آٹے کا بحران: عثمان بزدار سے مطمئن کپتان

آٹے کا بحران: عثمان بزدار سے مطمئن کپتان
آٹے کا بحران: عثمان بزدار سے مطمئن کپتان

  



ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ پنجاب میں آٹے کا جو بحران پیدا ہونے والا ہے، وہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو لے بیٹھے گا۔ مَیں نے کہا، بحران کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، عثمان بزدار کو کچھ نہیں ہونے والا، کیونکہ عمران خان نے عثمان بزدار کو اپنی ضد بنا لیا ہے۔ اسی دوران ٹی وی چینلوں پر یہ بریکنگ نیوز چلنے لگی کہ وزیر اعظم عمران خان نے عثمان بزدار کے خلاف تمام شکایات مسترد کر دی ہیں اور مسلم لیگ (ق) کے اتحادی رہنماؤں کے الزامات کو بھی رد کر دیا ہے۔ گویا انہوں نے پھر یہ واضح کر دیا کہ جب تک تحریک انصاف کی حکومت ہے، عثمان بزدار ہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہیں گے…… پنجاب میں آٹے کا بحران واقعی ایک بڑی شرمندگی کی بات ہے،کیونکہ پنجاب تو گندم پیدا کرنے والا صوبہ ہے، یہاں سے دوسرے صوبوں کو بھی گندم اور آٹا سپلائی ہوتا ہے، اس کے باوجود اگر کوئی سمجھتا ہے کہ آٹے کا بحران عثمان بزدار کے اقتدار کو لے ڈوبے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے…… وزیر اعظم عمران خان نے جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی ڈیوٹی لگا دی ہے کہ وہ آٹے کے بحران کو ختم کرائیں۔ اس پر بعض حلقے ہنس رہے ہیں کہ یہ دونوں تو چینی کے بادشاہ ہیں، انہیں آٹا بحران کی ذمہ داری کیوں سونپی گئی ہے؟ تاہم کپتان کو پتا ہے کہ کس کھلاڑی کو کہاں کھلانا ہے؟ جہانگیر ترین تو ویسے بھی کپتان کے ہر فن مولا کھلاڑی ہیں۔ ناراض اتحادیوں کو راضی کرنا ہو یا کسی بل کو پاس کرانے کے لئے اراکین پورے کرنے ہوں، جہانگیر ترین امرت دھارا ثابت ہوتے ہیں۔ آٹے کے بحران کو حل کرنا ان کے لئے کون سا مشکل کام ہے۔ یہ کمک گویا عمران خان نے عثمان بزدار کو کسی مشکل سے بچانے کے لئے بھیجی ہے۔

پنجاب میں آٹے کا بحران کیوں پیدا ہوا ہے؟ اس بارے میں حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور گھوم پھر کر نزلہ بری گورننس پر گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پنجاب میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے اور فلور ملوں کو اس کی سپلائی بھی جاری ہے۔ فلور ملز بھی اپنی پوری استعداد کے مطابق چل رہی ہیں، لیکن آٹا ناپید ہو چکا ہے یا اس کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ کل مَیں ایک کریانہ شاپ پر کھڑا تھا، وہ میرا جاننے والا ہے، میرے سامنے دو تین گاہک آٹے کا تھیلہ لینے آئے، اس نے تھیلے ختم ہونے کا کہہ کر انہیں واپس بھیج دیا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس کے گودام میں آٹا پڑا ہے۔ مَیں نے پوچھا یہ کیوں کر رہے ہو؟ اس نے راز دارانہ انداز میں جواب دیا کہ حکومت نے بیس کلو آٹے کا تھیلہ 810 روپے میں بیچنے کی پابندی لگا رکھی ہے، جبکہ ملوں کی طرف سے یہ ہمیں 830 روپے کا سپلائی کیا جا رہا ہے۔ اردگرد چھپے ہوئے مجسٹریٹ صاحبان اپنے کارندے بھیجتے ہیں، اگر انہیں دس روپے بھی مہنگا دیں تو فوراً مجسٹریٹ صاحب آ جاتے ہیں اور ہزاروں روپے جرمانہ کر دیتے ہیں، اس لئے ہم کسی اجنبی کو آٹا نہیں دے رہے۔ پھر اس نے کہا کہ سارا زور دکانداروں پر چلتا ہے، ملز مالکان جو زائد قیمت وصول کر رہے ہیں، انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا، کیونکہ فی ٹرک کے حساب سے ان کا انتظامیہ سے مک مکا ہے۔ اب اس کی باتوں میں کتنی سچائی تھی؟ اس کا تو علم نہیں، تاہم یہ بات درست ہے کہ اگر آپ پرچون فروشوں کو نشانہ بنائیں گے اور بڑے مافیاز کو چھوڑ دیں گے تو مارکیٹ میں آٹا نایاب ہو جائے گا۔

ابھی کل ہی خبر آئی ہے کہ پنجاب حکومت نے فلور ملز مالکان پر کروڑوں روپے جرمانہ کیا ہے اور کئی ایک کے تو لائسنس بھی منسوخ کر دیئے ہیں۔ بہت سی ملوں کا سرکاری گندم کا کوٹہ ختم کر دیا ہے۔ کیا ان اقدامات سے صوبے میں آٹے کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے؟ جتنی زیادہ ملیں بند ہوں گی، اتنا ہی سپلائی میں کمی آئے گی۔ ملوں کو تو چلنا چاہئے، تاہم جو ہیرا پھیری ہو رہی ہے، اسے روکا جانا چاہئے۔ محکمہ خوراک کے چند افسروں کو اِدھر ُادھر کرنے سے بھی بات نہیں بنے گی۔ وہ دوسری جگہ جا کر وہی کام شروع کر دیں گے۔ آٹے کی سمگلنگ بھی ایک بہت بڑا سبب ہے۔ یہ آٹا خیبرپختونخوا، پھر افغانستان سمگل ہو جاتا ہے، حالانکہ ملوں کو سرکاری گندم کا کوٹہ پنجاب میں سپلائی کے لئے ملتا ہے۔ کہنے کو وزیر اعظم عثمان بزدار نے یہ حکم جاری کر دیا ہے کہ صوبے میں کسی بھی جگہ آٹے کی فراہمی بند نہیں ہونی چاہئے، لیکن بحران تو سر اٹھا چکا ہے، اس کا فی الوقت کوئی مؤثر تدارک بھی ممکن نظر نہیں آ رہا۔ خوف و ہراس پھیلانے سے تو صورت حال کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ اصل کام تو یہ ہے کہ وہ سوراخ بند کئے جائیں جو ایسے بحرانوں کو جنم دیتے ہیں۔ صوبے کے ہر ضلع کے لئے طلب و رسد کا تعین ہونا چاہئے۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں، لیکن سیاسی اثرورسوخ اور کرپشن کی وجہ سے اس نوعیت کا کوئی کام پایہئ تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ محکمہ خوراک کے افسروں اور ڈپٹی کمشنروں میں کوئی باہمی رابطہ نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اوقات یہ ایک دوسرے کے متحارب کھڑے نظر آتے ہیں، جس سے بد انتظامی جنم لیتی ہے، اس کا فائدہ ذخیرہ اندوز اور مہنگائی کو کمائی کا ذریعہ بنانے والے اٹھاتے ہیں۔

حکومت کی معاشی کارکردگی پہلے ہی اس کی عدم مقبولیت کا بڑا سبب بنی ہوئی ہے۔ ٹماٹر نایاب ہوئے تو کہا گیا کہ دہی سے گزارا کر لیں۔ چینی مہنگی ہوئی تو مشورہ دیا گیا کہ کم استعمال کریں، شوگر کا باعث بنتی ہے۔ سبزیاں مہنگی ہوئیں تو دالیں کھانے کو کہا گیا، دالیں مہنگی ہوئیں تو سبزیوں کا راستہ دکھایا جاتا رہا، مگر آٹا مہنگا ہو گیا ہے تو اب غریبوں کو کیا مشورہ دیا جائے گا؟ کیا ان سب کو یہ کہا جائے کہ وہ گھروں کو چھوڑ کر لنگر خانوں کا رخ کریں، جو حکومت نے مختلف شہروں میں قائم کر دیئے ہیں۔ آٹا وہ شے ہے، جس سے غریب آدمی اپنا پیٹ بھرتا ہے۔ سالن نہ بھی ہو تو سوکھی روٹی اسے زندہ رکھتی ہے، اب اگر یہ روٹی بھی اس کی دسترس سے نکل جاتی ہے تو وہ کیا کرے گا، کیا پتھروں سے پیٹ بھرے گا؟ دوسری طرف حکومت لاکھوں ٹن گندم درآمد کرنے کی نوید سنا رہی ہے۔ یہ گندم تو نجانے کب پہنچے گی؟ روٹی تو آج کا مسئلہ ہے، اسے تو آج ہی یقینی بنایا جانا چاہئے۔ یوں لگتا ہے کچھ مافیاز اس نظام میں سرگرم ہیں، جو بیٹھے بٹھائے ایسا بحران پیدا کر دیتے ہیں کہ حکومت کی رہی سہی ساکھ بھی تباہ ہو جاتی ہے۔ پہلے ہی بجلی، گیس، پٹرول کے مہنگا ہونے پر عوام کی حالت قابل رحم ہو چکی ہے، اب انہیں آٹے کی فکر بھی لاحق ہو گئی ہے۔ حکومتی ادارے آخر کس خمار و غبار میں مبتلا ہیں کہ انہیں آنے والے بحرانوں کی خبر تک نہیں ہوتی۔

پیش بندی کرنا تو کجا، وہ افتاد ٹوٹ پڑنے کے بعد بھی کوئی ریلیف دینے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ حیرت ہے کہ آٹے کے بحران پر حکومت کے اتحادی بھی تنقید کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) تو اسے سیدھا سادہ پنجاب حکومت کی بری گورننس کا کیا دھرا قرار دے رہی ہے۔ مراد یہی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک ناکام وزیر اعلیٰ ہیں، جو صوبے میں گندم اور آٹے کے بحران پر بھی قابو نہیں پا سکے۔ اُدھر فواد چودھری جیسے حکومتی وزراء بھی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ عثمان بزدار کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس پر حیرت اس لئے ہوتی ہے کہ خود وزیر اعظم عمران خان تو یہ کبھی نہیں کہتے کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی بری ہے، نہ ہی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عثمان بزدار کی وجہ سے ان کی حکومت کسی تنقید کا سامنا کر رہی ہے؟ وہ تو آج بھی عثمان بزدار کا کندھا تھپتھپا رہے ہیں …… تو کیا یہ سمجھا جائے کہ پنجاب میں بحران جان بوجھ کر پیدا کئے جاتے ہیں تاکہ کپتان پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ عثمان بزدار سے جان چھڑا لیں۔ کیا ایسی تدبیریں کامیاب ہو سکتی ہیں؟ یا عثمان بزدار کپتان کے اعتماد کی چھتری تلے اسی طرح محفوظ و مامون رہیں گے؟

مزید : رائے /کالم