" عمران خان آزاد کشمیر میں بھی ریفرنڈم کروانے کیلئے تیار ؟" گورنر سندھ عمران اسماعیل نے خبر شیئرکردی

" عمران خان آزاد کشمیر میں بھی ریفرنڈم کروانے کیلئے تیار ؟" گورنر سندھ عمران ...

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) گزشتہ کئی ماہ سے کشمیر کا مسئلہ عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں بھی ہے اور اس پر پاکستان کے حکمران بھی گاہے بگاہے اپنے نقطہ نظر سے قوم اور عالمی طاقتوں کو آگاہ کرتے چلے آرہے ہیں، اب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایک ایسی خبرشیئرکی ہے جس کے مطابق وزیراعظم عمران خان اب اس پر بھی تیار ہیں کہ آزاد کشمیر میں بھی ریفرنڈم کروالیں، عوام فیصلہ کریں۔

انہوں نے اپنی ایک پہلی ٹوئیٹ میں خبر کا لنک شیئرکیا تو خود کار طریقے سے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر لکھاگیا تھا جس کے بعد انہوں نے دوبارہ ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ پہلی ٹوئیٹ میں انڈیا آرٹیکل کی اصل سرخی ہی خود کار طریقے سے شیئرہوگئی، چند لوگوں کی نشاندہی کے بعد ٹھیک کردی‘۔ اس آرٹیکل کی سرخی میں لکھاگیا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کیلئے تیار ہیں، کشمیر کے لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں، وہ کیا چاہتے ہیں، آرٹیکل کے مطابق عمران خان نے پورے ملک سے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ آزاد کشمیر آئیں اور انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیں۔

گورنر سندھ کی طرف سے شیئرکیے گئے سکرول ان کے آرٹیکل میں مزید بتایاگیا کہ جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ آزاد کشمیر میں ایک ریفرنڈم کروانے کو تیار ہیں تاکہ لوگ یہ فیصلہ کرسکیں کہ وہ پاکستان کیساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پھر آزاد ۔جرمن میڈیا کو وہ انٹرویو دے رہے تھے ، ان کا کہناتھاکہ کشمیر کے لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں، آزاد کشمیر میں صاف شفاف انتخابات ہوتے ہیں اور وہ اپنی حکومت منتخب کرتے ہیں، کسی بھی دوسری انتظامیہ کی طرح ان کے بھی اپنے مسائل ہیں، لیکن ہمیں تمام دنیا سے آبزروز کو بلانا چاہیے ، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ آزاد کشمیر جاسکتے ہی لیکن بھارت کی طرف سے اجازت نہیں دی جائے گی ۔

اپنے اسی انٹرویو میں عمران خان نے مودی حکومت اور ان کے نظریات پر بھی شدید تنقید کی اور موجود ہ حکومت کو انڈیا اور اس کے پڑوسیوں کے لیے ایک صدمہ قراردیا۔ ان کاکہناتھاکہ بھارت پر آر ایس ایس کا قبضہ ہے جس نے مہاتما گاندھی کو بھی قتل کیا، ایک نیوکلیئر ملک کو انتہا پسند چلارہے ہیں، مقبوضہ کشمیر پانچ ماہ سے بھارتی افواج کے گھیرے میں ہے ۔

عمران اسماعیل کی اصلاح سے پہلے کی ٹوئیٹ پر ایک صارف نے لکھا کہ "کوئی نہیں ابھی گورنر ٹرین ہورہا ہے.."

ایک اور صاحب نے لکھا کہ "اللہ اکبر. یہ ایک صوبے کے گورنر ہیں جن کو یہ علم نہیں کہ پاکستان نے کشمیر پر قبضہ نہیں کیا بلکہ آزاد جموں و کشمیر ہمارا حصہ ہے... پاکستان آکوپائیڈ کشمیر کی اصطلاح انڈین میڈیا ہمارے خلاف استعمال کرتا ہے"۔

آفتاب آفریدی نے لکھا کہ "بس خان صاحب کافی ہے ٹویٹ کرنے کےلئے ۔ ہر بات کا ایکشن بھی وزیر اعظم لیں گے آپ لوگ بس عیاشیاں کریں  "

افشین نے لکھا کہ "آپ کو اگر کوئی پاکستانی آرٹیکل نہیں ملا تھا تو انٹرویو کی ویڈیو ٹویٹ کر دیتے۔  اس کی کیا ضرورت تھی"

افشیں ارشد نے ہی ایک اور ٹوئیٹ میں عمران اسماعیل کی اصلاح کرتے ہوئے لکھا کہ " اس نے پاکستان کی طرف کا کشمیر"Pakistan side of Kashmir" کہا"

مزید : قومی