ سے یاری سب پر بھاری ،بہترین وظیفہ
اللہ سے یاری سب پر بھاری ،بہترین وظیفہ

  

انسان فطری طور پر ضعیف العقیدہ ہے اس لئے وہ اللہ کی عطا کردہ خودی کو پہچان نہیں پاتا ۔اپنی اسی کمزور کی وجہ سے وہ جلد گمراہ ہوجاتا ہے ۔اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھنے والے اوہام پرستی کا شکار نہیں ہوتے نہ شرک کرتے ہیں ۔انسان اللہ سے تعلق جوڑنے کے لئے غیر محسوس انداز میں شرک کرتا چلا جاتا ہے ،اسے گمراہ کرکے دین سے دور کردیاجاتا ہے ،ایسا نہیں کہ اس کو اس راہ پر ڈالنے والا ہر عامل نیتاً ایسا کرتا ہے ۔ کوئی بھی روحانی معلم جو شریعت سے دورہوگا، جب مبلغ بن جاتا ہے تو انسانی وہموں کو بڑھانے کا سبب بن جاتا ہے ،وہ قرآن کے مطالعہ کا عادی بنانے کی بجائے کسی اور جانب لگا دیتا ہے۔ انسان کو انسان کی پرستش سے نکالنا ،اسکے سامنے سجدہ ریز ہوکر اسکو اپنا دنیاوی رب ماننا موجود دور میں تصوف کے نام پر رواج پاچکا ہے جسے کسی بھی مکتبہ فکر ومسلک کا عالم فاضل درست و جائز عمل نہیں سمجھتا ۔

انسان کو وہم پرستی اور ضعف سے بچانے کے لئے اللہ نے بارہا ارشاد فرمایا ہے کہ میں ہی تمہارا خیر خواہ،نگہبان اور بہترین دوست ہوں اور ہر لمحہ تمہاری شہ رگ سے زیادہ قریب ہوں۔جس روز یقین کی یہ لافانی قوت انسان کے دل میں پختہ ہوجاتی ہے انسان اوہام پرستی سے نکل کر وہ انسان بن جاتا ہے جو اللہ اس بندے میں دیکھنا چاہتا ہے۔نماز کو پختہ و مکمل کرنے ،قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کے علاوہ تنہائی میں سجدے میں اللہ کی گود میں سر رکھ کرباتیں کرنا، سسکنا اورمانگنا شعار بنالیں ،پھردیکھیں اللہ آپ کو اپنا کیسے بناتا ہے۔

حالت سجدہ میں’’سبحان اللہ مالک القدوس ،سبحان اللہ مالک الکفیل ،سبحان اللہ مالک الکریم‘‘ دل میں پڑھنے سے جو لذت ،سرور ،اطمینان ،اعتماد،یقین اور تحریک پیدا ہوگی،اسکو خود آزما کر دیکھ لیں۔آپ پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ دنیا میں اللہ کی یاری پھر کیسے سب پر بھاری ہوتی ہے۔(شاہدنذیر چودھری systemtoday14@yahoo.com)

مزید : روشن کرنیں