تعمیراتی شعبہ کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ لائق ستائش ہے،میاں زاہد حسین

    تعمیراتی شعبہ کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ لائق ستائش ہے،میاں زاہد حسین

  



کراچی (اکنامک رپورٹر) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سوا لاکھ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرنے اور تعمیراتی شعبہ کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ لائق ستائش ہے جس سے شرح نمو بڑھے گی۔ دو ماہ کے اندر ایک لاکھ 29 ہزار افراد کو روزگار فراہم کرنے، نوکری کے حصول کا نظام سہل و سستا بنانے اور فاٹا و گلگت بلتستان کے افراد کے لئے ملازمتوں میں علیحدہ کوٹہ مختص کرنے کے اقدامات سے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سرکاری ملازمین کے زیر التواء معاملات جلد حل کرنے اور ریٹائر ہونے والے ملازمین کے پنشن کے معاملات ایک ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے جس پر عمل درآمد ہوا تو عوام کو بڑا ریلیف ملے گا کیونکہ ساری عمر ملک و قوم کی خدمت کرنے والوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد سالہا سال تک پنشن کے لئے دھکے کھانا پڑتے ہیں۔

اور انکا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

کئی افراد تو پنشن کی امید میں ہی مر جاتے ہیں اور انکے فنڈز پنشن مافیا کے کام آتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے گریڈ سترہ سے اکیس تک کے ڈھائی ہزار سے زیادہ افسران کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے کرپشن میں ملوث ہونے والے اہلکاروں و افسران کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ انھوں نے جتنی رقم وصول کی ہے اتنی ان سے وصول کرنا ضروری ہے چاہے انکی پنشن سے ہی کٹوتی کرنا پڑے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے تعمیراتی شعبہ کو سہولت دینے سے لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا، چالیس صنعتیں بحال اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آ ئے گی جبکہ میاں انجم نثار کی قیادت میں ایف پی سی سی آئی تعمیراتی شعبہ کے مسائل کو حل کرنے میں حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گی۔تعمیراتی شعبہ کو فعال بنانے کے لئے خام مال کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کا نوٹس بھی لیا گیا ہے جس سے اسکی قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے، کاروباری لاگت کم ہو جائے گی جبکہ اس اہم شعبہ کو بھی وہ فوائد حاصل ہو سکیں گے جو دیگر صنعتی شعبوں کو حاصل ہیں۔ تعمیرات کو ریگولیٹ کرنے والے اداروں میں تعمیراتی شعبوں کی نمائندگی سے صورتحال بہتر ہو جائے گی جبکہ اجازت نامے حاصل کرنے کا طویل اور مہنگا دورانیہ بھی کم ہو جائے گا، زمین اور تعمیرات کے تنازعات کے حل کے لئے خصوصی بینچوں کے قیام سے بھی صورتحال پر مثبت اثر پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ کی حوصلہ افزائی کے لئے اس پر فکسڈ ٹیکس عائد کیا جائے اور آباد کی مشاورت سے تعمیراتی شعبہ کے مسائل کوحل کیا جائے۔

٭٭٭٭٭

(خبرنمبر 195)…………

  بزرگ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو پنشن کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی اور لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی،چیئرمین ای او بی آئی 

