چمن بارڈرپر سمگلنگ روک دی، آٹے کابحران دوتین روز میں ختم ہوجائیگا:مخدوم خسرو بختیار

چمن بارڈرپر سمگلنگ روک دی، آٹے کابحران دوتین روز میں ختم ہوجائیگا:مخدوم ...
چمن بارڈرپر سمگلنگ روک دی، آٹے کابحران دوتین روز میں ختم ہوجائیگا:مخدوم خسرو بختیار

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق مخدوم خسرو بختیار نے کہاہے کہ جتنی گندم کی ضرورت ہے وہ پاکستان میں موجود ہے،آٹے کا مصنوعی بحران اگلے دو تین روز میں ٹل جائیگا،گندم کی ذخیرہ اندوزی کے ساتھ ساتھ سمگلنگ کا ایشو بھی ہے، ماہانہ چالیس ہزار ٹن گندم سمگل کی جا رہی ہے، اگلے سال اسی لاکھ ٹن کا ٹارگٹ رکھا ہے، اس ٹارگٹ کے بعد کوئی آٹے کی ذخیرہ اندوزی نہیں کرسکے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خسرو بختیار نے کہاکہ دو تین دن سے آٹے اور گندم کے بحران کا تاثر دیا جا رہا ہے،اس وقت پاکستان میں گندم کی جتنی ضرورت ہےوہ گندم پاکستان میں موجود ہے، چالیس لاکھ ٹن گندم اس وقت پبلک سیکٹر میں حکومت کے پاس ہے،اگلے سال کا ہمارا ٹارگٹ ستائیس ملین پیداوار ہے، مربوط منصوبہ سازی کے تحت گندم کے لئے تیس ارب کا پیکج ہے،پیر سے گندم اور  آٹے کی قیمت میں کمی آئے گی، گندم کا مصنوعی بحران 3 سے 4 روز میں ٹھیک ہونے لگے گا، پنجاب کے پاس گندم کے پورے ذخائر موجود ہیں،حکومت نے گندم کی فی من قیمت 1365 روپے مقرر کی ہے۔مخدوم خسرو بختیار نے کہاکہ گزشتہ ایک ہفتے میں مصنوعی بحران پیدا ہوا، گندم کی سپلائی چین ڈسٹرب ہونے کے بعد بحران آیا،کل نو ہزار ٹن سندھ گورنمنٹ کو دی گئی ہے، آج دس ہزار ٹن گندم سندھ کو دی جائیگی،کراچی اور ملحقہ علاقوں کی روزانہ چھ ہزار ٹن گندم ضرورت ہے، سندھ نے اس سال گندم ذخیرہ نہیں کی، سندھ کی سات لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی ذمہ داری تھی، پیر سے ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمت میں کمی آنا شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کے پی کے کے لئے چار سے پانچ ہزار ٹن سپلائی بڑھا دی گئی ہے، پیر سے کے پی کے کو دس ہزار ٹن کی سپلائی جائے گی، ٹرانسپورٹرز  کی ہڑتال کے باعث گندم فراہمی میں تعطل آیا اور سندھ میں خاص طور پر سپلائی چین متاثر ہوئی کیوںکہ پاسکو نے سندھ کو4لاکھ ٹن گندم دی جس میں سے صرف ایک لاکھ اٹھائی گئی، اڑھائی لاکھ ٹن گندم کے پی کے لے چکا ہے، کل کابینہ اجلاس  میں سفارش کریں گے کہ کے پی کے کو ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم مزید دی جائے۔مخدوم خسروبختیار نے کہا ہے کہ اِس وقت آٹے کے مختلف ریٹ دکھائے جا رہے ہیں، چکی کا آٹا پاکستان میں 5 سے 6 فیصد سے زیادہ استعمال نہیں ہوتا، ملک میں گندم کی قلت نہیں، اگلے سال کی بھی سپلائی چین اچھی ہے۔

خسرو بختیار نے کہاکہ گندم کی ذخیرہ اندوزی کے ساتھ ساتھ سمگلنگ کا ایشو بھی ہے، ماہانہ چالیس ہزار ٹن گندم سمگل کی جا رہی ہے، گندم کی سمگلنگ پر کنٹرول پایا جا رہا ہے، معیشت کی بہتری کے لیے سب جماعتوں کو سوچنا چاہئے، وفاقی حکومت عوام کی ضرورت کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ رواں سال موسم کے باعث بارہ لاکھ ٹن کم گندم پیداوار ہوئی، گندم امپورٹ کرنے کا فیصلہ بھی کریں گے،آٹے اور گندم کا مصنوعی بحران اگلے دو تین روز میں ٹل جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ یوریا کھاد پر جی آئی ڈی سی کے چار سو روپے بھی ختم کیے جا رہے ہیں، پاکستان کی آبادی دو سو سینتالیس میں چالیس کروڑ ہوجائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ابھی سے زرعی پاکیسیز بنانی پڑیں گی، یہ وقت ایک نئے اکنامک چارٹر کا ہے، ہم نے اگلے سال اسی لاکھ ٹن کا ٹارگٹ رکھا ہے، اس ٹارگٹ کے بعد کوئی آٹے کی ذخیرہ اندوزی نہیں کرسکے گا، افغانستان میں گندم کی ٹوٹل ضرورت سات لاکھ ٹن ہے، ایک ماہ میں چالیس ہزار ٹن گندم افغانستان میں سمگل ہورہی تھی۔

مزید : قومی /اہم خبریں