آخر کار وہی ہوا جس کا ا ندازہ لگایا جارہا تھا ، ایم کیوایم نے حکومت کے سامنے چار مطالبے رکھ دیئے

آخر کار وہی ہوا جس کا ا ندازہ لگایا جارہا تھا ، ایم کیوایم نے حکومت کے سامنے ...
آخر کار وہی ہوا جس کا ا ندازہ لگایا جارہا تھا ، ایم کیوایم نے حکومت کے سامنے چار مطالبے رکھ دیئے

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )ایم کیوایم کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے وفاقی کابینہ سے استعفیٰ کے بعد اب متحدہ نے حکومت کے سامنے اپنے چار اہم ترین مطالبے رکھ دیئے ہیں جن میں ایک وہ بھی شامل ہے جس کے بارے میں سوشل میڈیا سمیت دیگر فورمز پر اندازہ بھی لگایا جارہاتھا ۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ ایم کیوایم نے حکومت کے سامنے چار مطالبات رکھے ہیں جن میں پارٹی کے بند ہونے والے دفاتر کی دوبارہ بحالی کا بھی مطالبہ شامل ہے جبکہ اس کے علاوہ حیدرآباد یونیورسٹی کا قیام ، حیدرآباد کیلئے ترقیاتی بجٹ اور کراچی کیلئے 162 ارب روپے کے پیکج پر عملدرآمد کے مطالبات بھی شامل ہیں ۔

نجی ٹی وی کا کہناتھا کہ جہانگیر ترین نے خالد مقبول صدیقی کو دوبارہ کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی اور کہا کہ ایم کیوایم کے مسائل اہم ہیں تاہم چیزیں ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا ، چاہتے ہیں کہ ایم کیوایم کے ساتھ مل کر کراچی کے مسائل کو حل کریں ۔ جس پر خالد مقبول صدیقی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی خدمت کیلئے کسی زارت کی ضرورت نہیں ہے ۔

یاد رہے کہ ایم کیوایم کے کنوینیئر خالد مقبول صدیقی نے چند دن قبل کابینہ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا جس پر وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیا اور اتحادی جماعت کو منانے اور ان کے گلے شکوے دور کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جس میں جہانگیر ترین اور پرویز خٹک شامل تھے ۔ پرویز خٹک اور جہانگیر ترین نے ایم کیوایم کی قیادت سے ملاقات کی اور معاملات پر بات چیت کی ۔

مزید : اہم خبریں /قومی