لندن پلان

لندن پلان
لندن پلان

  



بڑی خاک اڑائی جارہی ہے، اسلام آباد کے بہت اونچے اونچے گھروں میں انتہائی بے چینی ہے، ہرجانب ایک ہی بات پوچھی جارہی ہے……”لندن میں کیا ہورہاہے“؟…… کئی روز بحث کا سلسلہ چلتا رہا،کچھ سیانوں نے بتایاکہ وہاں توسازش ہورہی ہے، حکومت کو ہٹانے کی منصوبہ بندی چل رہی ہے، شریف برادران لندن میں بیٹھ کر جوڑ توڑمیں مصروف ہیں ……پھراجلاس پر اجلاس ہونے لگے۔ ایک دوسرے کو معاملے کی سنگینی سمجھائی جانے لگی۔ حقیقت یہ رہی کہ ابھی تک کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوپارہا کہ سازش کیا ہورہی ہے؟ اگر سازش کا محورحکومت ہے تو اس کا طریقہ کار کیا ہوسکتاہے؟ مسلم لیگ (ن) کے پاس پتّے کون سے ہیں؟ اور وہ ان پتّوں کے ساتھ کس طرح کھیل سکتی ہے؟ ابھی تک اس حوالے سے محض اندازے ہی لگائے جارہے ہیں،

البتہ حامدکرزئی کی ملاقات پر گھنٹیاں بجیں اور ہر طرف الارم سنائی دینے لگے، خطرے کی سمت بھی سجھائی دینے لگی۔ عمران خان نے کوشش کی کہ وہ مقتدرحلقوں سے معلومات حاصل کر سکیں، لیکن تادم تحریر انہیں ایسی معلومات نہیں مل سکیں، اب وہ فوری طورپر پوچھ بھی نہیں سکتے تھے، کیونکہ اس طرح پریشانی عیاں ہوجاتی اور کمزوری ظاہر ہونے لگتی۔ وہ اس مرحلے پر ابھی خود کو مضبوط دکھانے کے خواہاں ہیں اور نہیں چاہتے تھے کہ کمزوری سامنے آئے، لیکن ہرطرف گھوڑے بھی دوڑا دئیے گئے، تاکہ کہیں سے کچھ پتہ چل سکے کہ آگ کہیں لگی ہے تو کہاں؟……اور پیش بندی کی جاسکے۔

پریشانی بڑھتی جارہی ہے، اس پریشانی کوکچھ لوگوں تک محدود رکھا گیا ہے اور بحث بھی کھل کرنہیں کی جارہی۔ اس کی وجہ اپنی پارٹی کو کسی ممکنہ انتشار سے بچانا ہے۔ پنڈی والے ”پنڈت“ نے یہ مشورہ دیاہے کہ معاملے کو پارٹی میں زیربحث نہ آنے دیا جائے، ورنہ لوگ کسی اور طرف دیکھنا شروع کردیں گے۔ ہر کوئی اپنے اپنے کونے ڈھونڈلے گا، اس لئے نہ تو پریشانی ظاہر ہونے دی جائے اور نہ ہی پریشانی کی بات کھلنے دی جائے۔جن لوگوں کی حدتک معاملہ زیربحث ہے، ان کے درمیان پریشانی اب ہیجانی کیفیت کا روپ دھار رہی ہے،اس کا اظہارفیصل واؤڈا کی وہ حرکت ہے جو ایک ٹی وی شومیں سب نے دیکھی۔ دراصل یہ حرکت جوابی وار کے طور پر کی گئی اور جو سمجھ میں آیا کردیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو دباؤ میں لایاجائے،

ان کے ناراض لوگوں کو مزید بھڑکایا جائے اور آگ پر تیل گرایاجائے، تاکہ حدت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی محسوس ہو، مبادا یہ حدت پی ٹی آئی کی صفوں کو پگھلانا شروع کردے۔اب غلط یوں ہوا کہ یہ کام فیصل واؤڈا جیسے ناتجربہ کار سیاسی اداکار نے اپنے ذمے لے لیا، جسے راناثناء اللہ نے بجا طورپر جوکر کہا۔ اب لینے کے دینے پڑگئے ہیں۔ ایک ایسے ٹی وی چینل پر بلنڈر کھیل دیا گیا جو پی ٹی آئی کا چینل کہلاتاہے اور بلنڈر کو اینکر بھی نہ سنبھال سکا، گیم ہاتھ سے نکل گئی، لعن طعن اُلٹ رُخ اختیار کر گئی، حکومت اور چینل دونوں کو غیرمتوقع شرمندگی کا سامنا کرنا پڑگیا۔ اگر فیصل واؤڈا کا ڈرامہ کامیاب رہتا تو اس طرح کے اور بھی ڈرامے تیارتھے۔ اب نئے سرے سے سرجوڑ لئے گئے ہیں اور نیا ”جوابی وار“ تیار کیاجارہاہے، لیکن یہ جو سب کچھ ہورہا ہے، بغیر کوئی سراتلاش کئے، اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ماری جارہی ہیں۔

اُدھر لندن سے ایک بڑی خبرآگئی ہے۔ تجربہ کارسفارتکار، جو بہت کمال کی پیغام رساں بھی ہیں،یعنی ملیحہ لودھی نے نوازشریف سے ایک طویل ملاقات کی، اس کی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے۔ ابھی نوازشریف کی لندن میں ایرانی کیفے کی تصویر ہضم نہیں ہوپارہی تھی کہ نئی ملاقات ہیجان کو مزید بڑھانے کا سبب ثابت ہوئی۔ شنید یہ ہے کہ اب کپتان بے بسی کا شکار ہونے لگا ہے، اعصاب جواب دینے لگ گئے ہیں، فیصلہ کیا گیا ہے کہ پوچھ ہی لیا جائے۔ وہ کھل کرسوال کریں گے، پھر ان سوالوں کا جواب بھی چاہیں گے۔ اب کہاں تک جواب ملتا ہے، کچھ کہا نہیں جاسکتا اور کیا جواب ملتا ہے، یہ بھی بتانا مشکل ہے۔اندر کی بڑی اور بہت بڑی اطلاع یہ ہے کہ لندن میں ان دنوں اہم ترین ملاقات ہونے جا رہی ہے۔

ملاقات کرنے والی شخصیت پاکستانی نہیں اور نہ ہی عرب ہے۔ یہ شخصیت جو پروٹوکول کے حساب سے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہے، نوازشریف سے رابطہ کرکے مستقبل کا نقشہ پیش کرے گی۔ بتایا یہی جارہا ہے کہ اس نقشے میں بہت کچھ قابل قبول ہے اور یہ نقشہ پاکستان کے علاوہ بھی دوررس اثرات کاحامل ہوگا۔ اس میں اس معتبر شخصیت کے علاوہ خطے کے کئی ممالک کے مفادات بھی شامل ہیں۔ مقتدر قوتوں کی طرف سے وہ ضامن کے طور پر میاں نوازشریف سے ملیں گے اور وعدے وعید ہوں گے۔اس سے پہلے ہونے والے دونوں رابطے بہت اہم تھے۔ ان میں مقتدر قوتوں کا پیغام بھی تھااور عالمی قوتوں کے پیغامات اور تمنائیں بھی تھیں، لیکن اب جو ملاقات ہونے جارہی ہے، وہ ان سب کا نتیجہ خیز راؤنڈ ہوگا، جس کے بعد معاہدے کی جزئیات طے کرنے کے لئے پاکستان سے اعلیٰ درجے کے ہرکاروں کو لندن آنے کی اجازت ملنے کا بھی امکان ہے۔

کلیدی ملاقاتیں نوازشریف خود کر رہے ہیں، جزئیات شہبازشریف طے کریں گے۔ لندن میں اب تک ہونے والی منصوبہ بندی دونوں بھائیوں کے درمیان ہے۔ کچھ باتیں انہوں نے ایک دو بندوں سے شیئر کی ہیں، تاہم شہبازشریف کی فیملی ان تفصیلات سے دور ہے۔ مریم کا کردار مستقبل قریب کے لئے نہیں، انہیں بالکل علیحدہ رکھا گیا ہے، وہ جب بھی خاموشی توڑیں گی، اپنی جگہ قائم نظر آئیں گی۔ وہ اگلی نسل میں سے قیادت کی حق دار ٹھہر سکتی ہیں۔ کسی بھی نئے سیٹ اَپ یا آئندہ الیکشن کے بعد کے منظر میں مریم بی بی کا کردار نہیں رکھا گیا۔ وہ مزاحمتی سیاست کرتی رہیں گی۔ اُدھرمقتدرقوتوں نے بھی آگے چلنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب ناکامیوں کی داستان کو سمیٹنے پر غور شروع ہوگیا ہے، اپنی غلطیاں مانی جارہی ہیں، تسلیم ورضا کا موسم آیا چاہتا ہے۔ دراصل نیشنل ری کنسلی ایشن کا عمل شروع ہوچکا ہے…… یعنی این آر او…… لیکن اس میں عمران خان شامل نہیں، نہ دینے والوں میں …… روکنے کا تو اب سوال ہی نہیں رہا۔ جس طرح آرمی ایکٹ منظور کرانے کے لئے عمران خان کاکوئی کردار نہیں تھا، اسی طرح انہیں اس عمل سے بھی بہت دور رکھا گیا ہے، تاہم وہ اس عمل سے نقصان اٹھانے والے ضرور ہوں گے۔اب معاملات کب کھل کرسامنے آتے ہیں، اس کے لئے وقت کا انتظارکرناہوگا۔

مزید : رائے /کالم