مقبوضہ کشمیر، کرفیو جاری، سردی میں شہریوں کو گھروں سے نکال کر شناخت پریڈ

  مقبوضہ کشمیر، کرفیو جاری، سردی میں شہریوں کو گھروں سے نکال کر شناخت پریڈ

  



سرینگر،جموں،نیو یارک(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)وادی کشمیر میں ہفتہ کو مسلسل 167ویں روز بھی بھارت کی طرف سے نافذ کردہ فوجی محاصرہ اور انٹرنیٹ پر پابندی بدستور جاری رہی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ضلع بڈگام کے علاقے چاڈورہ میں وسیع پیمانے پر گھر گھر تلاشی کی کارروائی کی جس کے باعث علاقے کے لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز، سینٹر ل ریزرو پولیس فورس اور پولیس نے چاڈورہ کے آرم محلہ کے تمام داخلی اور خارجی راستے سیل کر نے کے بعد لوگوں کو گھروں سے باہر نکالا اور ایک جگہ جمع کرنے کے بعد ان کی شاختی پریڈ کروائی۔ اس دوران گھروں کی بھی باریک بینی سے تلاشی لی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق جدید ہتھیاروں سے لیس فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے اہلکاروں نے گاؤں میں اچانک داخل کر لوگوں کو گھروں سے باہر آکر ایک جگہ جمع ہونے کا حکم دیا۔ قابض بھارتی فورسز اہلکاروں نے اس دوران کسی کو گاؤں میں داخل نہیں ہونے دیا اور نہ یہاں سے کسی کو باہر جانے کی اجازت دی۔ بھارتی فوج کے تلاشی آپریشن کی وجہ سے بستی میں سخت سراسیمگی پھیل گئی۔مقبوضہ کشمیر میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھارتی فوج کے سابق سربراہ اور موجودہ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کشمیری نوجوانوں کیلئے نازی طرز کے عقوبت خانے قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنرل راوت نے نئی دلی میں ایک کانفرنس سے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ کشمیری نوجوانوں میں انتہا پسندی کو فروغ دیا جا رہا ہے جن کی نشاندہی کرکے انہیں انتہا پسندی ختم کرنے والے کیمپوں میں ڈالا جانا چاہیے۔انسانی حقوق کے کارکنوں اور کشمیری دانشوروں نے امریکی اخبار ”نیو یارک ٹائمز“ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل راوت کے الفاظ سے انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت کشمیری عوام کو کس نظر سے دیکھتی ہے اور یہ پریشان کن واقعات کے ایک نئے سلسلے کا باعث بن سکتا ہے۔ ممتاز کشمیر ی تاریخ دان صدیق واحد نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ جنرل راوت نے تعذیب خانے قائم کرنے کا عندیہ دیاہے۔ سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر نور احمد بابا نے کہا کہ بھارت اب کشمیر میں تمام سیاسی اختلافات کو کچلنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ ایسے کیمپس قائم کرنے کی جس کا عندیہ جنرل راوت نے دیاہے۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن ساکت گوکھلے نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ انہوں نے بھارت میں تعذیب خانوں کے بارے میں سنا ہے۔ادھر جموں خطے میں ضلع ادھمپور کے علاقے رحمبل میں قائم ایک فوجی کیمپ میں ایک بھارتی فوجی نے اپنی سروس رائفل سے خود کشی کرلی ہے۔اس واقعے سے مقبوضہ کشمیر میں جنوری 2007 سے خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر444ہوگئی ہے۔ جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلا ف کشمیریوں کے احتجاج کے خوف سے کشمیر کافوجی محاصرہ کیا،علاقے میں پابندیاں نافذ کیں اور لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کی جنوب ایشیا امور کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے تنظیم کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پانچ ماہ سے محاصرے میں ہے اور اگرچہ حکومت نے گزشتہ برس اگست میں عائد کی جانے والی پابندیوں میں سے کچھ کو آسان بنانے کے لئے کچھ محتاط اقدامات کیے ہیں تاہم یہ اقدامات کشمیریوں کے حقوق بحال کرنے کے حوالے سے تاہم ناکافی ہیں۔میناکشی گنگولی نے کہا کہ گرفتار کئے گئے ہزاروں افراد میں سے کچھ وکلا، دکانداروں، تاجروں، طلبا، حقوق کے کارکنوں اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ آئندہ حکومت پر تنقید نہیں کریں گے۔

کشمیر

مزید : صفحہ اول