مرد بن کر لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والی 21 سالہ لڑکی

مرد بن کر لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والی 21 سالہ لڑکی
مرد بن کر لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والی 21 سالہ لڑکی

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک لڑکی نے لڑکا بن کر 50سے زائد لڑکیوں کا ریپ کر ڈالا۔ میل آن لائن کے مطابق 21سالہ جیما واٹس نامی یہ لڑکی کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی لت میں مبتلا تھی۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکا بن کر لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنساتی اور ان کی زندگی برباد کرتی تھی۔ اس کا آخری شکار برطانوی شہر ایسٹ لیف کی رہائشی 14سالہ گریس لیتھم نامی لڑکی ہوئی۔ گریس کو سکول میں ساتھی طلبہ تنگ کرتے تھے اور تضحیک کا نشانہ بناتے تھے جس کے باعث وہ ڈپریشن کی مریض بن گئی۔ اس پر اس کے والدین مائیک لیتھم اور گیری لیتھم نے اسے سکول سے اٹھا لیا اور گھر میں ہی پڑھانا شروع کر دیا۔

اس دوران گریس کی سوشل میڈیا پر 17سالہ لڑکے جیک واٹسن سے ملاقات ہوئی۔ اس سے ملنے اور محبت ہونے کے بعد گریس کی ذہنی حالت بہت بہتر ہو گئی۔ اس کے والدین بھی اس پر بہت خوش تھے اور انہوں نے جیک واٹسن کو گھر آنے کی اجازت دے دی۔ وہ کئی ماہ تک ان کے گھر آتا رہا اور فیملی کا ایک ممبر بن گیا۔ تاہم بالآخر اس نے گریس کے ساتھ وہی شرمناک حرکت کر ڈالی جو وہ اس سے پہلے کئی لڑکیوں کے ساتھ کر چکا تھا۔

جیک دراصل جیما واٹس تھی جو لڑکے کا روپ دھار کر گریس کے گھر آتی تھی۔ اس کی باقی شکار لڑکیاں تو خاموش رہیں لیکن گریس اور اس کے والدین نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا جس پر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ دوران تفتیش اس نے 50سے زائد لڑکیوں کو اپنی جنسی درندگی کا شکار بنانے کا اعتراف کیا۔ پولیس نے اسے ونچیسٹر کراﺅن کورٹ میں پیش کیا جہاں سے اسے 8سال قید کی سزا سنا کر جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس