پاکستان میں پَست معیار تعلیم کی وجوہات اور ان کا حل (2)

پاکستان میں پَست معیار تعلیم کی وجوہات اور ان کا حل (2)
پاکستان میں پَست معیار تعلیم کی وجوہات اور ان کا حل (2)

  



یہ اخلاقی تربیت ہمیشہ گھر کے ماحول میں ہوتی ہے، بالخصوص ماں کی گود میں ہی اس کا آغاز ہو جاتا ہے، بلکہ اس سے بھی ایک قدم اور پیچھے جائیں، جب بچہ پیدا ہونے سے پہلے، اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اس وقت کے ماحولیاتی، نفسیانی، اقتصادی حالات، نوزائیدہ بچے کے ذہن و قلب پر اندر اندر از خود اثر انداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ، تربیت کا ایک اہم کردار ہوا کرتا ہے۔انہوں نے دیہاتی سکولوں کے حوالے سے اپنے دیہاتی ماحول کی منظر کشی کی کہ کس طرح گاؤں کے چودھری اپنے کمّی (لوہار، ترکھان، درزی، موچی، حجام، چوکیدار وغیرہ) کے ساتھ سلوک کرتے ہیں، ان میں سے کسی کو چودھری کے ساتھ چارپائی پر برابر بیٹھنے کی اجازت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، لیکن جو گاؤں کے پرائمری سکول کا معلم (جسے عام طور پر منشی صاحب) کے لقب سے پکارا جاتا ہے، اسے ہر کوئی عزت دیتا ہے، منشی صاحب آئیں گے تو چودھری اپنی چارپائی کے سراہنے کی طرف اسے بٹھائیں گے۔ گویا یہ ایک عزت دینے کا (Gesture) ہوتا ہے۔

اگر منشی صاحب سے کوئی کام ہو گا، تو اسے بلانے کی بجائے اس کے پاس خود چل کر جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک پرائمری سکول کے معلم (منشی صاحب) کی کیا عزت ہوتی تھی؟ یہ بات آج سے 60-50 برس پہلے کی ہے۔ منشی صاحب بے لوث تعلیم و تربیت دینے کے قائل تھے اور اس کے بدلے میں عزت پاتے تھے۔ آج پڑھائی (ٹیوشن) کی شکل میں روپے تو وصول کر لیتے ہیں، لیکن عزت ندارد۔ موصوف نے سنٹرل ماڈل سکول لاہور کے زمانے کا بھی ذکر کیا۔ اساتذہ اپنے طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی خیال رکھتے تھے۔ سکول کے اندر بھی اور سکول کے باہر بھی۔ اگر طالب علم کو سکول سے باہر کہیں کسی جگہ سگریٹ پیتے دیکھ لیتے…… تو اگلے ہی دن اس کی سرزنش کی جاتی اور تنبیہ بھی، اسی طرح اگر کوئی طالب علم کسی سنیما گھر سے گندی فلم دیکھ کر آ رہا ہوتا اور معلم کی نظر اس پر پڑ جاتی تو باقاعدہ اگلے روز سکول میں سرزنش کے ساتھ تنبیہ کی جاتی کہ اگر دوبارہ ایسا کرتے دیکھا گیا تو اس کے والدین کو مطلع کیا جائے گا۔یہ تمام باتیں تعلیم کے علاوہ، تربیت کا اہم حصہ ہوا کرتی تھیں، جس سے سکول کے اندر اور سکول کے باہر ہر وقت اس پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی اور اسے ڈر ہوتا تھا کہ پکڑا گیا تو سزا سے بچ نہیں پاؤں گا۔

یاد رہے! اخلاقی تربیت کے لئے سزا کا خوف ہونا، کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے یا تو اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے یا معاشرے کا ڈر، جس میں والدین، اساتذہ وغیرہ سب شامل ہیں،مزید براں گاؤں میں کسی طالب علم کی کوئی ایسی حرکت، جس سے بد اخلاقی کا مظاہرہ ہوتا ہو، تو گاؤں کا کوئی بھی بزرگ، اس کو ڈانٹ دیتا اور اس کے والدین اس ڈانٹ کو سراہتے تھے…… لیکن آج توحالات مکمل طور پر بدلے ہوئے ہیں، جن کے اندر مثبت اور موثر تبدیلی لانا ناگزیر ہے۔ بہر کیف موصوف کے مطابق، طلبہ کی تعلیم و تربیت گھر کے اندر ہونا ضروری ہے۔ ماں کی گود بچے کی سب سے پہلی تربیت گاہ ہے، پھر اس کے قریبی عزیز و اقارب اس کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوران گفتگو موصوف نے ایک تصحیح کی کہ چودھری محمد علی، تقسیم برطانیہ کے وقت آئی سی ایس سروس کی بجائے آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو بہت مفید مشورے دیئے۔ معلم کی عزت و تکریم کے حوالے سے ہم اپنے ایک دو واقعات کا ذکر کرنا چاہتے ہیں، جس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ ایک معلم اپنی عزت کرانے یا نہ کرانے کا خود ذمہ دار ہے؟اگر وہ اپنا فرض منصبی، یعنی تعلیم و تربیت اچھے انداز میں ادا کرے گا تو یقیناً اس کا ثمر اسے یہاں دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں تو خیر ہے ہی (انشاء اللہ تعالیٰ) ……! (جاری ہے)

ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ 1999ء کا واقعہ ہے، فیصل ٹاؤن (لاہور) میں اپنی مقامی مسجد سے نماز عصر پڑھنے کے بعد باہر نکلا اور اپنے جوتے لینے کے لئے لپکا تو مجھ سے پہلے ہی ایک صاحب، جن کا قد کاٹھ مجھ سے بڑا تھا،میرے جوتوں کو میرے سامنے رکھ کر بولے کہ آپ کا نام یہی ہے۔ مَیں آپ کا شاگرد ہوں اور آج کل بحیثیت ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کام کر رہا ہوں، کوئی دفتری کام ہو تو آپ مجھے حکم کریں۔ ہم نے کہا ہماری ریٹائرمنٹ تو ایک سال بعد ہو گی تو وہ فرمانے لگے کہ سر آپ نے پنشن کے کاغذات دفتر میں جمع نہیں کرانے، بلکہ مجھے دینے ہیں۔ خیر ان سے پھر رابطہ رہا۔ انہوں نے تمام پنجاب سے میرا جی پی فنڈ اکٹھا کرایا اور فون کیا کہ سر آپ کسی بیٹے کو بھیجیں، وہ آپ کے جی پی فنڈ کا چیک آ کر لے جائے، لیکن ہم بیٹے کو بھیجنے کی بجائے خود ہی گئے…… وہ چیک انہوں نے ہمارے حوالے کیا۔ پنشن کے کاغذات محکمے سے مکمل کروا کر ان کے حوالے کئے۔

تین چار روز کے بعد ان کا فون آیا کہ ہمارے دفتر سے پنشن کا کام تو مکمل ہو گیا ہے، اب کیس خزانہ کے دفتر بھیج دیا گیا ہے اور دفتر خزانہ میں بھی اس کام کو ہم خود کرائیں گے۔ ایسے ہی دو چار روز کے بعد ہمیں بلایا گیا تاکہ اپنے دفتر سے اپنی شناخت کرائی جا سکے۔ اپنے دفتر کے اکاؤنٹس کلرک کو ساتھ لے کر گئے…… اس کی تصدیق کے بعد آگے کا کام بھی انہوں نے ہی مکمل کروایا اور فون پر بتایا کہ سر آپ کا پی پی او آ گیا ہے، کسی بیٹے کو بھیجیں آ کر لے جائے، لیکن حسب معمول ہم خود ہی گئے اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا نام ہے رانا محمد انور خان…… دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی زندگی اور نیک اعمال میں برکت عطا فرمائے۔ آمین! اسی طرح ایک بار انٹرنیشنل ٹیچرز ڈے کے لئے اسلام آباد جانا ہوا۔ اس میں تمام صوبوں سے مختلف ٹیچرز ایسوسی ایشنز کی شرکت تھی۔ کچھ افراد نے اس بات کا شکوہ کیا کہ تنخواہیں کم ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں ہماری عزت نہیں۔ وہاں پر ہم نے اسی واقعہ کا ذکر کیا تو راولپنڈی کے بہت سارے اساتذہ (فنکشل/ تقریب) ختم ہوتے ہی ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے سر ہم بھی آپ کے سرگودھا سکول کے شاگرد ہیں، مجھے بڑی خوشی ہوئی۔

اس وقت تک ہم بچوں کے لئے ایک ڈکشنری (اردو سے انگریزی) تالیف کر چکے تھے۔ ان اساتذہ میں سے ایک کا پتہ لیا اور لاہور آ کر درجن بھر ڈکشنری کی کاپیاں بھیج دیں تاکہ اس سے جس قدر وہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں،کریں۔ یہ یک طرفہ کام نہیں، ہمیشہ دو طرفہ تعلق ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی کا خیال کرتے ہیں تو اس کا صلہ کسی نہ کسی شکل میں آپ کے سامنے ضرور آئے گا۔ گویا آج بھی معلم اگر چاہتا ہے کہ اس کی عزت و احترام ہو تو اسے ایک Devoted Teacherبنناہوگا، Committed Teacher کے لئے حالات از خود بہتری کی طرف آئیں گے۔بہر کیف معیار تعلیم اور اس کی پستی کی وجوہات کا بنیادی تعلق آج کا مادہ پرستی کا دور ہے۔ ہر آدمی اس کی دوڑ میں آگے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے اور اخلاقی اقدار پیچھے رہ جاتی ہیں۔ معلم بھی اسی دوڑ کا حصہ بن گئے، اخلاقی اقدار کھو دیں، تعلیم برائے عبادت کی بجائے تعلیم برائے تعلیم رہ گئی اور تعلیم کو مادی ترازو میں تولا جانے لگا۔ اس پر ہم نے ایک لمبا مضمون لکھا ہے۔ اس میں ہم نے اس بات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ مادہ سب کچھ نہیں، بلکہ اخلاقی اقدار انسانیت کی کامیابی کی کلید ہیں۔ اس کے ساتھ ہی والدین کی عدم توجہی اور اپنے بچوں کے ساتھ پدری شفقت میں کی کمی بھی ہے۔ سمارٹ فون کا زمانہ ہے۔ بچے سے لے کر بڑے تک،سب کے ہاتھ میں سیل فون ہے اور گھر کے دس افراد بھی بیٹھے ہوں تو مکمل خاموشی ہوتی ہے، کیونکہ ہر کوئی اپنے اپنے سیل فون میں مصروف ہے۔ اس سے باہمی بحث و تمحیص، یعنی تبادلہء خیالات کے فقدان نے جنم لیا ہے۔

یاد رہے! گھروں میں دادا/ دادی، نانا/ نانی کا اپنے پوتوں پوتیوں کی تربیت میں ایک اہم کردار ہوتا تھا۔ ہماری خوش قسمتی کہ ہمارے ہاں تو خاندانی نظام زندگی تاحال برقرار ہے۔ گھریلو زندگی میں خاندان کا ادارہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے جس میں وہ تمام اخلاقی و سماجی اقدار ایک بچہ اپنے خاندان کے بڑوں سے ہی لیتا ہے۔ آج بھی اس ادارے کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ باقاعدہ تعلیم نہ ہونے کے باوجود، مائیں اپنے بچوں کی نفسیات کو خوب سمجھتی ہیں۔ بچہ مختلف طریقوں سے، اپنی ضروریات کا اظہار اپنی ماں سے کرتا ہے، جسے ماں بخوبی سمجھتی ہے اور ان کو پورا کرتی ہے۔ ایک پڑھی لکھی ماں ایک بہترین خاندان کی ضامن ہوتی ہے۔ ایک کہاوت بھی ہے کہ اگر ہم ایک بچے کو تعلیم دیتے ہیں تو ہم ایک فرد کو تعلیم دیتے ہیں، اگر ہم ایک بچی کو تعلیم دیتے ہیں تو ایک خاندان کو تعلیم دیتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ افراد ہی معاشرہ بناتے ہیں، چنانچہ تربیت یافتہ معاشرے کے قیام کے لئے صالح اور نیک افراد کو تیار کرنا ہے جو اسلامی اخلاقی اقدار سے شناسا بھی ہوں اور عمل پیرا بھی۔ بچیوں کی تعلیم کا خصوصی طور پر اہتمام کیا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ دیہات ہو یا شہر،ِ قرآن حکیم کی تعلیم تجوید سے لے کر ترجمے تک لازمی قرار دی جائے۔ یاد رہے ایجوکیشن مضمون میں بچوں کی نفسیات تدریس کے طریقے (عمر کے اعتبار سے) نصاب کی تیاری وغیرہ ایک بہترین مستقبل کی ضمانت ہو گی۔ لفظ ایجوکیشن کی اہمیت کا جاننا ناگزیر ہے۔ خواہ کوئی معلم بنے نہ بنے، بہر کیف اس نے ماں / باپ تو بننا ہی ہے…… اس کی تعلیم ایک بہتر ماں / باپ بننے میں مفید اور معاون ثابت ہو گی، مزید براں تعلیمی معیار کو پستی سے نکالنے کے لئے درج ذیل باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔

٭قرآن حکیم کی تعلیم، تجوید اور ترجمہ کے ساتھ۔

٭بچوں کی عمر کے مطابق، نصاب سازی۔

٭نصاب کی تدریس کے لئے، طریقہ تدریس کے لئے، اساتذہ کا تیار کرنا۔

٭اس نصاب کا مسلسل جائزہ لیتے رہنا اور اس میں بہتری لانا۔

٭بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کو موجودہ ضروریات کے مطابق بنانا۔

٭بچوں کی عملی و اخلاقی تربیت (جس میں تمام ادارے، خاندان سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق ر کھنے والے اداروں کو فعال بنانا اور ان کے اندر قرآن حکیم کی تعلیم کی روح کو زندہ کرنا۔

٭ اساتذہ کرام کا رول ماڈل ہونا، ان کا رول ماڈل نبی صلعم کا اسوۂ حسنہ ہو۔

٭بچوں کا قرآن حکیم سے زیادہ سے زیادہ تمسک پیدا کرنا۔ یہ بات باور کرانا کہ تمام علوم کا منبع اور سر چشمہ قرآن حکیم ہے۔ کم از کم 750 آیات ایسی ہیں جو عصری علوم کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

٭یکساں نصاب تعلیم، جس میں قرآن وسنہ، عصری علوم پر مشتمل ہو تاکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا استخصار بھی ہو اور بھکاری بننے کی بجائے قوم اپنے پاؤں پر (معاشی طور پر) کھڑی ہو سکے۔

٭قرآن حکیم میں وحی کے ذریعے تعلیم دی گئی،علم الاسماء کا ذکر بھی قرآن حکیم میں ہی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں سورج، چاند، زمین، پرند، چرند، درند، نباتات، جمادات اور حیوانات سب کو انسان کے لئے مسخر کیا ہے اور جن و انس کو صرف اپنی عبادت/ بندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔

٭انسان کو عقل و شعور عطا فرمایا ہے کہ اس عقل و شعور کو استعمال میں لاتے ہوئے، کائنات کے اندر چھپے راز/ خزانوں کو نکالے، قرآنی تعلیم کی طرف سے بڑے اشارے ملتے ہیں۔ دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے۔ صراط مستقیم کو اختیار کرتے ہوئے زندگی میں توازن لانا امت وسط سے یہی مراد ہے، گویا متوازن زندگی گزارنا تاکہ صراط مستقیم سے نہ بھٹکے اور زندگی میں افراط و تفریط نہ ہو،جیسا کہ یہودیت اور نصرانیت میں ہوا۔ دینی اور دنیوی ہر کام کرنے کی ایک حد مقرر کی گئی ہے، جس سے تجاوز کرنا ظلم ہے۔

٭سب سے بڑھ کر یہ کہ آپؐ کا ارشاد ہے……ترجمہ:بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپؐ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے فرائض منصبی،یعنی طلبہ کی بے لوث (تعلیم و تربیت) کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، (آمین)

مزید : رائے /کالم