حکومت آئی ایم ایف تلے دب چکی انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں: سراج الحق

حکومت آئی ایم ایف تلے دب چکی انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں: سراج الحق

  



بھمبر (آئی این پی) جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے کل پیداوارکا 91فیصد قرض لے لیا ہے جو کہ معاشی قتل ہے جبکہ قانون یہ ہے کہ کوئی بھی حکومت 71فیصد سے زیادہ قرض نہیں لے سکتی، یہ معاشی خود کشی ہے تباہی ہے اور یہ آئندہ نسلوں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، اگر ایک آدمی بجلی کا بل ادا نہ کرے تو آپ اسکو تین مہینے کے لئے جیل میں ڈال دیتے ہیں لیکن آپ نے ہمارے کندھوں پر قرضوں کا کوہ ہمالیہ رکھ دیا اور ہمارے موجودہ اور آئندہ نسلوں کو قرضوں کی زنجیروں میں جکڑ دیا مجھے یہ بتایا جائے کہ اس ایکٹ کی خلاف وزری پر کون ذمہ دار ہے اور کون جیل میں جائے گا لیکن افسوس ان کے پاس کوئی جواب نہیں، یہ حکومت آئی ایم ایف تلے دب چکی انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں ہم نے صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت میں بطور وزیر خزانہ رہتے ہوئے صوبہ کو قرض فری کر دیا تھا جس پر اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے صوبہ کو انعام کے طور پر بھاری رقم ادا کی تھی ہمارے ساتھ یہی اختلاف ہے کہ ہم اسلام کی بات کرتے ہیں اور امریکی احکامات کو نہیں مانتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھمبر میں رحمان چلڈرن ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں بحثیت مہمان خصوصی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے فیتہ کاٹ کر ہسپتال کی نئی بلڈنگ کا افتتاح کیا، تقریب میں تمام مکتبہ فکر کے لوگوں سول سوسائٹی، صحافیوں، اور ڈاکٹرز کی کثر تعداد نے شرکت کی، قبل ازیں ایم ڈی رحمان چلڈرن ہسپتال ڈاکٹر عبدرحمان نے استقبالیہ کلمات ادا کئے اور مہمانوں اور شہریوں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا، سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھمبر کی سرزمین اس لحاظ سے زرخیز ہے کہ یہاں لوگوں کی صحت کے حوالے سے سہولیات پر مشتمل ہسپتال موجود ہیں جہاں لوگ صحت کی بہتر سہولیات میسر آرہی ہیں اور مذید آئیں گی جس میں اس نئے بننے والے ہسپتال کا اضافہ بھی شامل ہے۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر