ان ہاؤس تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکتا، جلد عبوری حکومت قائم ہوگی: اکرم درانی

ان ہاؤس تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکتا، جلد عبوری حکومت قائم ہوگی: اکرم درانی

  



چارسدہ(بیو رو رپورٹ) سابق وزیر اعلی اور اپو زیشن رہبر کمیٹی کے چیئرمین اکرم خان درانی نے انکشاف کیا ہے کہ ان ہاوس تبدیلی کی بات پکی ہے۔ تین مہینے کیلئے عبوری حکومت قائم ہو گی اور انتخابی اصلاحات لا کر چھ مہینے کے اندر نئے انتخابات ہونگے۔ فیصل واڈا نے ٹاک شو میں عمران خان کی ایما ء پر آرمی چیف کی بے عزتی کی ہے۔ انتخابی اصلاحات میں فوج کے کر دار اور مداخلت کو ہر صورت ختم کیا جائیگا۔ وہ چارسدہ میں سابق ایم این اے مولانا غلام محمد صادق کی والد کی وفات پر اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس موقع پرجے یو آئی کے ضلعی امیر و سابق ایم این اے مولانا سید گوہر شاہ، سابق سنیٹر رشید احمد، جے یوآئی کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات مولانا جمیل احمد سمیت دیگر اکابرین بھی موجود تھے۔ اکرم خان درانی نے میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ایک نا اہل شخص کو قوم پر مسلط کرکے بڑی زیادتی کی ہے۔ نااہل وزیر اعظم نے ملک کو ہر لحاظ سے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ملک کی معیشت تباہ حال ہے۔ غریب عوام کاجینا مشکل ہو رہا ہے۔ عمران خان کی نا اہلی کے قصے کہانیاں زبان عام پر ہے اور اب تو اتحادی سمیت ان کے اپنے وزراء بھی عمران خان کی نا اہلی کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زن و زور پر لائی ہو ئی نا اہل حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آزادی مارچ کے دوران ذمہ دار لوگوں نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ وعدے وعید کئے ہیں اور اس کے مطابق تین مہینے کے اندر اندر ان ہاؤس تبدیلی لاکر عبوری حکومت قائم کی جائیگی جس میں اپو زیشن بھی شامل ہو گی۔ انہو ں نے واضح کیا کہ عبوری سیٹ اپ انتخابی اصلاحات لا کر انتخابات میں فوج کی مداخلت اور کر دار کو مکمل طور پر ختم کرکے چھ مہینے کے اندر اندر نئے انتخابات کا انعقاد کریگی۔ اکرم خان درانی نے مزید کہا کہ فیصل واڈا نے ٹالک شو میں عمران خان کی ایماء پر نہ صرف فوج کی بے عزتی کی بلکہ نجی چینل کی بھی بے عزتی کی ہے۔ فیصل واڈا کو عمران خان نے فوجی بوٹ دیکر ایک منصوبے کے تحت ٹالک شو میں بھیجا۔فاٹا انضمام کے بعد کپتان نے قبائلی عوام کے ساتھ جو وعدے اور دعوئے کئے تھے وہ سب جھوٹ کا پلندہ ثابت ہو رہے ہیں۔ این ایف سی ایوآرڈ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت موخر کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے صوبے پر یشان ہیں۔ عمران خان اپنے اتحادیوں کو راضی نہیں کر سکتے تو امریکہ، سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی کو کس طرح دوستی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے جنرل مشرف کی سزا معطلی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے قائم کردہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ کس طرح معطل کر سکتی ہے۔ ٹک ٹاک سٹا ر حریم شاہ وغیرہ عمران خان کی پیداوار ہے۔ آرمی ایکٹ کے حوالے سے ترمیمی بل پر اپو زیشن میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا۔ اپو زیشن آج بھی ایک پیج پر ہے مگر بعض فیصلوں میں وہ انفرادی طور پر فیصلوں میں آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف اس بار تحریک کا آغاز پنجاب سے کرینگے۔

مزید : صفحہ اول