سیہون،پسند کی شادی کرنیوالی لڑکی سے بیان لینے کے بہانے بد اخلاقی کرنے والا جج معطل

سیہون،پسند کی شادی کرنیوالی لڑکی سے بیان لینے کے بہانے بد اخلاقی کرنے والا ...

  



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سیہون میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز حسین بھٹو نے بیان قلمبند کرانے کے بہانے بد اخلاقی نشانہ بنا ڈالا۔شہداد کوٹ میں سلمیٰ بروہی اور نثار بروہی پسند کی شادی کے لیے گھر سے فرار ہوکر سیہون کے ایک گیسٹ ہاؤس میں رہائش پذیر تھے جہاں 13 جنوری کو لڑکی کے اہل خانہ سیہون پہنچے اور دونوں کو پکڑ لیا۔معاملہ پولیس تک جا پہنچا تو پولیس لڑکی کو بیان کے لیے سینیئر جوڈیشنل مجسٹریٹ امتیاز بھٹو کے چیمبر میں لے گئی۔ذرائع کے مطابق لیڈی پولیس اور عملے کو یہ کہہ کر عدالت سے باہر نکال دیا گیا کہ لڑکی کا بیان لینا ہے۔ جج نے لڑکی سے استفسار کیا کہ کیا وہ والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے یا شوہر کے ساتھ؟ جس پر لڑکی نے شوہر کے ساتھ جانے پر حامی بھری۔رپورٹ کے مطابق جج نے خوف میں مبتلا لڑکی کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے چیمبر میں لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر بد اخلاقی کردی۔متاثرہ لڑکی کی شکایت پر سیہون پولیس نے لڑکی کا عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ میں میڈیکل کرایا جہاں لڑکی کے ساتھ بد اخلاقی کی تصدیق ہوگئی۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا تھا جس پر سیشن جج نے انکوائری رپورٹ میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے فوری طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے جوڈیشل مجسٹریٹ امتیازحسین بھٹو کو معطل کردیا اور انہیں سندھ ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔سندھ ہائیکورٹ کے مطابق امتیاز بھٹو کو مِس کنڈکٹ کی بنیاد پر معطل کیا گیا ہے۔

جج معطل

مزید : صفحہ اول