'پاور کی بڑی بھارتی کمپنیاں سی پیک میں داخل ہونے کی کوشش میں ہیں' سینیٹر رحمان ملک نے خبردار کر دیا

'پاور کی بڑی بھارتی کمپنیاں سی پیک میں داخل ہونے کی کوشش میں ہیں' سینیٹر رحمان ...
'پاور کی بڑی بھارتی کمپنیاں سی پیک میں داخل ہونے کی کوشش میں ہیں' سینیٹر رحمان ملک نے خبردار کر دیا
سورس:   File

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے میرے انتہائی سنجیدہ خدشات ہیں۔ پاور کی بڑی بھارتی کمپنیاں سی پیک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بھارتی کمپنیوں کے سی پیک میں داخل ہونے کے حوالے سے الگ بریفنگ دوں گا۔ بھارت پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما رحمان ملک نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا  پاک بھارت تعلقات کبھی بہتر نہیں ہوسکتے۔ مودی جو مقبوضہ کشمیر میں ظلم کر رہے ہو آر ایس ایس تمہارے ساتھ بھی وہی کرے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو ساڑھے 500 دن ہو گئے مگر اقوام متحدہ اس پر خاموش ہے۔بھارت آر  ایس ایس کو آگے لے کر آیا ہے۔ آرمی چیف نےبھی کہہ دیا ہے کہ بھارت ہمارے پیچھے ہے اور ہم ان کے ساتھ لڑیں گے۔ دنیا میں پاکستان آرمی کے دسویں نمبر پر آنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔

رحمان ملک نے کہا کہ پلوامہ کے حملے کے فوری بعد کہہ دیا تھا کہ یہ حملہ بھارت نے خود کروایا۔ نریندر پلوامہ میں اپنے چالیس فوجی مروا کر مگرمچھ کے آنسو بہائے۔ پلوامہ حملہ میں اینٹی مسلم سوچ کو الگ کیا اور ہوا۔ سرحدوں پر کشیدگی کی گئی۔ پلوامہ حملے کا مقصد پاکستان مخالف جذبات پیدا کر کے ان کو انتخابی مہم میں استعمال کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں سیاسی جماعتیں متحد ہیں جبکہ پاکستان میں سیاستدان دست و گریبان ہیں۔ عمران خان کو اپنی انا ختم کرنے کےلیے کہہ چکا ہوں، بلاول بھٹو نے معاشی چارٹر کرنے کی دعوت دی تو ان کے خلاف کیسز بنا دیئے گئے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ملک میں سیاسی انتشار کے خاتمے کی ذمہ داری آصف علی زرداری کو دے دیں۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -