کیا پاکستانی چیتے بنگال ٹائیگر ز کا شکار کر سکے گا

کیا پاکستانی چیتے بنگال ٹائیگر ز کا شکار کر سکے گا

  



پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیریز کے چھائے بادل چھٹ گئے ہیں، دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز سیریز کے انعقاد پر متفق ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈز کے درمیان معاہدہ طے پاگیا نئے شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم اس ماہ 24سے 27کی تاریخ تک لاہور میں تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی۔ سری لنکا کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم بھی آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے میچ کھیلنے پاکستان آرہی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان نئے پروگرام کے مطابق اس ماہ تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی سیریز ہوگی جس کے بعد دو ٹیسٹ وقفے وقفے سے کھیلے جائیں گے۔ اپریل میں دوسرے ٹیسٹ سے قبل ایک ون ڈے انٹرنیشنل کھیلا جائے گا۔ بنگلہ دیشی ٹیم نے2008میں آخری بار پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ بنگلہ دیش نے دو ٹیسٹ میچوں اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے علاوہ ایک اضافی ون ڈے انٹرنیشنل میچ پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ ابتدائی شیڈول کے مطابق ون ڈے میچ پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے چیئرمین نظم الحسن نے اعلان کیا تھا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے باعث اپنی ٹیم کو ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش نے صرف تین ٹوئنٹی ایک ہفتے میں کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ دبئی میں سیریز کے شیڈول کو حتمی شکل پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقات کے دوران دی گئی۔ نئے شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم 24 سے 27 جنوری تک لاہور میں تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی۔ اس کا قیام ایک ہفتے ہوگا۔ دوسرے مرحلے میں مہمان ٹیم 7 سے11 فروری تک راولپنڈی میں ایک ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔ سیریز کا تیسرا مرحلہ پاکستان سپر لیگ کے بعد ہوگا۔ کراچی میں بنگلہ دیش کا قیام نو دن ہوگا۔ پی ایس ایل 2020 کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے درمیان ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ 3 اپریل کونیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا جبکہ دونوں ٹیموں کے درمیان آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل دوسرا ٹیسٹ میچ 5سے 9 اپریل تک کراچی میں ہوگا۔ چیئر مین پی سی بی احسان مانی نے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے شیڈول کو حتمی شکل دینے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ششانک منوہر کی معاونت کے مشکور ہیں۔ یہ فیصلہ کھیل کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا۔ ششانک منوہر کی قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کرنا ہوگی جنہوں نے کھیل کو سیاست سے دور رکھنے کی پالیسی پر زو دیا۔ چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ نئے شیڈول کی تیاری دونوں بورڈز کی جیت ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم تین مرتبہ پاکستان آئے گی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک پرامن اور محفوظ ملک ہے۔جبکہ بنگلادیشی وکٹ کیپر مشفیق الرحیم نے پاکستان آنے سے صاف انکار کردیا، انھوں نے چیف سلیکٹر کو فون پر دستبرداری ظاہر کردی۔بنگلادیش کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین مشفیق الرحیم نے پاکستان کا ٹور کرنے سے انکار کردیا ہے، پی سی بی کے ساتھ تازہ ترین کمٹمنٹ کے تحت بنگلہ دیش پہلے ٹی 20سیریز کیلئے دورہ کرے گا، بعد ازاں 2ٹیسٹ میچزکی سیریز 2قسطوں میں کھیلی جانی ہے۔چیف سلیکٹر منہاج العابدین نے کہاکہ مشفیق الرحیم نے مجھے فون کرکے بتایا کہ وہ پاکستان نہیں جارہے، ہم اب ان کے اس حوالے سے باضابطہ خط کا انتظار کررہے ہیں، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پھر انھیں سیریز سے باہر کردیں گے۔دوسری جانببنگلا دیش کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا جس میں شعیب ملک اور محمد حفیظ کی واپسی ہوئی ہے،بگ بیش میں شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کرنے والے حارث رؤف کو پہلی بار قومی اسکواڈ میں شامل کرلیاگیا ہے،فخر زمان، امام الحق، حارث سہیل، آصف علی، محمد عامر، وہاب ریاض اور محمد عرفان کو ڈراپ کردیا گیا ہے۔لاہور میں قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر مصباح الحق نے کپتان بابراعظم اور ندیم خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بنگلادیش کے خلاف قومی اسکواڈ کا اعلان کیا جس میں تجربہ کار آل رانڈر شعیب ملک اور محمد حفیظ کی واپسی ہوئی ہے جب کہ حارث رؤف کو پہلی بار قومی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔بنگلادیش کیخلاف ٹیم کی قیادت بابراعظم کریں گے اور دیگر کھلاڑیوں میں محمد حفیظ، احسان علی، خوشدل شاہ، شعیب ملک، محمد رضوان، عماد بٹ، افتخار احمد، عماد وسیم، شاداب خان، عثمان قادر، شاہین شاہ آفریدی، محمد حسنین، حارث رف، موسی خان شامل ہیں۔قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز فخر زمان، امام الحق، حارث سہیل، آصف علی، محمد عامر، وہاب ریاض اور محمد عرفان کو ڈراپ کردیا گیا ہے۔اس موقع پر ہیڈ کوچ وچیف سلیکٹر مصباح الحق نے کہا کہ شائقین کرکٹ کو پاکستان میں سیریز کی مبارکباد دیتا ہوں، دو دن کی محنت سے ٹیم بنائی ہے محمد حفیظ ابھی بھی پاکستان ٹیم کے لیے اچھا پرفارم کرسکتا ہے جب کہ کامران اکمل، سلمان بٹ سمیت ہرکھلاڑی کی پرفارمنس دیکھ رہے ہیں،مصباح الحق نے بتایا کہ ہم نے آسٹریلیا میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا، بنگلا دیش کے خلاف بھی تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل کمبی نیشن بنایا ہے۔ شاداب خان پر کام ہو رہا ہے اور عثمان قادر کو بیک اپ کے لیے رکھا گیا ہے جب کہ حفیظ ایک تجربہ کار کھلاڑی ہے اور سمجھتا ہوں کہ حفیظ اب بھی پاکستان کے لیے اچھا کر سکتا ہے۔مصباح الحق نے کہاکہ اگر ہمیں رزلٹ نہیں ملے تو گھبرانا نہیں چاہیے، اچھے نتائج ملیں گے۔ہم کوشش کررہے ہیں کہ ورلڈ کپ سے پہلے بہتر سے بہتر کمبی نیشن بنالیں، پاکستان سپر لیگ کے بعد کافی جواب ملیں گے اور ٹیم کی ایک شیپ بنتی دکھائی دے گی۔ایک سوال کے جواب میں ہیڈ کوچ نے کہا کہ ہم نے آسٹریلیا میں نئے کھلاڑیوں کو چانس دیا اور شاداب خان پر کام ہورہا ہے، عثمان قادر کو بیک اپ کے لیے رکھا ہے۔جبکہ سابق کپتان محمد حفیظ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد ہر طرح کی کرکٹ کو خیر باد کہنے کا اعلان کردیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد حفیظ نے کہا کہ ٹیم میں واپسی میرے لئے سر پرائز نہیں ہے، میں ٹیم کو مس کررہاتھا واپسی پر خوشی ہوئی ہے، بولنگ کی کمی محسوس کروں گا، بولنگ ایکشن ٹیسٹ کے لئے تیار ہوں، پاکستان کے لئے بطور بیٹسمین کھیلا ہوں اور بولنگ کی اضافی صلاحیت ٹیم کے کام آتی رہی ہے،کوشش ہوگی کہ بطور بولر بھی ایکشن میں نظر آؤں۔محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ میرا پلان ہے کہ فٹنس اور فارم کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلوں اور بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوجاں، میں کبھی مایوس نہیں بلکہ ہمیشہ پر امید رہتا ہوں اور مثبت سوچتا ہوں، اس سوچ کے ساتھ ٹیم میں آیا ہوں،میری کوشش ہوگی کہ جو اعتماد کیا گیا ہے اس پرپورا اتروں۔محمد حفیظ نے مزید کہا کہ قومی ٹیم کو فتوحات کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔نوجوان کھلاڑیوں کواپنے تجربے سے بتاں گا کہ کس طرح مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنا ہے، بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں، اپنے لوگوں کے سامنے کھیلنیکو بے تاب ہوں، زیادہ شائقین کرکٹ کو میدان میں آکر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔جبکہ بنگلا دیش کے خلاف سیریز کیلئے ٹیم میں منتخب نہ ہونے پر قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل دلبرداشتہ ہو گئے۔گزشتہ روز پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے بنگلا دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کیا تھا۔مصباح الحق نے ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ شعیب ملک اور محمد حفیظ کی اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے جب کہ سلمان بٹ اور کامران اکمل کے ناموں پر ضرورت پڑنے پر غور کیا جائے گا۔کامران اکمل نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں محمد حفیظ اور شعیب ملک سمیت ٹیم میں منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کو مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا۔وکٹ کیپر بلے باز نے جہاں قومی کھلاڑیوں کو ٹیم میں منتخب ہونے پر مبارکباد دی وہیں انہوں نے اپنی سلیکشن نہ ہونے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔کامران اکمل نے لکھا کہ ٹیم میں منتخب نہ ہونے پر دل ٹوٹ گیا ہے اور بہت دکھی ہوں، میں نے بہت محنت کی لیکن میں ہمت نہیں ہاروں گا اور مزید محنت کروں گا، ان سب لوگوں کا شکریہ جنہوں نے میری حمایت کی۔جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ مایہ ناز کمنٹیٹر رمیز راجہ، شعیب ملک اور محمد حفیظ کی واپسی پر سلیکشن کمیٹی پر برس پڑے۔انہوں نے بنگلادیش کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے اعلان کردہ اسکواڈ پر قومی سلیکشن کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔انہوں نے کہا کہ سلیکشن کی بنیاد بچت یعنی ہمیں بچالو ہے دونوں کھلاڑیوں کی سلیکشن کو رمیز راجہ نے ہم مزید شکست براشت نہیں کرسکتے قرار دیا۔سابق کپتان نے مزید کہا کہ 2 ایسے کھلاڑی جن کی عمر 38 سال ہوچکی ہے۔وہ اپنی بیسٹ کرکٹ پہلے ہی کھیل چکے ہیں انہیں ٹیم میں واپس لایا گیا ہے اور وجہ بتائی گئی ہے کہ یہ دونوں تجربہ فراہم کریں گے اور اسی تجربے کے ذریعے میچز جتوائیں گے۔رمیز راجہ نے یہ بھی کہا کہ اگر صرف تجربے کی بات تھی تو انہی دونوں کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کے دورے پر بھی بھیجنا چاہیئے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور نوجوان کھلاڑیوں کو بلی کا بکرا بنادیا گیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے ذاتی طور پر شعیب ملک اور محمد حفیظ سے کوئی گلہ نہیں ہے کیونکہ ان دونوں نے ملک کیلئے طویل عرصے کافی اچھے طریقے سے اپنی خدمات پیش کیں لیکن اگر ٹیم کا نیا تھنک ٹینک اس طرح سلیکشن کرے گا تو پاکستان کرکٹ کا اللہ ہی حافظ ہے۔

مزید : ایڈیشن 1