جہالت،جعلی پیر: سد ِباب لازم ہوگیا…… آٹے کا بحران کیا کرے گا؟

جہالت،جعلی پیر: سد ِباب لازم ہوگیا…… آٹے کا بحران کیا کرے گا؟
جہالت،جعلی پیر: سد ِباب لازم ہوگیا…… آٹے کا بحران کیا کرے گا؟

  



دِل دُکھی ہے۔الفاظ بھی ساتھ نہیں دے رہے۔مَیں اس جہالت اور دلدوز سانحہ کا ذکر کرتے ہوئے خوف کھا رہا ہوں،لیکن اس مردود اور شیطان کو قطعاً پریشانی یا تکلیف نہیں، جو دین کا نام لے کر مذہب کو بدنام کرتے ہوئے،شیطانی حرکات کا مرتکب ہوتا ہے،جہالت کے باعث اس کے ہاتھوں خواتین بے حرمت تو ہوتی ہیں،لیکن یہ ظالم تو ان کی بعد والی زندگی بھی برباد کر دیتا ہے اور اپنے شیطانی عمل کی ویڈیو بھی وائرل کرتا ہے، مَیں سوچ رہا ہوں کہ یہ چار خواتین جو ویڈیو میں نظر آئیں، اولاد کی تڑپ میں شیطان سے بھی بڑے شیطان جعلی پیر کی ہوس کا تو شکار ہو ہی گئیں، پر اب ان کا کیا بنے گا کہ اس تمام تر شیطانی عمل اور گناہ کی تصویری کہانی بھی ویڈیو کے ذریعے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ یہ جہالت سی جہالت ہے۔

میرے ایک ساتھی نے جو دفتر میں ہی کام کرتا ہے، دُکھ کے ساتھ ایک ویڈیو میری ٹائم لائن پر شیئر کی، یقین مانئے مَیں اسے ایک نظر بھی نہیں دیکھ سکا اور واپس اپنے دوست کے پاس جا کر اسے ہی کر، کہ اسے ڈیلیٹ کر دو کہ یہ تو بھولے سے بھی نہیں دیکھنا چاہئے، پھر اسی ساتھی نے مجھے بتایا کہ یہ ویڈیو ایک جعلی پیر کے شیطانی عمل کی ہے،جس نے ویڈیو والی چاروں خواتین کو اولاد کا جھانسہ دے کر اپنی ہوس کا نشانہ بنایا، اب ہم دونوں نے جب ویڈیو کے وائرل ہونے کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کی تو ماسوا اس حقیقت کے کوئی اور بات ذہن میں نہ آئی کہ اسی بدبخت شخص نے خود اپنے اس ڈیرے اور گناہ کے گھر میں یہ اہتمام کر رکھا ہے کہ اس کی ہوس کاری اور خواتین کی جہالت نلمبند ہو تاکہ بعدازاں ان خواتین کو عقل بھی آئے تو وہ اس کے پنجہ سے رہائی نہ پا سکیں۔یہ شخص رقوم الگ اینٹھتا ہے،ہمارے اس ساتھی نے جو آئی ٹی میں بہت شدھ بدھ رکھتا ہے بتایا کہ اس میں ایک خاتون کی جو گفتگو ریکارڈ ہوئی وہ بدترین جہالت کی نشاندہی ہے۔

اس برصغیر میں بت پرستوں کے توہمات اور جہالت کے بارے میں تو کہانیاں ہی کہانیاں ہیں، لیکن ایک دینی اور اخلاقی معاشرے میں خواتین کا اس طرح لٹ جانا تو زمانہ جاہلیت سے بھی آگے کی بات ہے، ایسے ڈھونگی اور خطرناک جرائم پیشہ ہمارے معاشرے میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے ہیں، جو مستانہ نعرے لگا کر تعویذ گنڈے کا کام کرتے اور اس آڑ میں جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں،اس ویڈیو کے وائرل ہونے اور اس پر ایک نظر ڈالنے کے بعد اب تو ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ سے یہی درخواست ہے کہ وہ اس ویڈیو کی بنیاد پر اس ذلیل اور درندے کو گرفتار کر کے عدالت سے ایسی سزا دلائیں کہ لوگ نصیحت اختیار کریں،حکومت ہی نہیں، وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں اور متعلقہ انتظامیہ سے میری یہ مودبانہ اور عاجزانہ درخواست ہے کہ اسی ویڈیو کو بنیاد بنا کر ایسے ڈھونگی افراد کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا جائے اور اس لعنت کو ختم کیا جائے،مَیں اپنے علماء کرام،دین کے سچے خدمت گاروں،پرہیز گاروں اور خلیفہ حضرات سے بھی یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ خود اپنے لئے، اپنی ساکھ بچانے کے لئے،

دین کے تحفظ اور اخلاقیات کی حفاظت کے ساتھ معاشرے کو ایسے ناسوروں سے بچانے کے لئے خود بھی جدوجہد کریں، اور انتظامیہ کا بھی ساتھ دیں، میری ان تمام حضرات سے جن کے پاس یہ ویڈیو شیئر ہو کر پہنچی استدعا ہے کہ وہ مہربانی فرمائیں،چسکا نہ لیں اور اسے ایف آئی کے سائبر کرائمز ونگ کو بھیج کر ڈیلیٹ کر دیں اور جن خواتین کو اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے، ان کے لواحقین اور وارثان سے بھی یہ توقع ہے کہ یہ خواتین جہالت کے باعث پھنسی ہیں، ان کو معاف کر دیں، ان کی تحلیل نفسی کریں، ان کو ان کی جہالت سے آگاہ کریں اور بہتر زندگی کی طرف واپس لائیں،یہ سب بھی اس نام نہاد جعلی پیر کے خلاف جدوجہد کریں کہ اسے اس کے جرائم کی قرار واقعی سزا ملے اور معاشرہ ایسے بدبختوں سے محفوظ ہو سکے۔ یہ دُکھی دِل کی آواز ہے،جرائم تو یہاں ہر روز ہوتے اور خواتین استحصال کا شکار بھی ہوتی ہیں، جبکہ اکثر خواتین خود بھی جرائم کے اس بیڑے میں سوار ہو جاتی ہیں،اس معاشرتی المیے کے لئے ہماری انجمنوں، تنظیموں، این جی اوز، حکومت، پولیس، ایف آئی اے، اراکین اسمبلی اور معاشرے کے معتبر حضرات کو بھی اپنا فرض ادا کرنا ہو گا،اللہ کا نام اور واسطہ ہے مہم چلایئے اگر چلانا ہے تو؟

آج لکھنا تو ایک اور دُکھ کے حوالے سے تھا، کہ یہ سب یاد آ گیا اور مَیں نے دِل پر لگے زخم کھول کر رکھ دیئے ہیں۔دراصل سوچا تھا کہ آٹے کے بحران کے حوالے سے بات کروں گا،صبح جب بچوں نے پکانے کے لئے سالم مسور منگوانے کی بات کی تو ہم نے بھی ہاں کر دی،محلے کے دکاندار سے فون پر ایک کلو دیسی مسور بھیجنے کی بات کی تو اس نے بتایا کہ ایک کلو مسور360 روپے میں ملیں گے۔ یہ ایک اور صدمہ تھا کہ ابھی تین چار ماہ قبل خبر سے معلوم ہوا تھا کہ سندھ میں دیسی مسور یکایک زیادہ مہنگے ہو کر280روپے فی کلو تک پہنچ گئے ہیں،لیکن اب دکاندار کی بات سن کر ایک بڑا جھٹکا لگا کہ اس عرصہ میں 80 روپے فی کلو مزید مہنگے ہو گئے،اِس دوران گراسری میں یہ مسور آتے رہے تھے اور300 روپے فی کلو تک تھے،پھر یکایک نایاب سے ہو گئے اور اب360 روپے فی کلو ہیں، اس نرخ نے تو آٹا بھی بھلا دیا،لیکن تابکہ پھر یاد آ گیا کہ پاکستان کے پاس فاضل گندم تھی کہ 15سے30لاکھ میٹرک ٹن تک برآمد کی اجازت دی اور اب یہ کیفیت ہے کہ حکومت نے تین لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ سمری قومی اقتصادی کونسل کو بھیجی جائے گی تاکہ اجلاس میں فیصلہ ہو سکے۔بازار میں یکایک آٹے کی قلت پیدا ہوئی اور چکی مالکان نے نرخ70 روپے فی کلو کر دیئے،

جو64 روپے فی کلو تھے۔یوں چھ روپے فی کلو نرخ بڑھ گئے،جبکہ رولر فلور ملز والے آٹے کی قلت پیدا ہو گئی،پشاور اور خیبر کے دیگر شہروں میں قلت کے اثرات پنجاب میں بھی ظاہر ہو گئے۔ سندھ بھی متاثر ہوا اب لاہور اور کراچی والے بھی چِلا رہے ہیں کہ روٹی مہنگی ہو گئی، کہ منافع خور مافیا تو صرف شہد والی انگلی لگاتا ہے اور پھر یہ فساد پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے،اب حکومت پنجاب نے اشتہارات کا سہارا لیا، اطلاع دی کہ چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔بتایا یہ جا رہا ہے کہ سرکاری گوداموں سے جاری کی جانے والی گندم کی ترسیل روک دی گئی ہے۔ پاسکو والوں نے وزیراعظم کی ہدایت پر ایک لاکھ من گندم خیبرپختونخوا کو دینے کا اعلان کیا۔

اس میں پنجاب اور سندھ کا کوئی ذکر نہیں کہ یہ دونوں صوبے گندم میں خود کفیل ہی نہیں، دوسرے صوبوں کا بھی بوجھ اٹھاتے ہیں،لیکن اب یہ بھی قلت کا شکار ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ حکومت کارروائی کر رہی ہے،گندم کا انتظام کرے گی۔سوال یہ ہے کہ فاضل گندم والے ملک میں اس نوعیت کی قلت کیوں؟ کس جگہ خرابی اور کہاں کہاں سوراخ ہیں، یہ جائزہ لینا اور ان کو بند کرنا بھی تو لازم ہے۔ براہِ کرم! ہنگامی اقدامات کے تحت کارروائی کریں اور عوام کو کم از کم آٹے سے تو محروم نہ کریں۔اگرچہ آپ کی نوازش اور مہربانی سے قومی خزانے سے لنگر خانے کھولے جا رہے ہیں،جن پر آپ کو فخرہے۔مہربانی کریں ایسے لنگر خانوں کی درجہ بندی بھی کر دیں،نچلے متوسط طبقے اور تنخواہ دار حضرات کے لئے باعزت لنگر خانے بنا دیں۔ان کو کارڈ دے دیں تاکہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے کھانا تو لے آئیں۔

مزید : رائے /کالم