غذائی اجناس کی برآمدات 43فیصد بڑھ گئیں

غذائی اجناس کی برآمدات 43فیصد بڑھ گئیں

  



اسلام آباد(آن لائن)رواں مالی سال کے دوران غذائی اجناس کے شعبہ کی مجموعی ملکی برآمدات میں 42.93 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اسی طرح جولائی تا نومبر 2019ء کے دوران چاولوں کی برآمدات میں 69.90 فیصد جبکہ تمباکو کی برآمدات میں 67.68 فیصد اور سبزیوں کی برآمدات میں 50.34 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہی. ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے اعدادوشمار کے مطابق جاری مالی سال میں جولائی تا نومبر 2019ء کے دوران غذائی اجناس کے شعبہ کی مجموعی قومی برآمدات 2 لاکھ 75 ہزار 584 ملین روپے تک بڑھ گئیں جبکہ گذشتہ مالی سال میں جولائی تا نومبر 2018ء کے دوران برآمدات کا حجم ایک لاکھ 92 ہزار 806 ملین روپے رہا تھا اس طرح گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے دوران غذائی اجناس کے شعبہ کی مجموعی قومی برآمدات میں 82 ہزار 778 ملین روپے یعنی 42.93 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہی. پی بی ایس کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں جولائی تا نومبر 2019ء کے دوران چاولوں کی برآمدات ایک لاکھ 31 ہزار 121 ملین روپے تک پہنچ گئیں جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران برآمدات کا حجم 77 ہزار 177 ملین روپے رہا تھا اس طرح گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے دوران چاولوں کی برآمدات میں 53 ہزار 944 ملین روپے یعنی 69.90 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اور اسی طرح تمباکو کی برآمدات بھی 67.68 فیصد یعنی 733 ملین روپے کے اضافہ سے 1083 ملین روپے کے مقابلہ میں 1816 ملین روپے تک پہنچ گئیں. رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں جولائی تا نومبر 2019ء کے دوران سبزیوں کی برآمدات بھی 12 ہزار 932 ملین روپے تک بڑھ گئیں جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران برآمدات کا حجم 8 ہزار 602 ملین روپے رہا تھا اس طرح گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے دوران سبزیوں کی ملکی برآمدات میں بھی 4 ہزار 330 ملین روپے یعنی 50.34 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہی. اقتصادی امور کے ماہرین نے کہا ہے کہ غذائی اجناس کی برآمدات میں اضافہ سے قومی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہو گی بلکہ زرعی شعبہ کی مجموعی کارکردگی میں بہتری سے اقتصادی شرح نمو کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو گا جس سے اندرونی و بیرونی قرضوں پر انحصار میں کمی ہو گی۔

مزید : کامرس