لاہور ٹرانسپورٹ بحال کریں، اہل لوگوں کو انتظام دیں!

لاہور ٹرانسپورٹ بحال کریں، اہل لوگوں کو انتظام دیں!

  



ملک اس وقت ایک سے زیادہ بحرانوں کا شکار ہے۔ ان میں ٹرانسپورٹ مسئلہ بھی بہت اہم ہے۔ کراچی میں گرین لائن چل کر نہیں دے رہی۔ پشاور میں میٹرو کا کام ہی مکمل نہیں ہوتا اور لاہور میں اگر اورنج میٹرو ٹرین کے چلنے کی تاریخ دے دی جاتی ہے تو پہلے سے حاصل سہولت تمام ہو چکی ہوتی ہے۔ لاہور میں سرکاری سطح پر میٹرو اور سپیڈو سے پہلے لاہور ٹرانسپورٹ بنائی گئی، اس کے بیٹرے میں قریباً چار سو نئی بسیں شامل ہوئیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ اس سہولت کا بیک اپ بھی ہو گا اور دو سو مزید بسیں راہ داری میں، یہ تمام بسیں ایئرکنڈیشنڈ تھیں اور شہر کے ایسے روٹوں پر چلائی گئی تھیں جو عام آدمی اور کارکنوں والے تھے، اس کے کرائے بھی مناسب رکھے گئے۔ مزید برآں ساٹھ سالہ افراد کو ایک سو روپے والے کارڈ کے عوض تین سال تک مفت سفر والی سہولت مہیا کی گئی۔ چنانچہ شہری مستفید ہوئے اور بسیں بھی بھری ہوئی چلنے لگیں۔ مطمئن لوگوں کو یہ بھی آس تھی کہ اس سہولت میں مزید اضافہ ہوگا لیکن ہوا یہ کہ یہ چلتی ہوئی بسیں بتدریج خراب ہونے لگیں۔ سب سے پہلے ایئرکنڈیشنر متاثر ہوئے، اس کے بعد ٹوٹ پھوٹ شروع ہوئی۔ اندر سے بسوں کی نشستیں اور راڈ، روشنیاں اور دروازے خراب ہونا شروع ہو گئے، بسیں پھر بھی چلتی رہیں اور مسافر سفر کرتے رہے۔ پھر تبدیلی آ گئی اس سرکار کی طرف سے سبسڈی بند کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پھر یہ بتایا گیا کہ لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی میں بھرتی زیادہ کر لی گئی اب قریباً دو ماہ سے یہ بسیں بند پڑی ہیں اور جب ایسا ہو تو پھر چالو بسیں ناکارہ اور کوڑا بھی بن جاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کو زیادہ بہتر انتظام کے ساتھ اور خراب بسوں کی درست مرمت کے بعد چلایا جائے لیکن اس طرف کسی کی توجہ نہیں، اب سارا بوجھ میٹروبس اور سپیڈو پر ہے۔ یہ بسیں ابھی تک بہتر ہیں، تاہم کسی نہ کسی بس کے کسی نہ کسی حصے کی خرابی والی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں، خیال کیا جاتا تھا کہ لاہور ٹرانسپورٹ کی بسوں میں اضافہ ہو گا تو میٹرو اور سپیڈو کی تعداد بھی بڑھے گی اور جب اورنج ٹرین چلے گی تو مزید سہولت ہو جائے گی لیکن ایسا ہونا اب شائد خواب بن جائے کہ چار سو بسیں بند ہو چکیں، اس سے کتنا مالی نقصان ہو گا وہ اپنی جگہ ہے جبکہ ملازمین کی بے روزگاری اپنی جگہ ہوگی۔ اس شہر نے یہاں اومنی بس جیسی مقامی سروس اور پنجاب ٹرانسپورٹ جیسی بہترین انٹرسٹی سروس بند ہوتے اور برباد ہوتے دیکھی ہے۔ کسی کو یہ توقع نہیں تھی کہ اب لاہور ٹرانسپورٹ کے ساتھ ایسا ہو گا۔ ہم گورنر پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب کی توجہ اس طرف دلا کر اپیل کرتے ہیں کہ وہ لاہور ٹرانسپورٹ سروس کو بحال کریں، اس کا انتظام ہنر مند(انجینئرز) کے ہاتھ میں دیں اور ایسا ہی میٹرو اور سپیڈو کے ساتھ بھی سلوک کریں تو شائد بچت ہو جائے۔

مزید : رائے /اداریہ