22کروڑ عوام کو چندہزار ججز انصاف فراہم نہیں کرسکتے، اعظم سواتی

  22کروڑ عوام کو چندہزار ججز انصاف فراہم نہیں کرسکتے، اعظم سواتی

  



ایبٹ آباد(ڈسٹرکٹ رپورٹر) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی اموروسینیٹراعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ 22 کروڑ عوام کو چند ہزار ججز انصاف فراہم نہیں کر سکتے،پاکستان اشرافیہ کا ملک ہے جہاں انصاف سسکیاں لے کر چل رہا ہے،قانون اور دستور میں عام آدمی کے لئے آسانیاں صرف عبارت تک محدود ہیں،نظام کو سہل بنانے کی جنگ لڑ رہا ہوں عمران خان کا ایجنڈا اصلاحات کا ہے وکلاء سی پی سی بلز پر ہڑتال کی نظر ثانی کریں اور اپنی تجاویز دیں،حکومتی اتحاد قائم ہے ملک کے لئے خلوص نیت سے جدوجہد کر رہے،کرپشن معاشی اور معاشرتی اقدار کو ختم کررہا ہیاس ناسور کو ختم کئے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا،نواز شریف کو بھی ادھورے مقدمات کا سامنا کرنے کے لئے واپس لائیں گے،نیب کرپشن ختم کرنے میں ناکام ہے کیسے کتنے اہم مقدمات میں لوگ چھوٹ جاتے ہیں،وہ ہفتہ کے روز یہاں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ایبٹ آباد کی جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ لائبریری اور ای لائبریری کی افتتاح تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے،تقریب میں کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر السلام، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسد خان جدون،عبدالعزیز تنولی نے بھی خطاب کیا،وفاقی وزیر اعظم سواتی کا کہنا تھا وکلاء عام آدمی کے لئے آٹھ کھڑے ہوتے ہیں اپنی سوچ کو محدود نہ کریں اور انسانیت کے لئے کام کریں،انہوں نے کہا کہ ترقی ممالک بالخصوص یو ایس اے میں 76 فیصد مقدمات دو وکلاء بیٹھ کر حل کرتے ہیں اور عدالت کے ججز صرف دن میں دو مقدمات سنتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ججز پر روزانہ 30 سے 35 مقدمات کا بوجھ ہو تا ہے،نظام میں اصلاحات لائے بغیر بہتری ممکن نہیں ملک کو معاشی اور معاشرتی گرداب سے نکالنے کے لئے حکومت کا سہارا بنیں،انہوں نے کہا کہ یہ ملک انصاف کے لئے بنا ہے ریاست اور عام آدمی میں ایک رشتہ ہے جو عبارت تک محدود ہے،انہوں نے اعتراف کیا عمران خان کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں وہ روزانہ 12 سے 14 گھنٹے کام کرتے ہیں اگر سیاسی نظام میں بہتری نہ لاسکے تو اس کے ذمہ دار وہ اکیلے نہیں بلکہ کابینہ بھی ہوگی،عمران خان ملک کے لئے مخلص ہو کر جدوجہد کر رہے ہیں نظام کی تبدیلی میں اصلاحات پر سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے سے دشواری کا سامنا ہے جو 12 مارچ 2021 تک برقرار رہے گا،انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ نیب کرپشن کو ختم کرنے لئے بنا ہے کیسے اہم مقدمات میں لوگ چھوٹ جاتے ہیں،ملک کو بچانے کے لئے کرپشن ختم کرنا ہوگی،انہوں نے قبل ازیں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی ای لائبریری کا افتتاح کیا اور صوبائی حکومت سے اور اپنی حثیت میں ضروریات پوری کرنے کا عندیہ دیا اور خواتین وکلاء کے لئے لیب ٹاپ فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا،اور وکلاء کو سی پی سی اصلاحات میں ہڑتال پر نظر ثانی کرنے اور بہتری اور تحفظات کی تجاویز بھی دینے پر زور دیا اور موجودہ ناکارہ سسٹم کو بدلنے میں وکلاء کو کردار ادا کرنے کی اپیل کی، قبل ازیں ڈیجیٹل لیب کی فائر علی راجہ نے ملٹی میڈیا بریفنگ دی اور صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسدجدون نے اپنے خطاب میں کہاکہ وقت کے ساتھ بارکو جدید سہولیات سے آراستہ کررہے ہیں تاکہ وکلاء جدید ریسرچ سے استفادہ حاصل کر سکیں،ای لائبریری کا قیام اسی سلسلہ کا ایک قدم ہے،انہوں نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کی ہزارہ ڈویژن کے لئے علمی خدمات کو سراہا، انہوں نے وفاقی وزیر کو وکلاء کی ہڑتال پر روشنی ڈالتے ہوئے تجویز دی وہ صوبائی حکومت کی قانون سازی اصلاحات پر حکومت وکلاء کی جانب سے تحفظات سے آگاہ کریں،

مزید : پشاورصفحہ آخر