کراچی (این این آئی)چیئرمین ای او بی آئی اظہر حمید نے ادارہ کے افسران کو تلقین کی ہے کہ بزرگ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو پنشن کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی اور لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بزرگ ملازمین ہمارے وطن کا قیمتی اثاثہ ہیں جنہوں اس ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا فعال کردار ادا کیا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ا ان کے ساتھ عزت و تکریم کے ساتھ برتاؤ کیا جائے۔ وہ صدر دفترکراچی میں اپیلیٹ اتھارٹی کے تحت بیمہ دار افراد اور ادارہ میں رجسٹر شدہ آجران کی اپیلوں کی سماعت کر رہے تھے۔ اس موقعہ پر ادارہ کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں صوبہ سندھ سے ملازمین کے نمائندہ شوکت علی بھی موجود تھے۔ اپیلوں کی سماعت کے پہلے مرحلہ میں علاقائی دفتر کریم آباد کے 8بیمہ دار افراد اورعلاقائی دفتر ناظم آباد کے 8 بیمہ دار افراد کے پنشن اپیلوں اور11آجران کی اپیلوں کی سماعت کی گئی۔ دوسرے مرحلہ میں علاقائی دفتر سٹی کے9بیمہ دار افراد کی پنشن اپیلوں اور علاقائی دفتر کورنگی کے 9آجروں کی اپیلوں کی سماعت کی گئی۔ جبکہ تیسرے مرحلہ میں علاقائی دفتر حیدر آباد میں حیدرآباد،کوٹری اور لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے10 بیمہ دار افراد اور ان کی بیوگان کی پنشن اپیلوں کی سماعت کی گئی۔ چیئرمین ای او بی آئی نے بیمہ دار افراد کی اپیلوں کو ہمدردی اور بغور سنا اور دستاویزی شہادتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے حق میں فیصلے صادر کئے۔جس پر بیمہ افراد میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ اگلے مرحلہ میں بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے بیمہ دار افراد اور آجران کی اپیلوں کی سماعت علاقائی دفتر حب(لسبیلہ) اور کوئٹہ میں منعقد ہوگی۔ اپیلیٹ اتھارٹی کے روبرو اپیلوں کی سماعت کے دوران عبدالاحد میمن ڈائریکٹرقانون اوررجسٹرار اپیلیٹ اتھارٹی نے چیئرمین ای او بی آئی کی معاونت کی۔دوران سماعت محمد نعیم شوکت ڈائریکٹر کوآرڈینیشن،علاقائی سربراہان مزمل کامل ملک(کریم آباد)،غلام عابد مری(ناظم آباد)، سید علی متقی شاہ(سٹی)،نوید فیاض(کورنگی)، عبدالقادر سومرو (حیدرآباد)،علی انور جمالی(کوٹری) اورمقبول احمد(لاڑکانہ) بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ ای او بی آئی کے کسی بھی علاقائی دفتر سے بیمہ دار فرد کے پنشن دعویٰ مسترد ہونے کی صورت میں ضعیف العمر ملازمین فوائد قانون مجریہ1976کے تحت اپیلوں کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔جس کے تحت کوئی بھی متاثرہ بیمہ دار فرد یا آجر کسی قسم کی فیس یا وکیل کے بغیر سادہ کاغذ پر درخواست کے ذریعہ اپنی شکایت کے ازالہ کے لئے کراچی،لاہور اور اسلام آباد میں اعلیٰ افسران کی سطح پر قائم ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی سے باآسانی رجوع کرسکتا ہے۔ جس میں متاثرہ بیمہ دار فرد اور آجران کے کیسوں کی بغور شنوائی کرکے کی ان کی مکمل دادرسی کی جاتی ہے۔ اس سطح پر بھی اپیل مسترد ہونے کی صورت میں بورڈ آف ٹرسٹیز کے تحت ای او بی قانون کی دفعہ35کے تحت قائم اپیلیٹ اتھارٹی ملک کے چھوٹے اور بڑے شہروں میں متاثرہ بیمہ دار افراد اور آجران کی اپیلوں کی سماعت کرتی ہے۔ جس میں بیشتر بیمہ دار افراد اور آجران کی شکایات کا میرٹ پرازالہ ہوجاتا ہے۔چیئرمین ای او بی آئی اظہر حمید نے اس موقعہ پر آجران سے اپیل کہ انہیں خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہیں ان کے ملازمین پر نگہبان مقرر کیا ہے۔لہذاء آجران کی قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی فریضہ سمجھتے ہوئے اپنے اداروں میں خدمات انجام دینے والے جملہ ملازمین کی ای او بی آئی میں رجسٹریشن کو یقینی بنائیں بلکہ ان کی مد میں باقاعدگی سے ای او بی آئی کو مقررہ کنٹری بیوشن کی ادائیگی کریں۔تاکہ ای او بی آئی کا پنشن فنڈ مستحکم ہوسکے اور ادارہ لاکھوں بزرگ پنشن یافتگان اور ان کے لواحقین کو پنشن کی فراہمی میں اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے۔

مزید : کامرس