’میں دفتر گئی تو وہ اکیلا تھا، سکرپٹ پڑھنے کے بہانے اس نے میرے سر اور کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا اور ۔۔۔‘ ایک اور بھارتی اداکارہ نے معروف ڈائریکٹر پرسنگین الزام لگادیا

’میں دفتر گئی تو وہ اکیلا تھا، سکرپٹ پڑھنے کے بہانے اس نے میرے سر اور کمر پر ...
’میں دفتر گئی تو وہ اکیلا تھا، سکرپٹ پڑھنے کے بہانے اس نے میرے سر اور کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا اور ۔۔۔‘ ایک اور بھارتی اداکارہ نے معروف ڈائریکٹر پرسنگین الزام لگادیا

  



کلکتہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہالی ووڈ سے شروع ہونے والی ’ می ٹو مہم‘ نے بالی ووڈ میں بڑے بڑے چہروں کے نقاب الٹنے کے بعد اب بھارت کی بنگالی فلم انڈسٹری کا رخ کرلیا ہے جہاں کی ایک اداکارہ نے معروف ڈائریکٹر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا ہے۔

بنگالی فلموں کی مشہور اداکارہ روپنجنا مترا نے بنگالی انڈسٹری کے بڑے ڈائریکٹر ارندم سیل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔ اداکارہ نے آنند بازار ڈیجیٹل کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ مقبول بنگالی ٹی وی سیریز ’بھومی کنیا‘ کا سکرپٹ پڑھنے کے بہانے ڈائریکٹر نے انہیں کلکتہ میں اپنے آفس بلایا اور ہراساں کیا۔

اداکارہ نے کہا ’ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب شام کو پانچ بجے میں ان کے آفس پہنچی تو اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا ، مجھے کافی خوفناک لگا، اچانک وہ اپنی سیٹ سے اٹھے اور میرے سر اور پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا، آفس میں صرف وہ اور میں تھی ، مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ شاید میں بچ نہیں سکوں گی اور دعائیں کرنے لگی کہ کوئی وہاں آجائے۔‘

روپنجنا نے کہا کہ کچھ ہی دیر میں ان کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نے ڈائریکٹر سے کہا کہ سکرپٹ پر دھیان دیں، میری اس بات پر شاید وہ سمجھ گئے کہ میں اس طرح کی عورت نہیں ہوں اور انہوں نے سکرپٹ سنانا شروع کردیا، اس واقعے کے 5 منٹ بعد ہی ارندم سیل کی اہلیہ بھی آفس میں آگئیں جس کے بعد میری جان میں جان آئی۔

دوسری جانب ڈائریکٹر ارندم سیل نے اداکارہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کافی عرصے سے دوست ہیں اور جس دن کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اس دن اداکارہ نے انہیں میسج بھی کیا تھا۔ ’ روپنجنا نے مجھے میسج کیا اور کہا کہ وہ کافی پرجوش ہیں، وہ میسج آج بھی میرے موبائل فون میں محفوظ ہے اور میں وہ میسج دکھا بھی سکتا ہوں، اگر میں نے اس کے ساتھ برا سلوک کیا ہوتا تو وہ مجھے ایسا میسج کیوں کرتیں۔‘

مزید : تفریح